سندھ کی جامعات میں فیکلٹی کی غیر تدریسی تعیناتیاں ممنوع قرار، ہائر ایجوکیشن کمیشن کا سخت حکم

ملتان (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (SHEC) نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کو ہدایت جاری کی ہے کہ فیکلٹی ممبران اور پی ایچ ڈی ہولڈرز کو کسی بھی صورت میں غیر تدریسی انتظامی عہدوں پر تعینات، تعیناتی جاری رکھنے یا اضافی چارج دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ارجنٹ مراسلہ نمبر AD(Legal)/SHEC/1-71/2025 مؤرخہ 19 دسمبر 2025 کے مطابق، یہ ہدایات معزز سندھ ہائیکورٹ، سرکٹ کورٹ حیدرآباد کے فیصلے (سی پی نمبر 1757/2024) کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں، جو 9 دسمبر 2025 کو صادر کیا گیا تھا۔ عدالتی حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی فیکلٹی ممبر یا پی ایچ ڈی ہولڈر کسی بھی غیر تدریسی انتظامی عہدے پر، خواہ وہ اضافی چارج، لک آفٹر، او پی ایس یا کسی اور عارضی انتظام کے تحت ہو، تعینات نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے جاری رکھا جا سکتا۔ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس ضمن میں اپنے سابقہ مراسلہ (مورخہ 11 نومبر 2024) کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے (سی پی نمبر 7/2024، مورخہ 24 اکتوبر 2024) کی روشنی میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ تمام خالی انتظامی عہدے قانون کے مطابق پر کیے جائیں اور اضافی چارج، لک آفٹر یا او پی ایس جیسے غیر قانونی انتظامات فوری ختم کیے جائیں۔ کمیشن نے تمام وائس چانسلرز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ تمام اضافی چارج، لک آفٹر، او پی ایس یا اسی نوعیت کے انتظامی عہدے فوری طور پر ختم کریں۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ آٹھ (08) یومِ کار کے اندر سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ارسال کریں۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ جامعہ خود تمام قانونی نتائج کی ذمہ دار ہوگی۔ یہ مراسلہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر (لیگل) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ناہید جے حیدر کے دستخط سے جاری کیا گیا، جبکہ اس کی نقول چیئرپرسن SHEC، سیکریٹری SHEC اور سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ سندھ کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔ تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو جامعات میں غیر قانونی انتظامی تعیناتیوں کے خاتمے اور عدالتی بالادستی کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قراردیاہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں