ملتان (سٹاف رپورٹر)راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال (Abuse of Power) اور مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) سے متعلق سنگین نوعیت کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے تعلیمی اور انتظامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔دستیاب معلومات اور کالج کے ملازمین کے مطابق راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے کنٹرولر آف ایگزامینیشن پروفیسر ڈاکٹر رائے محمد اصغر ایک ہی وقت میں کئی بااثر اور متصادم حیثیتوں میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں، جو نہ صرف اخلاقی اصولوں بلکہ سرکاری قواعد و ضوابط پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ذرائع کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر رائے محمد اصغر کنٹرولر آف ایگزامینیشن جیسے نہایت حساس اور بااختیار عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ اسی ادارے سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کنٹرولر آف ایگزامینیشن کا منصب امتحانی نظام، نتائج اور نمبرات کے مکمل کنٹرول کا حامل ہوتا ہے، ایسے میں ایک پی ایچ ڈی طالبعلم کا اسی عہدے پر موجود ہونا واضح مفادات کے ٹکراؤ کو جنم دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس صورتحال میں اپنے تعلیمی نتائج یا جانچ کے عمل پر اثرانداز ہونے کے خدشات کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔مزید برآں ایک اور حیران کن پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر رائے محمد اصغر 2020 میں سرکاری طور پر ریٹائر ہو چکے ہیں، اس کے باوجود انہیں راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے کنٹرولر آف ایگزامینیشن جیسے کلیدی عہدے پر تعینات رکھا گیا ہے، جو میرٹ اور شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔ادھر ملازمین کا کہنا ہے کہ کنٹرولر آف ایگزامینیشن کی حیثیت سے ان کی کالج میں حاضری نہایت محدود ہے۔ متعدد ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ بمشکل ایک گھنٹہ یونیورسٹی آتے ہیں جبکہ باقی وقت ذاتی مصروفیات اور نجی اداروں کو دیا جاتا ہے، جس کے باعث امتحانی امور، فائلوں کی منظوری اور انتظامی معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ پروفیسر ڈاکٹر رائے محمد اصغر رائے انٹرنیشنل ہسپتال کے مالک ہیں اور ساتھ ہی رائے فارمیسی بھی چلا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز رہتے ہوئے نجی ہسپتال اور فارمیسی کی ملکیت رکھنا واضح Conflict of Interest کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس سے سرکاری وقت، وسائل اور اثر و رسوخ کے ذاتی کاروبار میں استعمال کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔تعلیمی و قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف انکوائری ناگزیر ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا سرکاری اختیارات کا ذاتی مفادات کے لیے استعمال تو نہیں ہو رہا، اور آیا امتحانی نظام کی غیرجانبداری متاثر تو نہیں ہو رہی۔ملازمین اور اساتذہ نے اعلیٰ حکام، بالخصوص اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے امتحانی نظام، ادارہ جاتی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔







