چولستان یونیورسٹی مالی بدعنوانی کا گڑھ، جعلی پرو وائس چانسلر کے غیرقانونی فیصلے، چہیتوں پر نواز شات

بہاولپور (کرائم سیل) چولستان یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے انکشافات کا سلسلہ جاری، قائم مقام رجسٹرار تین سال سے غیر قانونی طور پر تعینات۔ جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ کے حامل پرووائس چانسلر کے غیر قانونی فیصلے، من پسند افسران کے ذریعے ناجائز بلوں کی منظوری۔نالہ موجود نہیں مگر لاکھوں کے بل کلیئر، ایکسین اور یونیورسٹی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت، کانووکیشن کے نام پر لوٹ مار، ایڈوانس رقوم ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل، طلبہ محتسبِ اعلیٰ سے رجوع۔باوثوق ذرائع کے مطابق پرووائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز اور عارضی و قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر محمد فیصل صدیق کی سربراہی میں یونیورسٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کا منظم سلسلہ جاری ہے، حالانکہ قواعد کے مطابق قائم مقام رجسٹرار کی تعیناتی صرف 6 ماہ کے لیے ہوتی ہے مگر ڈاکٹر محمد فیصل صدیق مبینہ طور پر گزشتہ تین سال سے غیر قانونی طور پر اسی عہدے پر براجمان ہیں اور نہ صرف جعلی پرووائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز کے تمام غیر قانونی اقدامات میں اعانت کر رہے ہیں بلکہ ان سرگرمیوں کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں، جبکہ رجسٹرار کی بنیادی ذمہ داری یونیورسٹی ایکٹ کی پاسداری اور نگہبانی ہے؛ ذرائع کا کہنا ہے کہ لوٹ کھسوٹ برقرار رکھنے کے لیے یونیورسٹی ایکٹ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے Most Senior پروفیسر کو ہٹا کر اپنی من پسند خاتون اسسٹنٹ کو سائنٹری آفیسر مقرر کیا گیا جس کے ذریعے ناجائز بل منظور کروائے جا رہے ہیں، اسی دوران سرکاری پانی کی منظوری اور پختہ نالے کی تعمیر کے نام پر ایکسین وقاص اکرم نے ڈاکٹر مظہر ایاز سے مبینہ ملی بھگت کر کے لاکھوں روپے کے بل منظور کروا کر رقم وصول کر لی حالانکہ تاحال کسی سرکاری پانی کے نالے کا وجود ہی نہیں، مزید برآں سال 2024 میں ہونے والے پہلے کانووکیشن میں بھی لاکھوں روپے کی خورد برد کے انکشافات سامنے آئے جہاں کانووکیشن کے لیے ایڈوانس کی مد میں لی گئی 3 لاکھ روپے کی رقم تقریباً ایک ہفتہ تک سیکرٹری ٹو وائس چانسلر ڈاکٹر کاشف پرنس کے اکاؤنٹ میں موجود رہی اور بعد ازاں ڈاکٹر مظہر ایاز کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی حالانکہ یہ رقم قواعد کے مطابق یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں واپس جمع ہونا لازم تھا، جبکہ اسی روایت کو دیکھتے ہوئے ICEE کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مشتاق گوندل نے بھی مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پروفیسر اور پرووائس چانسلر بننے والے ڈاکٹر مظہر ایاز سے ملی بھگت کر کے ایک جعلی کانووکیشن منعقد کروایا اور LAD ڈپلومہ کے طالب علموں سے 4 ہزار روپے فی کس وصول کر کے لاکھوں روپے کی رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کی اور بعد ازاں باہم تقسیم کر لی، جس پر متاثرہ طالب علموں نے محتسبِ اعلیٰ کو باضابطہ درخواست بھی دے رکھی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں