ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز اور جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا ایک اور سنگین اور تصدیق شدہ مالی اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جس نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت، دیانت داری اور گورننس کے دعوؤں کو بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے یونیورسٹی کی تمام فیکلٹیز اور ڈیپارٹمنٹس کو شدید دباؤ میں لا کر مختلف قومی و بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کروانے کی ہدایات جاری کیں۔ بظاہر اس اقدام کو تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کا نام دیا گیا، مگر حقیقت میں اس پورے عمل کا اصل مقصد تعلیمی نہیں بلکہ مالی مفادات کا حصول ثابت ہوا۔ ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کو واضح اور غیر تحریری ہدایات دی گئیں کہ کانفرنسز میں شریک اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، مقالہ نگاروں اور طالبات و طلبہ سے وصول کی جانے والی رجسٹریشن اور شرکت فیس براہِ راست وائس چانسلر کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائی جائے۔ یہ عمل نہ صرف یونیورسٹی ایکٹس، مالی قواعد اور آڈٹ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ بدترین اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال بھی ہے۔ خاص طور پر اسلامیات ڈیپارٹمنٹ میں منعقدہ 5th انٹرنیشنل سیرت کانفرنس کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ کانفرنس کے تمام شرکاء سے وصول کی گئی فیس ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ذاتی اکاؤنٹ نمبر 12047902158599، HBL Konnect (BISE برانچ، گلگشت کالونی ملتان) میں جمع کروائی گئی۔ یونیورسٹی کے ہالز، کلاس رومز، انتظامیہ، عملہ، بجلی، سکیورٹی اور دیگر تمام وسائل یونیورسٹی کے استعمال ہوئے، مگر اس کے باوجود ایک روپے کی بھی رقم یونیورسٹی کے سرکاری اکاؤنٹ میں جمع نہ کروائی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس اکاؤنٹ میں فیس جمع کروانے والوں میں کلثوم ناز، عمیمہ خالد، صدیقہ، محمد سجاد، محمد فرقان خان، اعجاز شاہین، فہد مسعود، وسیم سمیت متعدد خواتین و حضرات شامل ہیں، جو اس مالی بے ضابطگی کا واضح ثبوت ہے۔ مزید انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ 5th انٹرنیشنل سیرت کانفرنس کے لیے بنائے گئے واٹس ایپ گروپ میں خود ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے ایک تحریری پیغام ارسال کیا گیا، جس میں شرکاء کو ہدایت کی گئی کہ مقررہ فیس ان کے مذکورہ ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کروا کر رسید ارسال کی جائے۔ اس پیغام میں اساتذہ، مقالہ نگاروں اور طلبہ و طالبات کے لیے فیس کا باقاعدہ شیڈول بھی درج تھا، جو اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ یہ سب کچھ کسی غلط فہمی نہیں بلکہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ ایک سرکاری یونیورسٹی کی موجودہ وائس چانسلر کا اپنی سرکاری حیثیت استعمال کرتے ہوئے اس طرح ذاتی اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کی وصولی کروانا پورے پاکستان کی جامعات میں اپنی نوعیت کی شاید واحد مثال ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور قانونی حلقوں کے مطابق یہ عمل بدعنوانی، مالی خردبرد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔یہں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کانفرنس یونیورسٹی کے نام پر تھی تو فیس ذاتی اکاؤنٹ میں کیوں منگوائی گئی؟ اگر وسائل یونیورسٹی کے تھے تو آمدن فردِ واحد کی جیب میں کیوں گئی؟ اور سب سے اہم یہ کہ متعلقہ آڈٹ آفیسر علی مرتضیٰ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اس کھلی لوٹ مار پر خاموش کیوں ہے؟ یونیورسٹی ملازمین اور فیکلٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف فوری اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کروائی جائیں، ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی رقوم کا مکمل فرانزک آڈٹ ہو اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے گرینڈ گالا کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ واضح رہے کہ اس خبر کے مؤقف کے لیے ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم تاحال ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔ اگر مؤقف آیا تو اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔








