ملتان (سٹاف رپورٹر)بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ڈیجیٹلائزیشن کے دعوؤں کے برعکس لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) بری طرح ناکام ثابت ہو رہا ہے، جس نے تدریسی اور انتظامی امور کو سہل بنانے کے بجائے اساتذہ اور طلبہ کے لیے شدید اذیت اور ذہنی دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ یونیورسٹی میں نافذ موجودہ LMS نہ صرف غیر مستحکم ہے بلکہ جدید ڈیجیٹل معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ اساتذہ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بار بار سرکاری نوٹیفکیشنز کے ذریعے حاضری، امتحانی نتائج اور دیگر تعلیمی ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایات جاری کی جاتی ہیںمگر LMS کی کارکردگی اس قدر ناقص ہے کہ اکثر اوقات ڈیٹا اپ لوڈ ہی نہیں ہوتا اور اگر خوش قسمتی سے لوڈ ہو بھی جائے تو اگلی بار لاگ ان کرنے پر غائب ہو جاتا ہے۔ اس سنگین مسئلے کے باعث اساتذہ دیگر تعلیمی و تحقیقی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مڈ ٹرم امتحانات کے نتائج تاحال التوا کا شکار ہیں کیونکہ LMS درست طور پر کلاس سٹرینتھ، رول نمبرز اور طلبہ کے نام تک ظاہر نہیں کر رہا جس سے امتحانی نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ سسٹم مدد کے بجائے مزید مسائل پیدا کر رہا ہے۔ اساتذہ نے دیگر جامعات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد (GCUF) کا LMS نہایت صارف دوست اور مؤثر ہے۔ ایک استاد کا کہنا تھا کہ اگر GCUF کے سسٹم کو 100 نمبر دیئے جائیں تو BZU کا LMS 10 نمبر کا بھی حق دار نہیں۔ میں نے دونوں استعمال کیے ہیں۔ دلچسپ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ BZU کا LMS بظاہر Moodle پر مبنی ہے جو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور کامیاب سسٹم ہےمگر BZU میں یہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اساتذہ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ شاید Moodle کو بھی معلوم ہو گیا ہے کہ یہ ایک مسائل زدہ ادارہ ہے، اسی لیے یہاں مزید مسائل پیدا کر رہا ہے۔ مزید انکشافات کے مطابق یہ LMS کسی بیرونی وینڈر سے خریدا گیا اور غیر سرکاری معلومات کے مطابق اس فلاپ سسٹم پر تقریباً 40 ملین روپے خرچ کیے گئے۔ اساتذہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اتنی بھاری رقم خرچ کی گئی ہے تو عوام، اساتذہ اور طلبہ کو بتایا جائے کہ یہ رقم کہاں اور کس معیار کے نظام پر لگائی گئی؟ یا پھر کیا یہ نظام اندرونِ خانہ تیار کیا گیا جس پر خود انتظامیہ کو بھی یقین نہیں؟ صرف LMS ہی نہیںبلکہ یونیورسٹی میں مجموعی طور پر تعلیمی سہولیات کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے Elsevier جیسے اہم تحقیقی جرنلز تک رسائی بند ہے جبکہ ACS نے BZU کے Edeorum نیٹ ورک سے منسلک تمام IPs بلاک کر دی ہیں۔ اسی طرح متعدد اساتذہ کو Turnitin تک رسائی بھی حاصل نہیںجو کہ ریسرچ پیپر کی اوریجنلٹی کے لیے ایک بنیادی ٹول ہے۔ یونیورسٹی کے سست انٹرنیٹ نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ انتظامیہ کو تدریسی اور تحقیقی ضروریات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ ایک اور استاد کے مطابق ہمیں LMS میں لاگ ان ہونے کا صرف ایک ہی موقع ملا، اس کے بعد سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ مسئلہ حل کروانے کے لیے ای میل کی مگر آج تک کوئی جواب نہیں آیا۔ اساتذہ اور طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، ناکام LMS پر شفاف انکوائری کروائی جائے، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ایک مستحکم اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیجیٹل نظام متعارف کروایا جائے تاکہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کو مزید تعلیمی زوال سے بچایا جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ڈیجیٹل بدانتظامی نہ صرف تعلیمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گی بلکہ ہزاروں طلبہ کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا۔







