ملتان (وقائع نگار) سگریٹ پیپر غیر قانونی درآمد کیس میں حکومت کو کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میںاربوں روپے کا نقصان، چیف کلکٹر کسٹم جمیل ناصر، کلکٹر کسٹم کراچی میاں شفیق اور کلکٹر غلام مصطفیٰ سمیت دیگر افسران کو بچا لیا گیا۔ پرنسپل اپریزر اور تین انسپکٹرز کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ سمبڑیال ڈرائی پورٹ پر بغیر ڈیوٹی کنٹینرز کی کلیئرنس مبینہ انکوائری رپورٹ میں سنگین انکشافات سامنے آگئے۔ کراچی ڈرائی پورٹ اور سست بارڈر سے سگریٹ پیپر کے کنٹینرز کی بغیر کسٹمز ڈیوٹی کلیئرنس کے معاملے پر چیئرمین ایف بی آر کو بھیجی جانے والی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ کلکٹر کسٹمز لاہور سعید وٹو اور ڈائریکٹر کسٹمز انٹیلیجنس اسد گردیزی نے تیار کی جس میں کئی سینئر افسران پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق کلکٹر ایڈجوڈیکیشن تیمور کمال نے ملزم ملک اسد کو بے گناہ قرار دے کر’’جرم‘‘ کیا، کیونکہ وہ اسے باعزت بری کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ انکوائری افسران کا موقف ہے کہ کلکٹر سمبڑیال کو اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنی چاہیے تھی لیکن تیمور کمال کے فیصلے کی وجہ سے ملک اسد کو تمام عدالتوں سے ریلیف مل رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر نے تیمور کمال کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ چیئرمین خود اس معاملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سابق کلکٹر میاں شفیق پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے ڈائریکٹر فدا شاہ سے معلومات ملنے کے باوجود کنٹینرز کی ایگزامینیشن نہیں کی اور ٹی پی لگا کر انہیں کنٹینر سیالکوٹ نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ چیئرمین ایف بی آر نے چار افسران پرنسپل اپریزر عاطف، انسپکٹر عدنان، عدیل اور نکی کے خلاف ایکشن لیا، انہیں سزا کے طور پر ڈی موٹ کر دیا گیا۔ تاہم دو انسپکٹروں کی اپیل پر چیئرمین ناراض ہوئے اور آخر کار چاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ ایک پرنسپل اپریزر سائرہ کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کراچی سے تقریباً 50 2کنٹینرز اور سست سرحد سے 120 کنٹینرز بغیر ڈیوٹی کلیئر کیے گئے جن میں سگریٹ پیپر موجود تھے۔ فی کنٹینر 10 کروڑ روپے تک رشوت کا الزام ہے۔ لاہور سے کلکٹر کسٹم سعید وٹو کی قیادت میں کسٹم افسران نے 24 ٹن مال کی برآمدگی، ڈسکہ سے ایک ارب روپے کا سامان اور سرگودھا سے کروڑوں کا مال پکڑا جا چکا ہے، زیادہ تر سمگل شدہ سگریٹ پیپر کشمیر پہنچ گیا جہاں سگریٹ فیکٹریوں سگریٹ تیار ہو کر مارکیٹوں میں فروخت ہو چکے ہیں۔ عوامی حلقوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین سمگلنگ اور کرپشن کیس میں امپورٹرز پر مقدمات بنا کر ریکوری کی جائے۔ واضح رہے کہ ایف بی آر نے حالیہ مہینوں میں ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ اور خام مال کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہےجس میں اربوں روپے کا سامان ضبط کیا گیا، لیکن یہ مبینہ رپورٹ اندرونی بدعنوانی کے نئے انکشافات سامنے لا رہی ہے۔







