چولستان یونیورسٹی: وی سی کرپٹ ٹرائیکا بارے مزید انکشافات، 2 بیٹوں کو غیر قانونی مراعات

بہاولپور(کرائم سیل) چولستان ویٹرنری یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر اوراس کے ساتھیوں کی مزیدکرپشن کے انکشافات، ٹرائیکا کی سرکاری وسائل کوبے دردی سے لوٹنے اوربوگس بلوں کے ذریعے خزانہ سرکارسے بھاری ر قوم نکلوانے کے شواہد سامنے آگئے جبکہ پرو وی سی کے دونوں بیٹے وی سی آفس کی سرکاری گاڑیوں پر بی وی ایچ میں ہاؤس جاب کرنے لگے۔ چولستان ویٹرنری یونیورسٹی میں ایم فل کی فرضی حاضریاں لگائی جانےلگیں۔وی سی نے بیٹوں کو پاس کرانے کےلئے بھی مرضی کا کنٹرولر امتحانات لگالیا ۔عوامی وسماجی حلقوں کی طرف سے سخت کارروائی کا مطالبہ کردیاگیا۔ باوثوق ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ پرووائس چانسلر چولستان ویٹرنری یونیورسٹی ڈاکٹرمظہرایاز اوران کے پروٹوکول آفیسرقیصرغفور نے بھی مبینہ لوٹ مارکی اندھیرنگری مچارکھی ہے۔ انکاتیسراساتھی پی آر اوعمران بھی شریک کرپشن بتایاجارہاہے۔ ذرائع کے مطابق پرووائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز اور پروٹوکول آفیسر قیصر غفورنے مختلف تقریبات کے نام پرایک سال کے دوران کروڑوں روپے کے فنڈز کابے دریغ استعمال کیا ۔فرضی کھانوں کے نام پر بل پاس، وی سی آفس میں مہمانوں کی خاطرتواضع کے نام پربھی بوگس بل بنائے گئے ہیں۔ ذرائع کاکہناہے کہ وی سی کاپروٹوکول آصف غفور بوگس بلوں کے ذریعے خزانہ سرکار سے رقوم نکلوانے کاماہرماناجاتاہے۔ ڈائریکٹر سپورٹس عمران رضااورپروٹوکول آفیسرقیصرغفور مل کرجعلی بل بنواتے ہیں اورپھروی سی کی ملی بھگت سے بل پاس کرالیتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پرووائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز کے دونوں بیٹے بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں ہاؤس جاب کرتے ہیں اوروی سی آفس کی دونوں گاڑیاں BRG21اورBRG23 ان کے زیر استعمال رہتی ہیں جن کا پٹرول بھی خزانہ سرکار سے حاصل کیا جاتا ہے۔ وکٹوریہ ہسپتال میں کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ اگر ان کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ موصوف کے دونوں بیٹے بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں ہاؤس جاب کرنے کے ساتھ ساتھ چولستان ویٹرنری یونیورسٹی کے شعبہ مائیکرو بیالوجی میں ایم فل بھی کررہے ہیں اور وہاں پر ان کی فرضی حاضریاں لگائی جا رہی ہیں ۔اور ان کو پاس کرانے کےلئے ڈاکٹر مظہر ایاز نے کنٹرولر امتحانات بھی تبدیل کرکے اپنی مرضی کا کنٹرولر امتحانات خالد محمود کو لگا دیا ہے۔ ذرائع کامزیدکہناہے پرووائس چانسلرعرصہ تعیناتی کے دوران اپنی دھاک بٹھانے اورپرائیویٹ افرادکے تعلقات قائم کرنے کے چکر میں اب تک100 سے زائدایم اویوسائن کرچکے ہیں جن میں سے90 فیصد ایسے ایم اوسائن کئے گئےہیں جن کایونیورسٹی کوکوئی فائدہ ہی نہیں ہے لیکن ان تقریبات پرخزانہ سرکار سے کروڑوں روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ یاد رہے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز نے رجسٹرار محمد فیصل صدیق کو اپنی کرپشن میں اعانت کے لیے غیر قانونی طور پر تعینات کروانے کے ساتھ ساتھ من پسند خاتون اسسٹنٹ کو سائنٹری آفیسر مقرر کرکے ایکسین وقاص اکرم کے ذریعے لاکھوں روپے کے بل منظور کرانے اور اپنے پی اے کاشف پرنس کے اکاؤنٹ میں کنونشن کے پیسے ہضم کرنے اور ICEE کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مشتاق گوندل کے ساتھ ملکر جعلی کنونشن کی آڑ میں طلبہ کے پیسے آپس میں تقسیم کرنے کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ جنہیں آئندہ شمارے میں شائع کیا جاے گا۔عوامی وسماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں