ملتان (کرائم سیل)سب رجسٹرار آفس ملتان سٹی میں مبینہ ہنگامہ آرائی اور جعلی رجسٹریوں کے کیس نے ایک نیا اور غیر متوقع رخ اختیار کر لیا ہے۔ 3 دسمبر 2025 کو تھانہ چہلیک میں درج ہونے والی ایف آئی آر اور کمشنر ملتان کی انتظامی رپورٹ کے درمیان واضح تضادات سامنے آنے کے بعد مقدمے کی تفتیش پولیس سے لے کر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے سپرد کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔دستیاب ریکارڈ کے مطابق 3 دسمبر کو سب رجسٹرار سٹی عمران بٹ کی مدعیت میں تھانہ چہلیک میں ایف آئی آر نمبر 1917/25 درج کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ عاصم اقبال سمیت چار مسلح افراد نے دفتر پر دھاوا بولا، اسلحہ تان کر کارِ سرکار میں مداخلت کی اور کمپیوٹر ریکارڈ سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔ پولیس نے اس ایف آئی آر کی بنیاد پر ملزمان کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اور باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ایف آئی آر اصل واقعے کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وقوعہ کے روز کوئی مسلح حملہ نہیں ہوا بلکہ کمشنر ملتان ڈویژن نے خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر سب رجسٹرار آفس کا اچانک دورہ کیا تھا اور ذرائع کے مطابق اس سرپرائز وزٹ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ سب رجسٹرار کے سرکاری لیپ ٹاپ اور لاگ اِن آئی ڈیز غیر متعلقہ پرائیویٹ افراد (ٹاؤٹس) کے استعمال میں تھیں، جو مبینہ طور پر سائلین سے بھاری رشوت وصول کر کے رجسٹریوں کا عمل مکمل کروا رہے تھے۔ موقع پر بنائی گئی ویڈیوز اور کمشنر آفس کی سرکاری پریس ریلیز میں سب رجسٹرار کو ذمہ دار قرار دیا گیا اور کمشنر ملتان ڈویژن کی جانب سے اعلی حکام کو بھجوائے جانے والی رپورٹ پر سب رجسٹرار کو معطل کرکے کلوز کر دیا گیا تھا۔ انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سب رجسٹرار کی جانب سے اس پورے واقعے کو “مسلح حملہ” ظاہر کر کے ایف آئی آر درج کروانا ایک مختلف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہو سکتی ہے، تاکہ اصل کرپشن کے پہلو کو پس منظر میں دھکیلا جا سکے۔پولیس ذرائع کے مطابق کمشنر رپورٹ، جس میں معاملے کو رشوت ستانی اور ریکارڈ ٹیمپرنگ کا کیس قرار دیا گیا ہے، اور سب رجسٹرار کی ایف آئی آر، جس میں اسے مسلح حملہ اور کارِ سرکار میں مداخلت کہا گیا ہے، کے درمیان تضاد کے باعث تفتیش ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئی تھی۔ پولیس کو ملزمان سے اسلحہ کی برآمدگی میں بھی مشکلات پیش آئیں، کیونکہ انتظامی ریکارڈ میں کسی مسلح کارروائی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اس صورتحال کے پیش نظر اعلیٰ سطح پر مشاورت کے بعد مقدمے کی تفتیش اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ سب رجسٹرار نے 6 دسمبر کو تھانہ چہیلک میں 70 نام بھی فم ی درخواست میں ظاہر کر دیے جو کہ ازخود حیران کن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں غیر متعلقہ پرائیویٹ افراد کیسے وہاں ہو سکتے ہیںڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کے حکم پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کو مراسلہ موصول ہونے کے بعد ایک تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس میںظہیر احمد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن)،محمد اصغر (اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنیکل)اور علی حسن گیلانی (سرکل آفیسر / انسپکٹر)شامل ہیں۔کمیٹی اس امر کا تعین کرے گی کہ آیا یہ واقعہ واقعی ایک مسلح حملہ تھا یا سرکاری سرپرستی میں کرپشن اور ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی کا معاملہ، جسے بعد ازاں ایف آئی آر کے ذریعے مختلف رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔







