خواتین یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی جعلی تقرری، عدالتی حکم بھی نظر انداز، انتظامیہ ہل کر رہ گئی

ملتان (سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر کی مبینہ جعلی اور غیر قانونی تعیناتی، کرپشن، جعلی دستاویزات اور خلافِ میرٹ ترقیوں کا سنگین معاملہ عدالتِ عالیہ تک جا پہنچا ہے۔ خواتین یونیورسٹی کے ایک ملازم محمد اقبال نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں Writ of Quo Warranto کے ذریعے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی بطور وائس چانسلر تعیناتی کو چیلنج کر دیا ہے۔درخواست پر 13 نومبر 2025 کو سماعت کے دوران عدالتِ عالیہ نے درخواست گزار کے وکیل کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے رِٹ پٹیشن کو اس کے تمام منسلکات سمیت متعلقہ فریق (Respondent No.4) کو بطور نمائندگی (Representation) ارسال کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح ہدایت کی کہ متعلقہ اتھارٹی قانون، قواعد اور پالیسی کے عین مطابق ایک ماہ کے اندر اندر تحریری اور معقول (Speaking Order) فیصلہ صادر کرے۔ عدالت کے مطابق درخواست کی فوری اور شفاف سماعت ناگزیر ہے تاکہ الزامات کا قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ ممکن ہو سکے۔درخواست گزار کے مطابق خواتین یونیورسٹی ملتان کا قیام 2013ء میں جنوبی پنجاب کی خواتین کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے عمل میں آیا، تاہم ادارے میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرریاں ابتدا ہی سے متنازع رہیں۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ 2014ء میں ایک سالہ کنٹریکٹ پر CTI اور بعد ازاں ریسرچ اسکالر کے طور پر تعینات ہوئیں، جبکہ 2015ء میں بغیر کسی باقاعدہ اشتہار اور قواعد و ضوابط کے برخلاف وائس چانسلر کے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر کر دیا گیا، حالانکہ اس وقت وہ مطلوبہ تعلیمی اہلیت اور عمر کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔درخواست میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی اصل عمر چھپانے کے لیے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کیا اور تاریخِ پیدائش کم ظاہر کر کے ملازمت حاصل کی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعلیمی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے غیر معمولی طور پر کم عمر میں میٹرک پاس ظاہر کیا، جو حقائق کے منافی ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے درکار تدریسی تجربہ پورا کرنے کے لیے ایک نجی کالج میں کئی برس تدریس کا جعلی تجربہ سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا، جبکہ یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق اس کالج میں متعلقہ مضمون کی کلاسز بعد کے برسوں میں شروع ہوئیں اور کالج بعد ازاں بند بھی ہو چکا تھا۔درخواست گزار کے مطابق 2022ء میں انتظامی ملی بھگت کے ذریعے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ایسوسی ایٹ پروفیسر گریڈ 20 پر ترقی دی گئی، حالانکہ یونیورسٹی کی اسکرونٹی کمیٹی انہیں نااہل قرار دے چکی تھی اور سلیکشن بورڈ و سینڈیکیٹ نے نجی کالج کے تجربے کو تسلیم نہ کرنے کا واضح فیصلہ کر رکھا تھا۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر سینڈیکیٹ کے فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ترقی دی گئی۔الزام ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر بننے کے بعد مقررہ پروبیشن مدت مکمل ہونے سے قبل ہی انہیں پروفیسر گریڈ 21 کے لیے اہل قرار دے دیا گیا، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے قواعد کے مطابق پی ایچ ڈی کے بعد کم از کم دس سالہ تدریسی تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بعد ازاں انہیں پرو وائس چانسلر مقرر کیا گیا اور پھر وائس چانسلر کے اضافی اختیارات بھی دے دیے گئے، حالانکہ اس وقت نگران حکومت تھی جو ایسی تقرریوں کی مجاز نہیں تھی۔درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے وائس چانسلر کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے من پسند افسران اور اساتذہ کو اضافی چارجز اور مالی مراعات دیں، سرکاری وسائل کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا اور جعلی دستخطوں کے ذریعے احکامات جاری کیے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آڈیٹر نے ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تو انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔درخواست گزار کے مطابق مستقل وائس چانسلر کی وفات کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے بغیر کسی باقاعدہ نوٹیفکیشن کے وائس چانسلر کا چارج سنبھال لیا اور چانسلر کی ہدایات کے برخلاف مختلف قانونی و انتظامی اجلاس منعقد کیے، جن پر محکمہ قانون، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ پنجاب نے بھی اعتراضات اٹھائے۔درخواست کے آخر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی اصل عمر کے تعین کے لیے اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، جعلی دستاویزات کی بنیاد پر کی گئی تمام تقرریاں اور ترقیاں کالعدم قرار دی جائیں، ناجائز طور پر وصول کی گئی تنخواہیں اور مراعات قومی خزانے میں واپس جمع کروائی جائیں اور پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس کے تحت ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس خبر پر موقف کے لیے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور دھمیال سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 35 دن گزرنے کے باوجود ہائیکورٹ کے حکم پر کیا عمل کیا جبکہ ہائیکورٹ نے 30 دن کا ٹائم دیا تھا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

مزید پڑھیں: ویمن یونیورسٹی، مالی بے ضابطگیوں کا ملبہ ماتحت پر ڈالنے کی کوشش، خزانچی احتجاجاً مستعفی

ملتان (وقائع نگار)خواتین یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں زیرِ سماعت توہینِ عدالت کیس کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ میں شدید بحران سامنے آ گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دورا ن ایڈوانسڈ اور پری میچور انکریمنٹس سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کا سارا بوجھ ایکٹنگ خزانچی ڈاکٹر تنزیلہ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد انہوں نے نہ صرف ان الزامات کو مسترد کیا بلکہ احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ عدالت میں سابقہ خزانچی ریحان قادر کے پیش ہونے پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ اب خزانچی کے عہدے پر فائز نہیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر تنزیلہ بطور خزانچی ایڈوانسڈ انکریمنٹس دینے کی مجاز تھیں۔ اس بیان پر عدالتِ عالیہ نے ڈاکٹر تنزیلہ کو کیس میں فریق بنانے کا حکم صادر فرمایا۔ تاہم کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 ملازمین کو دیے گئے ایڈوانسڈ اور پری میچور انکریمنٹس وائس چانسلر نے اپنی نام نہاد “ایمرجنسی پاورز” استعمال کرتے ہوئے منظور کیے اور اب توہینِ عدالت کیس میں سارا ملبہ ان پر ڈالا جا رہا ہے۔اور وہ اس نظام اور مبینہ مالی کرپشن کا حصہ نہیں بن سکتیں، اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے گرد مالی و انتظامی معاملات میں تنازع کھڑا ہوا ہو۔ اس سے قبل سابقہ رجسٹرار ڈاکٹر ملکہ رانی اور سابقہ خزانچی ڈاکٹر سارہ مصدق بھی انہی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدوں سے دستبردار ہو چکی ہیں۔ باخبر حلقوں کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد اہم عہدوں پر ٹرانسفرز اور تعیناتیاں محض اس مقصد سے کی گئیں کہ نئی وائس چانسلر کی متوقع تقرری سے قبل رجسٹرار اور خزانچی سمیت کلیدی دفاتر پر ہم خیال افسران بٹھا کر گرفت مضبوط کی جائے اور آنے والی انتظامیہ کو “ٹف ٹائم” دیا جا سکے۔ اسی مبینہ انتظامی جبر اور بدنیتی کے تحت ایک ڈپٹی رجسٹرار سعید طاہر اور ایک اسسٹنٹ رجسٹرار کامران بھٹہ نے بھی احتجاجاً خود کو ذمہ داریوں سے بری الذمہ کر لیا، جنہیں بعد ازاں سزا کے طور پر متی تل کیمپس تعینات کر دیا گیا۔تعلیمی اور قانونی حلقوں میں اس تمام صورتحال کو ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے مبینہ فراڈ، دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق سب سے تشویشناک الزام یہ ہے کہ میٹرک کی سند پر تقریباً 32 سال بعد تاریخِ پیدائش میں تبدیلی، جعلی تجربہ کا سرٹیفیکیٹ جیسے معاملے سمیت دیگر مبینہ جعلسازیوں پر آج تک شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر قیادت خود متنازع ہو، تو ادارہ کیسے قانون، میرٹ اور شفافیت کی مثال بن سکتا ہے؟ خواتین یونیورسٹی ملتان میں ایک کے بعد ایک اعلیٰ افسر کا استعفیٰ اس امر کی واضح علامت ہے کہ مسئلہ کسی ایک فرد یا عہدے کا نہیں بلکہ پورے نظام کی اخلاقی و انتظامی ناکامی کا ہے۔ اب نگاہیں عدالتِ عالیہ اور متعلقہ حکام پر ہیں کہ وہ ان سنگین الزامات، مبینہ مالی کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال اور جعلی دستاویزی امور پر کب اور کیسے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہیں، تاکہ ایک قومی تعلیمی ادارہ شخصی مفادات کی نذر ہونے سے بچ سکے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں تعینات سیکرٹری غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور دھمیال ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے کی بجائے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں