بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپوٹر)ریلوے پولیس کی سہولت کاری بے نقاب،سرکاری درختوں کی غیر قانونی فروخت کے بعد اپنے ہی ملازمین کو بچانے کے لیے قانون سے کھلواڑ،ریلوے اسپیشل برانچ ملتان کی جانب سے انسپکٹر آف ورکس کفایت اللہ کے خلاف سرکاری و قیمتی درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور فروخت پر کارروائی کے بعد ریلوے پولیس اپنے ہی پیٹی بھائی ریلوے ملازمین کو بچانے کے لیے میدان میں آ گئی۔ذرائع کے مطابق ملتان ریلوے پولیس کینٹ نے مقدمہ نمبر 67/25 میں دانستہ طور پر دفعہ 409/34 پی پی سی شامل کر کے اصل قانونی دفعات 5/2(47) اور 249 پی پی سی شامل نہ کیں، تاکہ نامزد سرکاری ملازمین کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔انکشاف ہوا ہے کہ ملتان ریلوے کالونی میں قیمتی سرکاری درختوں کی منظم چوری اور فروخت کو ناکام بنانے کے بجائے ریلوے پولیس کینٹ مبینہ طور پر مال بناؤ مہم میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ ریلوے اسپیشل برانچ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریڈ کے دوران لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی درخت برآمد کیے اور اس سلسلے میں تحریری درخواست بھی جمع کروائی۔درخواست میں انسپکٹر آف ورکس (IOW) اور دیگر ریلوے ملازمین کو نامزد کیا گیا، تاہم ریلوے پولیس نے انہیں دفعہ5/2(47) اور 249 پی پی سی کے تحت گرفتار کرنے کے بجائے شخصی ضمانت پر رہا کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے تعینات انسپکٹر آف ورکس کی پشت پناہی کے باعث ریلوے ملازمین کو دانستہ ریلیف دیا گیا۔مزید انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ریلوے پولیس نے صرف پرائیویٹ افراد اور ڈرائیور کو گرفتار کرنے پر اکتفا کیا، جبکہ اصل ملزمان کو مبینہ طور پر بھاری معاوضہ لے کر رہا کر دیا گیا۔عوامی و سماجی حلقوں نے آئی جی ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر دفعہ5/2(47) پی پی سی کے تحت ملزمان کو گرفتار کیا جائے، ریلوے اراضی سے درختوں کی مزید کٹائی اور فروخت کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور سہولت کار افسران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔







