وزیراعلیٰ تقریب آج، ایمرسن طلبہ کو کھانے پینے، رفع حاجت سے روکنے کا انوکھا فرمان

ملتان (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہونہار طلبا و طالبات میں نقد انعامات اور ان طلبا و طالبات کی فیسیں سرکاری خزانے سے ادا کرنے کے پروگرام کے تحت آج لودھراں آ رہی ہیں جہاں ملتان سے بھی سینکڑوں طلباو طالبات حکومت پنجاب کی طرف سے کیے گئے انتظامات کے تحت انعامات اور مراعات لینے کے لئے جا رہے ہیں۔ ہونہار سکالرشپ پروگرام کے تحت ایمرسن یونیورسٹی سے جانے والے ساڑھے چار سو طلبہ کو اس یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر قرۃ العین کی طرف سے واٹس ایپ پر حیران کن وائس میسج دیا گیا ہے جو کہ اس تقریب میں شرکت کیلئے ملتان سے خصوصی طور پر لودھراں جانے والے تمام طلبا و طالبات کو بھجوایا گیا ہے جو کہ روزنامہ قوم کے پاس بھی محفوظ ہے۔ پروفیسر قرۃ العین عرف عینی کی طرف سے وائس میسج میں تنبیہ کی گئی ہے کہ 17 دسمبر بروز بدھ کی رات آٹھ بجے سے لے کر اگلے دن تقریب تک کوئی بچہ کھانا نہ کھائے اور پانی کا بھی بہت کم استعمال کرے۔ اس پیغام کو سپیشل انسٹرکشن کے طور پر بھجوایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہاں پر پنڈال میں باتھ روم کا انتظام نہیں ہے لہٰذاکسی بھی بچے کو رفع حاجت کے لیے پنڈال سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بھی قسم کی رفع حاجت کی صورت میں پیدا شدہ صورتحال کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔ پروفیسر قرۃ العین عرف عینی کا تعلق ایمرسن یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ سے ہے اور وہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر کی انتہائی بااعتماد ٹیم میں شمار ہوتی تھیں۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے ملتان کی دیگر یونیورسٹیوں کے بچے بھی جا رہے ہیں مگر کسی یونیورسٹی کی طرف سے اس قسم کا کوئی الارمنگ میسج یا وارننگ پر مشتمل پیغام طلبا اور طالبات کو نہیں دیا گیا۔ ہونہار سکالرشپ پروگرام کے تحت جن بچوں کےGP چار اور اس سے زائد ہیں انہیں نہ صرف نقد انعام دیے جا رہے ہیں بلکہ ان کی فیسیں بھی معاف کی جا رہی ہیں اور انہوں نے جن سمسٹرز کی فیسیں ادا کر دی ہیں وہ فیسیں بھی ایڈجسٹ کی جائیں گی یا انہیں واپس کی جائیں گی۔ اس پروگرام کا اطلاق دوسرے سمسٹر سے لے کر آٹھویں سمسٹر تک ہوگا اور پہلے دو سمسٹرز کی بنیاد پر میرٹ بنایا جائے گا۔ توجہ طلب عمل یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی لودھراں آمد کے موقع پر عجلت میں شہر بھر کا پیچ ورک کروایا گیا ہے اور مین روڈز کی مرمت کروائی گئی ہے جبکہ اس وقت ضلع بھر میں ایک بھی سیوریج مین ہول ایسا نہیں بچا جس پر ڈھکن نہ لگ چکا ہو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں