ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب ہائی ویز ڈیپارٹمنٹ ملتان ڈویژن میں کرپشن اور غیر معیاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ ہیڈ محمد والا روڈ کی تعمیر کا کام بھی سابق ایکسین اور موجودہ ایس ای غلام نبی کی آشیرواد سے فالکن کنسٹرکشن کمپنی ہی کو ایک ارب 13 کروڑ روپے کا ٹھیکہ 13 فیصد کم ریٹ پر دیا گیا مگر بعد میں میٹریل میں اس فرم کو اتنی رعایت کر دی گئی کہ انہیں 13 فیصد کی کمی چار گنا زیادہ فائدے کے ساتھ پوری کر ادی گئی۔ اس کے علاوہ اس ایک ارب 13 کروڑ روپے کے ہیڈ محمد والا بائی پاس کے پراجیکٹ میں 80 فیصد سے زائد ایرانی تارکول استعمال کی گئی جو کہ غیر معیاری اور گھٹیا کوالٹی کی ہوتی ہے اور مارکیٹ میں پاکستانی ریفائنریز کی تیار شدہ تارکول کی نسبت سستی بہت کم مضبوطی کی حامل ہوتی ہے۔ فالکن کنسٹرکشن کمپنی کو سہولت کاری دیتے ہوئے شیڈول کے مطابق طے شدہ پتھر سے بڑے سائز کا پتھر استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ ہائی ویز کی تعمیر میں مٹی کی بھرائی جسے ارتھ فلنگ کہتے ہیں کا اصول یہ ہوتا ہے کہ مختلف تہوں کی صورت میں مٹی ڈالی جاتی ہے جو زیادہ سے زیادہ چھ سے آٹھ انچ کی تہہ ہوتی ہے اور اس سے زیادہ مٹی کی لیئر نہیں بچھائی جاتی پھر اس پر پانی کا چھڑکاؤ کر کے اس کی وزن اٹھانے کی استطاعت بڑھائی جاتی ہے مگر ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے یہاں اس قانون کو بھی روند دیا اور مٹی کے پورے پورے ڈمپر بچھا کر ان پر روڈ رولر چڑھا دیئے گئے جس کی وجہ سے بیس اور سب بیس کی ہیوی ٹریفک کیلئے وزن اٹھانے کی استطاعت میں نمایاں کمی آ گئی اور یہی وجہ ہے کہ ہیڈ محمد والا کی یہ سڑک سفری معیار جسے رائڈنگ کوالٹی کہا جاتا ہے کے حوالے سے انتہائی غیر معیاری ہے۔ اس کے خلاف اینٹی کرپشن کو درخواستیں دی گئیں مگر اینٹی کرپشن کے ایک کاریگر اہلکار کے ذریعے فالکن کنسٹرکشن کمپنی کی ڈیل ہو گئی اور انہوں نے مبینہ طور پر 14 لاکھ روپیہ دے کر گجر کھڈا میں واقع ہائی ویز میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹری سے اوکے رپورٹ حاصل کر لی۔ درخواست ہندہ نے اینٹی کرپشن حکام کو اپیل کی کہ میٹریل کی کوالٹی روڈ ریسرچ لیبارٹری لاہور سے دوبارہ چیک کروائی جائے مگر اینٹی کرپشن حکام نے بار بار کی یاد دہانی کے باوجود میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹری لاہور کو رپورٹ کے لیے میٹریل نہ بھجوایا۔ ایک ریٹائرڈ انجینئر نے یہ بھی بتایا کہ فالکن کنسٹرکشن کمپنی نے ہائی وے افسران کی پردہ پوشی کے باعث تارکول کا استعمال بھی کم کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ سڑک بھی دنیا پور روڈ کی طرح انتہائی غیر معیاری ہے۔ دنیا پور روڈ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ تو فالکن کنسٹرکشن کمپنی کو ملا تھا مگر اس پر کام محبوب کنسٹرکشن کمپنی کے مالکان عمران بھٹہ اور آصف بھٹہ نے کیا اور انہوں نے کنکریٹ بچھاتے وقت جو اطراف میں صرف چار چار فٹ سٹیل کا جال بچھایا وہ کنکریٹ ڈالے جانے کے بعد نکال لیا جاتا رہا اور اسی جال کو اگلے مرحلے پر استعمال کر لیا جاتا کیونکہ تازہ ڈلی ہوئی کنکریٹ میں سے سٹیل کا جال نکالنا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ ہائی وے افسران انسپکشن کے لیے جاتے ہیں تو انہیں ایسی جگہ پر معائنہ کروایا جاتا ہے جہاں کہیں کنکریٹ میں سٹیل کا جال موجود ہے جبکہ جہاں جال سرے سے موجود ہی نہیں وہاں سے نمونے ہی نہیں لئے جاتے۔ ہائی وے کے ایک ریٹائرڈ آفیسر نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ موجودہ ایکسین ہائی ویز حیدر علی بڑی ذہانت سے دیگر کمپنیوں پر انتہائی سخت ہاتھ رکھتے ہیں تاکہ ان کا اسفالٹ اور پتھر کا معیار موقع پر چیک کیا جاتا ہے پھر کمپیکشن رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے مگر یہ قانون فالکن کنسٹرکشن کمپنی اور بھٹہ کنسٹرکشن کمپنی پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملتان ایونیو کے لیے پہلے ٹینڈر جو کہ وحید کنسٹرکشن کمپنی اور لیہ سے تعلق رکھنے والی ایک پارٹی نے حاصل کیے تھے، ان ٹینڈرز کو یہ بہانہ بنا کر منسوخ کیا گیا کہ فنڈز موجود نہیں ہیں حالانکہ یہ فنڈز حکومت پنجاب کے نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں کے فنڈز تھے اور حیران کن طور پر ملتان کی انتظامیہ کو اس باریک واردات سے بے خبر رکھا گیا جس کا انہیں بعد میں پتہ چلا اور اب اس پر تحقیقات جاری ہیں کہ ایسا کیوں کر کیا گیا۔







