بہاولپور (کرائم سیل )جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ کے حامل پرو وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی کے مزیدکئی فراڈ منظر عام پر آگئے۔ کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور ناروا رویے کے باعث ایک خاتون فیکلٹی ممبر چولستان یونیورسٹی چھوڑ کر چلی گئی۔ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل نے فیکلٹی پوری نہ ہونے پر ڈی وی ایم کے داخلوں پر پابندی لگا دی۔ پابندی کے باوجود موصوف ڈی وی ایم میں طلبا و طالبات کے داخلے کر کے ان کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے میں مصروف ہیں۔ وائس چانسلر کی سیٹ کے لیے درخواست کے ساتھ بھی جعلی کارکردگی کے کاغذات لگا کر سیکرٹری لائیو سٹاک کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر با اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق، چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، بہاولپور میں عرصہ تقریباً دو سال سے پرو وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات، جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر نوکری سے برخاستگی اور جرمانے کی سزا کے حامل ڈاکٹر مظہر ایاز کے مزید کئی فراڈ منظر عام پر آئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی بنیادی ڈگری (ڈی وی ایم) کی فیکلٹی پوری نہ ہونے اور جعلی کاغذات کی بنیاد پر پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل نے گزشتہ سیشن سے ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (ڈی وی ایم)ڈگری کے داخلوں پر پابندی عائد کر کے یونیورسٹی انتظامیہ کو داخلے کرنے سے روک دیا تھا اور مذکورہ فیکلٹی کی منظوری بھی نہ دی ہے۔ لیکن موصوف نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے پی وی ایم سی کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبا و طالبات کے داخلے جاری رکھے ہوئے ہیں، جو کہ طلبہ و طالبات کے مستقبل سے کھلواڑ بتایا جا رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ فیکلٹی ممبران پورے تھے، لیکن موصوف کی کرپشن اور ناروا سلوک سے تنگ آ کر ایک پی ایچ ڈی خاتون ڈاکٹر ہما جمیل یونیورسٹی چھوڑ کر چلی گئی، جس سے ڈی وی ایم کی ڈگری اور ایم ایس کی ڈگری کی منظوری نہ ہو سکی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موصوف نے لاہوریونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں وائس چانسلر کے لیے بھی درخواست دے رکھی ہے، جس پر اس کی اہلیت نہیں بنتی تھی، لیکن انہوں نے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سجاد خان کے دور (2022) میں مکمل ہونے والے منصوبہ جات (مسنگ فیسلٹیز) کے لیے 319 ملین روپے، ریسرچ سنٹر کے لیے 163 ملین کی منظوری اپنے نام سے منسوب کر کے بھجوا دی۔ اس کے علاوہ ایک ہیلتھ لیبارٹری بنانے کا بھی تحریر کیا جو موقع پر موجود ہی نہیں ہے اورعام ایوارڈ زکا حوالہ بھی دیا جو کہ فراڈ پر مبنی ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔







