
ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں تعینات غیر قانونی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا معاملہ اب محض ایک متنازع تقرری نہیں رہا بلکہ یہ کیس پاکستان کے تعلیمی نظام، ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، چانسلر آفس اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان کے ارباب اختیار اور سسٹم کے لیے ایک مکمل قانونی چارج شیٹ بن چکا ہے۔ 32 سال بعد تاریخِ پیدائش میں ردوبدل، وہ بھی دو مختلف اور متضاد آرڈرز کے ذریعے، ثابت کرتا ہے کہ ادارے اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ دستاویزی شواہد کے مطابق ملتان بورڈ نے پہلے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی تاریخِ پیدائش 15 نومبر 1966 سے تبدیل کر کے 9 جون 1968 کی، حالانکہ میٹرک کے اصل داخلہ فارم (1982) میں تاریخِ پیدائش واضح طور پر 15 نومبر 1964 درج تھی۔ یہ اقدام بذاتِ خود پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 420 (دھوکہ دہی)، 468 (جعل سازی برائے دھوکہ) اور 471 (جعلی دستاویز کو بطورِ اصل استعمال کرنا) کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ سرکاری ریکارڈ میں جان بوجھ کر غلط بیانی کی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی بورڈ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دہائیوں بعد، بغیر عدالتی حکم کے، کسی فرد کی تاریخِ پیدائش تبدیل کرے، خصوصاً اس صورت میں جب اصل داخلہ فارم اور تصدیق شدہ ریکارڈ موجود ہو۔ پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن رولز کے تحت امتحانی ریکارڈ میں تبدیلی صرف ابتدائی مرحلے میں، محدود مدت کے اندر اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہو سکتی ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ اگر مذکورہ فرد ملازمت نہ کر رہا ہو۔ 32 سال بعد ایسی تبدیلی نہ صرف قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ Corruption and Malpractice کے زمرے میں آتی ہے۔ معاملہ اس وقت مزید مشکوک ہو جاتا ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ایک ہی کیس میں دو مختلف مؤقف اختیار کیے۔ پہلے یہ دعویٰ کیا گیا کہ میٹرک سرٹیفکیٹ پر 1966 غلط درج ہے، بعد ازاں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ چونکہ داخلہ فارم میں 1964 درج ہے، اس لیے تاریخِ پیدائش 1968 کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر 1964 غلط تھی تو بورڈ نے پہلے 1966 کیوں تسلیم کی؟ اور اگر 1964 درست تھی تو پھر اسے 1968 میں تبدیل کرنے کا قانونی جواز کہاں ہے؟ یہ تضاد بذاتِ خود بورڈ کے افسران کی مبینہ ملی بھگت، کرپشن اور بدنیتی کو بے نقاب کرتا ہے۔ بورڈ کے قوانین کے مطابق میٹرک کے رزلٹ کے اعلان تک امیدوار کی عمر کم از کم 14 سال ہونا لازم ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا رزلٹ 24 جون 1982 کو جاری ہوا۔ انتہائی چالاکی اور منصوبہ بندی کے ساتھ 9 جون 1968 کی تاریخِ پیدائش منتخب کی گئی تاکہ رزلٹ کے دن عمر 14 سال اور 15 دن بنے اور قانون کی ظاہری پابندی بھی پوری ہو جائے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ Premeditated Fraud ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ یہ سب کچھ بورڈ کے اندر بیٹھے عناصر کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ یہاں سب سے سنگین سوال ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور چانسلر آفس کے کردار پر اٹھتا ہے۔ یونیورسٹی ایکٹ اور HEC/پنجاب گورنمنٹ کے قواعد کے مطابق وائس چانسلر کی تعیناتی کے وقت عمر، سروس ریکارڈ اور تعلیمی کوائف کی مکمل جانچ پڑتال لازم ہے۔ اگر ایک متنازع اور متضاد تاریخِ پیدائش رکھنے والی شخصیت وائس چانسلر کے عہدے تک پہنچ سکتی ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ یا تو افسران نے جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھیں یا پھر وہ اس مبینہ جعل سازی کا حصہ تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی سرکاری عہدے دار نے غلط معلومات کی بنیاد پر عہدہ حاصل کیا ہو تو وہ تقرری void ab initio یعنی ابتدا ہی سے کالعدم سمجھی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی صورت میں سرکاری خزانے سے حاصل کی گئی تنخواہیں اور مراعات بھی ناجائز فائدہ (Illegal Gratification) کے زمرے میں آتی ہیں، جن کی ریکوری قانوناً ممکن ہے۔ یہ کیس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھے افسران اپنی ڈیوٹیاں ادا کرنے کے بجائے فائلوں پر دستخط کرنے کی مشین بن چکے ہیں۔ چانسلر آفس، جو احتساب کا آخری فورم ہے، اس سارے معاملے میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو جامعات تعلیمی ادارے نہیں بلکہ جعلسازی کے حامل طاقتور افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بن جائیں گی۔ قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی مبینہ جعل سازی اور ملتان بورڈ کے متنازع فیصلوں سے متعلق تمام ثبوت روزنامہ قوم کے پاس محفوظ ہیں۔ اب گیند حکومتِ پنجاب، ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور چانسلر آفس کے کورٹ میں ہے۔ اگر اس معاملے پر فوری، شفاف اور قانونی کارروائی نہ کی گئی تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام قانون نہیں بلکہ سفارش، دھونس اور جعل سازی پر چل رہا ہے۔







