لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

تازہ ترین

ریاستی سند اور عوامی تذلیل

ریاست کی ساکھ محض سرحدوں کے دفاع، سفارتی بیانات یا بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل امتحان عام شہری کے ساتھ روزمرہ برتاؤ میں ہوتا ہے۔ جب کسی شہری کو اپنی تعلیمی اسناد، نکاح نامے یا دیگر قانونی دستاویزات کی تصدیق کے لیے در بدر پھرنا پڑے، فٹ پاتھوں پر رات گزارنی پڑے، یا ایک دستخط کے بدلے رشوت دینی پڑے تو یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی وقار کی سنگین توہین ہوتی ہے۔ ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں اٹھنے والے حالیہ انکشافات اسی گہرے اور دیرینہ بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ہماری ریاستی مشینری کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
ایک سینیٹر کی جانب سے یہ الزام کہ وزارتِ خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کے عمل کے دوران روزانہ اربوں روپے کی بدعنوانی ہو رہی ہے، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک اجتماعی چیخ ہے جو برسوں سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور اندرون ملک شہریوں کے دلوں میں دبی ہوئی تھی۔ یہ وہ طبقہ ہے جو روزگار، تعلیم یا خاندانی معاملات کے سلسلے میں بیرون ملک جاتا ہے اور جسے ہر قدم پر ریاست کی سند درکار ہوتی ہے۔ مگر یہ سند ایک حق کے بجائے ایک اذیت بن چکی ہے، جہاں جائز کام بھی رشوت اور سفارش کے بغیر ممکن نہیں رہتا۔
یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ وزارتِ خارجہ کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق ایک لازمی عمل ہے، کیونکہ بیرونی ادارے، جامعات اور حکومتیں انہی اسناد کو بنیاد بنا کر پاکستانی شہریوں کو تسلیم کرتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی عمل ایک منظم استحصالی نظام میں بدل چکا ہے۔ شہریوں کی شکایات ہیں کہ انہیں ایک دستخط کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، اہلکار ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں، اور بالآخر اشاروں کنایوں میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر وقت بچانا ہے تو جیب ہلانی ہوگی۔ یہ صورت حال نہ صرف عوام کی تذلیل ہے بلکہ ریاست کے اپنے دعووں کی نفی بھی ہے۔
ایوانِ بالا کے اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ لوگ فٹ پاتھوں پر راتیں گزارنے پر مجبور ہیں تاکہ اگلے دن ان کی باری آ سکے۔ یہ منظر کسی پسماندہ ریاست کے کسی دور افتادہ قصبے کا نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے دارالحکومت کا ہے جو خود کو ایٹمی طاقت اور سفارتی طور پر باوقار ریاست کہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کی عزت کا معیار یہی رہ گیا ہے کہ اس کے شہری اس کے دفاتر کے باہر زمین پر سونے پر مجبور ہوں؟
یہ مسئلہ محض بدعنوانی تک محدود نہیں بلکہ طاقت اور اختیار کے ارتکاز سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اجلاس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ دستاویزات کی تصدیق کا عمل جدید ذرائع کے ذریعے کیوں نہیں کیا جا رہا۔ جب دنیا کے بیشتر ممالک میں ریاستی خدمات ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دی جا رہی ہیں تو یہاں ایک سادہ عمل کو دانستہ پیچیدہ کیوں رکھا گیا ہے۔ اس کا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ جہاں پیچیدگی ہوتی ہے وہاں بدعنوانی کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ عمل مقامی یونین کونسلوں یا ضلعی انتظامیہ کے ذریعے یا کسی مرکزی ڈیجیٹل نظام کے تحت ہو جائے تو نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ بدعنوانی کے دروازے بھی بند ہو جائیں گے۔
ایوان میں یہ بات بھی کہی گئی کہ اصل رکاوٹ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت کی خرابی ہے۔ اعلیٰ سطح پر اختیار چھوڑنے کی مزاحمت اور نچلی سطح پر دکانیں کھل جانا، یہ دونوں مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں جو عوام کے لیے عذاب اور چند افراد کے لیے نعمت بن جاتا ہے۔ جب اختیارات چند ہاتھوں میں مرتکز ہوں اور نگرانی کا نظام کمزور ہو تو بدعنوانی محض امکان نہیں بلکہ یقینی نتیجہ بن جاتی ہے۔
اسی اجلاس میں ایک اور نہایت تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا، جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایک کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر نے پاکستانی پاسپورٹ پر حج اور عمرہ کا سفر کیا۔ یہ انکشاف محض وزارتِ خارجہ یا پاسپورٹ کے نظام کی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی سلامتی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایسے عناصر کو سفری دستاویزات میسر آ سکتی ہیں تو پھر عام شہری کے لیے سختیاں اور رکاوٹیں کیوں؟ یہ دوہرا معیار اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ ریاستی نظام طاقتوروں اور خطرناک عناصر کے لیے نرم اور عام شہری کے لیے سخت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں