ملتان (سٹاف رپورٹر) دنیا پور ملتان روڈ پر 86 کروڑ روپے کی لاگت سے سٹیل اور کنکریٹ سے چند ماہ قبل انتہائی غیر معیاری اور ناہموار سڑک بنا کر حکومت پنجاب کو بھاری نقصان پہنچانے والی فالکن انجینئرز کنسٹرکشن کمپنی کو انکوائری کے باوجود سی این ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ نے ملتان بائی پاس روڈ پر ملتان ایونیو نامی پراجیکٹ کا تقریباً سوا دو ارب روپے کا ٹھیکہ الاٹ کر دیا اور 9 کلومیٹر طویل اس پراجیکٹ میں سڑک کے دونوں اطراف سروس روڈز اور مین روڈ کے درمیان سیوریج کیلئے جو سٹیل استعمال کیا جا رہا ہے وہ شیڈول کے مطابق منظور شدہ کمپنیوں کی لسٹ میں شامل نہیں ہے اور معیار کے لحاظ سے کمزور ہونے کی وجہ سے اس قسم کا سریا سیوریج کے لیے بنائے گئے کنکریٹ کے سٹرکچر کو جلد زنگ آلود کرکے برباد کر دیتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملتان ایونیو کے پراجیکٹ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ان آٹھ ٹینڈرز میں سے سات ٹینڈر اسی فالکن انجینئرز نامی کمپنی جس کے مالک سید حسنات رضا شاہ عرف جگنو شاہ ہیں، کو مقابلے کی بنیاد پر تفویض کر دیا گیا جبکہ ایک کام عرفان نامی ٹھیکیدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دونوں طرف سیوریج نالے کی تعمیر کے لیے جو سٹیل استعمال کیا جا رہا ہے اس پر اسلام آباد سپریم کی مہر لگی ہوئی ہے جو کہ منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں ہے اور معیار کے لحاظ سے دوسرے اور تیسرے درجے پر آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فالکن انجینئرز نے دنیا پور روڈ پر جو کنکریٹ کی سڑک بنائی ہے اس کے لیے پہلے سے موجود بیس اور سب بیس کے اوپر کی سطح کو ہموار کرکے سٹیل کا جال بچھا کر کنکریٹ سے بھرنا تھا مگر شیڈول کے مطابق کنکریٹ کی سطح کو ہموار رکھنے کے لئے پیور مشین کے ذریعے بچھایا جانا تھا تاکہ سڑک پر جمپ نہ بن سکیں اور ناہمواری کی وجہ سے مسافروں کو دشواری نہ ہو مگر مذکورہ کمپنی نے پیور مشین کے ذریعے کنکریٹ بچھانے کے بجائے مستریوں کے ذریعے کنکریٹ ڈلوائی جس کی وجہ سے 26 کلومیٹر طویل ملتان دنیا پور روڈ اپنے آغاز میں ہی گاڑیوں اور خصوصی طور پر موٹر سائیکلوں کے لیے انتہائی خطرناک ہو گئی کیونکہ اس سڑک پر موٹر سائیکل سے سفر کرنا ناہمواری کی وجہ سے بہت مشکل ہو رہا ہے اور آئے روز خطرناک قسم کے حادثات ہو رہے ہیں اور موٹر سائیکلیں و گاڑیاں کنٹرول سے باہر ہو کر حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔ معلوم ہوا ہے حال ہی میں تعینات ہونے والے ایگزیکٹو انجینئر حیدر علی نے اس سڑک کی ناقص تعمیر پر انکوائری شروع کروا رکھی ہے اور اس نو تعمیر شدہ سڑک کا ٹیکنیکل سروے جاری ہے۔







