جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی غذائی قیمتیں ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 54 ہزار 336 روپے کا ہوگیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-تحسین سکینہ کی دل کی مراد پوری ہوئی، عابدہ پروین صاحبہ نے باقاعدہ شاگردی میں لے لیا-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج-بہاول پور: صحافی پر بااثرافراد کا تشدد، انگلی توڑدی، صحافتی حلقوں کا شدید احتجاج

تازہ ترین

عمران خان کی اڈیالہ جیل منتقلی کا امکان، رانا ثنااللہ کا اہم بیان

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے اڈیالہ کے باہر احتجاج مستقل طور پر جاری رہا تو حکومت عمران خان کی جیل منتقلی کے بارے میں غور کر سکتی ہے۔
پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور عمران خان نے اداروں پر براہِ راست تنقید کی، جسے عوام ناپسند کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے، لیکن عمران خان نے اپنے بیانات کے ذریعے پراپیگنڈے کو سہارا دیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کا کوئی واضح طریقہ کار نہیں ہے، ماضی میں کوششیں کی گئی تھیں، مگر عمران خان کے بیانات کی وجہ سے معاملہ ڈیڈ لاک میں پھنس گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ وہ اڈیالہ کے باہر احتجاج کے سلسلے کو معمول نہ بنائیں، بصورت دیگر حکومت کو مجبور ہو کر عمران خان کی منتقلی پر غور کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو چاہیے کہ 9 مئی کے واقعات اور اپنے متنازعہ بیانات سے لاتعلقی ظاہر کریں اور معذرت کریں، تب شاید کوئی سیاسی راستہ کھلے، ورنہ ڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔
رانا ثنا اللہ نے بلاول بھٹو زرداری کی سوچ کو مثبت اور جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلاول ہمیشہ افہام و تفہیم کی پالیسی کے حامی رہے ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں