جنوبی ایشیا ایک مرتبہ پھر ان سوالات کی زد میں ہے جن پر گزشتہ تین دہائیوں سے بحث جاری ہے: کیا ایٹمی توازن طاقت کے مراکز کو ذمہ داری سکھاتا ہے، یا طاقتور ریاستیں اس توازن کو بھی جنگی برتری کی خواہش کے تابع بنا لیتی ہیں؟ اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے کی جانب سے جاری تازہ تنبیہہ نے ان خدشات کو ایک بار پھر شدید تر کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی نئی عسکری سوچ — جسے “نیا معمول” کہا جا رہا ہے — خطے میں نہ صرف کشیدگی بڑھا رہی ہے بلکہ ایٹمی حقیقتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جارحانہ ردعمل کو جائز بنانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ برصغیر کا ایٹمی توازن طاقت کی دوڑ کے نتیجے میں نہیں بلکہ وجودی خطرات کے احساس سے پیدا ہوا تھا۔ 1998ء سے دونوں ملک اس حقیقت سے واقف تھے کہ روایتی جنگ کا امکان محدود ہو چکا ہے۔ مگر بھارت کی نئی پالیسی اس حقیقت سے انکار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ 2019ء کے بعد سے بھارت کی اس حکمتِ عملی نے عسکری کارروائی کو دہشت گردی کے نام پر “قابلِ قبول” بنانے کی کوشش کی، گویا ایٹمی توازن کوئی رکاوٹ نہیں اور محدود جنگ ممکن ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جسے پاکستانی سکالرز نے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور بجا طور پر کہا کہ جس خطے میں دونوں ریاستیں ایٹمی طاقت رکھتی ہوں وہاں جارحانہ ردعمل کو معمول بنا دینا دراصل کسی بڑے حادثے کی دعوت ہے۔اسلام آباد کے اس تھنک ٹینک نے درست نشاندہی کی کہ بھارت اپنے داخلی بحرانوں — درجنوں علیحدگی پسند تحریکوں اور نسلی تنازعات — کو چھپانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی کو بطور حکمتِ عملی استعمال کرتا ہے۔ ہر سانحے کا ملبہ سرحد پار پھینک دینا داخلی سوالات کا جواب نہیں، لیکن نئی جنگی حکمتِ عملی میں یہی منطق غالب دکھائی دیتی ہے۔ کسی بھی لمحے غلط فہمی یا غلط اندازے کا امکان پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پاکستانی وفد نے اس گفتگو میں ایک اور بات دوٹوک انداز میں رکھی کہ پاکستان کی “مکمل سپیکٹرم روک تھام” کی پالیسی بھارت کی مہم جوئی کو آج بھی روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 2025ء میں محدود تصادم کے دوران پاکستان کے جواب نے یہی پیغام دیا کہ ایٹمی توازن محض شیشہ نہیں جسے کوئی طاقتور اپنی انگلی سے دھکا دے کر بدل دے۔ اس جواب نے بھارت کو یہ باور کرایا کہ جنگ کی لاگت محدود نہیں رہ سکتی — یہ حقیقت کسی پالیسی دستاویز سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔اس گفتگو کا ایک اہم پہلو مغربی ریاستوں کا رویہ بھی ہے۔ رپورٹ میں جس خام خیالی کی نشاندہی کی گئی کہ مغرب بھارت کو چین کے مقابل توازن کے طور پر تیار کر رہا ہے مگر بھارت کی عسکری تیاری کا بڑا حصہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے، وہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس خطے میں بڑے طاقتور ممالک کے مفادات کا تصادم اکثر انسانی سلامتی کے برعکس نتائج پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں عسکری توازن کی بحث محض دو ہمسایہ ریاستوں کی دشمنی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی پالیسیوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔آسٹریلوی وفد کی گفتگو نے یہ بھی واضح کیا کہ اس خطے میں نئے فوجی اتحادوں کی تشکیل — خواہ وہ عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی ہو، سائبر جنگی تعاون ہو یا بحری سلامتی کے معاہدے — خطے کے موجودہ توازن پر اثر انداز ہوں گے۔ اگر بڑے اتحاد اپنی حدود درہم برہم کریں تو چھوٹے ممالک کے پاس اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو شدید تر کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ان حالات میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جنوبی ایشیا ایک ایسے وقت میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر ملک اپنی عسکری چوکھٹ پر تلوار رکھنے کو مجبوری سمجھے گا؟ اگر ایٹمی طاقتیں جارحیت کو معمول بنانے لگیں، اور مذاکرات کو کمزوری سمجھا جائے، تو پھر عالمی بحرانوں کی طرح یہاں بھی جنگ کا امکان حادثہ نہیں بلکہ نتیجہ بن جائے گا۔بھارت کی نئی عسکری حکمتِ عملی پر بحث کے دوران، دہلی کے وزیر خارجہ کی حالیہ زبان نے اس خطے کے بگڑتے ہوئے سیاسی رویوں کو ایک اور زاویے سے بے نقاب کر دیا۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارت کے بیانات کو نہ صرف جھوٹ اور اشتعال انگیز قرار دیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ خطے میں اصل مسئلہ وہ پراپیگنڈا ہے جس کے ذریعے بھارت اپنی ناکامیاں، اپنی داخلی انتہا پسندی اور اپنے بنائے ہوئے بحران کو پردے کے پیچھے چھپانا چاہتا ہے۔دفترِ خارجہ کی یہ بات محض سفارتی ردعمل نہیں بلکہ ایک دیرینہ حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ پاکستان نے کئی دہائیوں کی تلخ تاریخ میں بارہا ثابت کیا ہے کہ اس کے عسکری ادارے ریاست کی سرحدوں کی حفاظت کے ضامن ہیں اور دفاع میں احتیاط، نظم اور ذمہ داری کا رویہ رکھتے ہیں۔ مئی کی چار روزہ جھڑپ اس کی تازہ ترین مثال تھی — جہاں پاکستان نے بھارتی اشتعال کا جواب تو ضرور دیا، مگر ایسا جواب جو جنگ کی آگ بھڑکانے کے بجائے بھارت کو اس کے غلط اندازے کا احساس دلانے والا تھا۔اسی تناظر میں بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کے عسکری اداروں پر حملہ ایک ایسی کوشش ہے جو اپنی داخلی سیاست سے زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ بھارت کا مسئلہ صرف پاکستان نہیں — کشمیر سے منی پور، ناگالینڈ سے چھتیس گڑھ اور خالصتان تک، بھارت کے اندرونی خلفشار نے اسے فیصلہ سازی میں اندھا اور ردعمل میں بدلہ خور بنا دیا ہے۔ جب ریاستی ناکامیوں کی فصیل بلند ہو جاتی ہے تو دوسری ریاستوں پر الزام تراشی آسان ترین راہِ فرار بن جاتی ہے۔دفترِ خارجہ کی جانب سے ہندوتوا انتہا پسندی کی نشاندہی اسی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ بھارت کی فیصلہ سازی اب جمہوری اور سیکولر اصولوں کے بجائے ایک ایسی قوم پرست بیہودہ حکمتِ عملی کے زیرِ اثر ہے جو مذہب کو جنگی زبان میں ڈھال چکی ہے۔ 2014 سے بھارت کا سیاسی بیانیہ اس قدر بدل چکا ہے کہ آج وہاں اقلیتیں بھی شہری نہیں بلکہ دشمن تصور کی جاتی ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، ہجوم کا تشدد، مساجد کی مسماری، مذہبی جبر اور آئینی اداروں کی خاموشی — یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو نہ صرف بھارت کی سیاست کا حصہ ہیں بلکہ اسی سوچ کے ذریعے ہمارے خطے کی سلامتی کو بھی ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔دفترِ خارجہ نے اس پہلو کی درست نشاندہی کی کہ بھارت کی قیادت مذہبی انتہا پسندی کی قیدی بن چکی ہے۔ یہی وہ تصادم ہے جس کے اثرات خطے میں بڑھتے عسکری رویوں، پروپیگنڈا مہمات، اور سرحدی محاذ آرائیوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔پاکستان کے جواب میں ایک خاص وقار دکھائی دیتا ہے — مخالفت میں تلخی کے باوجود امن، مذاکرات اور باہمی احترام کی زبان برقرار۔ یہ رویہ سفارت کاری کی وہ بنیاد ہے جسے برصغیر میں قائم رہنا چاہیے تھا مگر بھارت کی سیاست نے اسے محاذ آرائی میں بدل دیا۔ پاکستان کا مؤقف سادہ ہے:امن خواہش نہیں — ایک ریاستی پالیسی ہےلیکن قومی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیںاسی توازن میں پاکستان کا اصل پیغام چھپا ہے — جنگ نہیں چاہتے، مگر جنگ مسلط کی گئی تو دفاع ذمہ داری کے ساتھ، مگر بھرپور قوت سے کیا جائے گا۔یہی وہ نکتہ ہے جو بھارت کو سمجھ نہیں آتا — طاقت کا غلط استعمال ہمیشہ بومرینگ بن کر لوٹتا ہے۔ بھارت اپنی فوجی برتری پر فخر کرتا ہے لیکن طاقت کے زعم میں وہ یہ بھول چکا ہے کہ ایٹمی خطے میں چھوٹے حادثے بھی بڑی آگ کا سبب بن سکتے ہیں۔اسی لئے پاکستان کا دفترِ خارجہ اس بیانیے کو نہ صرف رد کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اصل عدم استحکام بھارت کی جارحانہ سوچ، مذہبی قوم پرستی اور پاکستان دشمن سیاسی بیانیے میں ہے — جس کے خلاف بھارت کے اندر بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں مگر ان آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔سو، سوال یہ ہے کہ خطے کو آگے کس راستے کی ضرورت ہے؟جواب واضح ہے: مکالمہ، ذمہ داری اور عسکری بیانیے کے بجائے سیاسی عقل۔پاکستان اس راستے کا خواہاں ہے — بارہا مذاکرات کی پیشکش اسی اصول سے جڑی ہے۔ لیکن دوسری جانب مہم جوئی، الزام تراشی اور عسکری قوت کا غرور ہے۔ اگر عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا کے استحکام کی واقعی فکر کرتی ہیں تو انہیں بھارت کی نئی جنگی سوچ پر حقیقت پسندانہ نظر ڈالنی ہوگی۔خطے میں پُرامن توازن صرف اس صورت قائم رہ سکتا ہے جب مسئلہ کشمیر، سرحدی سلامتی، دہشت گردی، اور سفارتی مکالمے جیسے تنازعات کو بے بنیاد الزامات کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔جنگ کا شور مچانے والے اکثر اپنے رویوں کے قیدی ہوتے ہیں، جبکہ امن کی بات کرنے والے اپنے لوگوں اور آنے والی نسلوں کے لیے سوچتے ہیں۔ پاکستان کے بیانیے میں یہی دانش اور یہی ذمہ داری جھلکتی ہے — چیلنج یہ ہے کہ کیا خطے کی دوسری بڑی ریاست بھی کبھی اس سطح کی ذمہ داری دکھا سکے گی؟پاکستان کے نقطۂ نظر میں ایک حقیقت بار بار نمایاں ہوتی ہے — امن کمزوری نہیں، بلکہ کمزوری اس سوچ میں ہے جو طاقت کے غلط استعمال کو سٹریٹیجی سمجھ بیٹھے۔ اس خطے میں جنگ سے کوئی نہیں جیت سکتا، مگر غلط اندازے کی قیمت کروڑوں انسانی جانوں اور معاشی بربادی کی صورت میں ادا ہوگی۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے بحرانوں کو محض جغرافیائی حقیقت نہ سمجھا جائے بلکہ انسانی سلامتی کا سوال قرار دیا جائے۔بھارت کی “نئی معمول” پالیسی ہو، مغرب کی اس کے لیے عسکری پشت پناہی ہو یا خطے میں بڑھتے عسکری اتحاد — سب عوامل ایک ایسا توازن بگاڑ رہے ہیں جسے بحال کرنے کے لیے الفاظ نہیں، بلکہ سیاسی تدبر، مکالمہ اور ذمہ دارانہ ریاستی رویہ درکار ہے۔ جنوب ایشیا کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے احتیاط، سفارت اور عقل — ورنہ ایک لمحے کی غلطی تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔







