لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

تازہ ترین

انسانی حقوق کا دن اور ہماری دنیا کا آئینہ

دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ آدمی کی حرمت، زندگی کا وقار اور آزادی کی اساس کوئی ریاست، ادارہ یا طاقت کی عطا نہیں بلکہ ایک فطری حق ہے۔ یہ دن محض تقاریب، نعرے یا بیانات کا موقع نہیں بلکہ ضمیر کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا لمحہ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسانیت کہاں کھڑی ہے؟ عالمی نظم، علاقائی سیاست اور ہمارے اپنے وطن پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کیسی ہے؟ اور کیا وہ اصول، جو سات دہائیاں قبل عالمی انسانی حقوق کے منشور میں طے کیے گئے تھے، آج کسی حقیقی معنی رکھتے ہیں یا محض پرانی کتابوں کی عبارت رہ گئے ہیں؟
عالمی منظرنامے پر انسانی حقوق کی حالت پہلے سے زیادہ تشویشناک ہے۔ جنگیں، محاصرے، نسل کشی، سیاسی قیدی، جبری گمشدگیاں، نسلی امتیاز، مذہبی نفرت اور پناہ گزینوں کی دربدری ہمارے سامنے ہے۔ غزہ سے لے کر یوکرین تک، سودان سے شام تک، کشمیر سے میانمار تک، آدمی کی جان کی قیمت وحشیانہ قوتوں کے سامنے بے معنی ہو چکی ہے۔ عالمی ادارے بے بس ہیں، طاقت ور ریاستیں قانون کو اپنی مصلحت کے تابع بنا چکی ہیں، اور کمزور انسان اپنے حق کے لیے کسی عدالت، قانون یا اصول کی طرف دیکھنے کے قابل نہیں رہا۔ آج کا عالمی نظم انصاف کی جگہ طاقت کی حکمرانی اور انسانی وقار کی جگہ مفادات کے سودے کا استعارہ بن چکا ہے۔
عالمی انسانی حقوق کا منشور انسان کی مساوات اور وقار کی بات کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتیں انہی اصولوں کو اپنے سفارتی حربوں، پابندیوں اور جنگی بیانیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ وہ قومیں جو اپنے ملکوں میں آزادی، تنوع اور حقوق کی علمبردار بنتی ہیں، دوسرے خطوں میں خاموش تماشائی کی طرح انسانی تباہی کو دیکھتی ہیں یا بعض اوقات اس کا حصہ بنتی ہیں۔ یہ تضاد انسانی حقوق کی موت کا اعلان ہے۔ یہ دنیا آج ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں انصاف کی زبان کمزور اور مفاد کی زبان غالب ہو گئی ہے۔
علاقائی سطح پر بھی انسانی حقوق کی تصویر اسی طرح تاریک ہے۔ جنوبی ایشیا میں ریاستی بالادستی، انتہا پسند بیانیے، اقلیتوں کی بے بسی، عورتوں پر جبر، صحافت کے خلاف حملے، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور جمہوری اداروں کی کمزوری انسانی آزادی کو کمزور کر رہی ہے۔ مذہب، قومیت اور اقتدار کی آڑ میں ظلم کا جواز تراشا جا رہا ہے۔ افغانستان میں عورتیں تعلیم سے محروم ہیں۔ بھارت میں مذہبی انتہا پسندی مسلمانوں کے وجود کو ہدف بنا رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں سیاسی اختلاف جرم بن چکا ہے۔ ایران میں اظہار کی آزادی سزاؤں میں ڈوب رہی ہے۔ خطے میں ظلم کی یہ ساخت محض ریاستی طاقت کی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کی بھی آئینہ دار ہے جو انسانی وقار کو برابر کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کا دن ایک سوالیہ نشان کی طرح منایا جاتا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ ہر شہری برابر ہے، قانون تحفظ دیتا ہے، اور ریاست اس کی ضامن ہے۔ لیکن عملی حقیقت منفیت اور لاتعلقی کی تصویر ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی اذیت، بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں میں طاقت کے بے محابا استعمال، صحافیوں کے خلاف دباؤ، مقدمات کا سیاسی ہتھیار بن جانا، عدلیہ کی بے عملی، پولیس کے ہتھکنڈے، مظلوم طبقات کی بے بسی، مذہبی اقلیتوں کی محرومی اور عورتوں پر بڑھتے ہوئے جرائم — یہ سب ایک ایسے ملک کا منظرنامہ ہیں جس کے آئین میں انسانی وقار، مساوات اور قوانین کی حکمرانی درج ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے اس ذہنیت کو سمجھنا پڑے گا جو اصل مسئلے کی بنیاد ہے۔ یہاں ریاستی طاقت کو قانون کے تابع نہیں بلکہ قانون کو طاقت کے تابع سمجھا جاتا ہے۔ اداروں کی بالادستی، سیاسی مقتدرہ کے مخصوص مفادات، انصاف کے نظام کی طبقاتی ساخت اور قانون کی یکسان اطلاق نہ ہونے سے انسانی حقوق محض نعرہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں عام شہری کے لیے حق مانگنا جرم ہے مگر طاقتور کے لیے قانون ایک سہولت نامہ ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے انسانی وقار کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
اقلیتوں کی حالت اس المیے کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ چرچ جلا دیے جاتے ہیں، مندروں پر حملے ہوتے ہیں، احمدی شہریوں کی قبریں بھی توڑی جاتی ہیں، مگر مجرم آزاد رہتے ہیں۔ مزدور طبقہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے تو لاٹھی چارج ہو جاتا ہے۔ کسان ریاستی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرے تو اسے باغی کہا جاتا ہے۔ عورت جب اپنے حق پر آواز اٹھائے تو اسے بے پردگی کا طعنہ ملتا ہے۔ صحافی سچ لکھے تو غدار کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ ذہنی ساخت ہے جو انسان کو شہری کے بجائے تابع اور محدود کردہ وجود بناتی ہے۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کے خاندان برسوں سے دروازوں پر دستک دیتے ہیں۔ مائیں تصویریں اٹھائے بیٹھی ہیں مگر انصاف کا دروازہ کھلتا نہیں۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور سمیت بڑے شہروں میں بھی جبری گمشدگیاں معمول میں شامل ہو چکی ہیں۔ عدالتیں برملا کہتی ہیں کہ ریاست جواب دے مگر جواب آتا نہیں۔ یہاں انسانی حقوق کا دن مظلوموں کی چیخوں کے درمیان منایا جاتا ہے۔
ذاتی آزادی، سیاسی حقوق، اظہار کی آزادی اور ریاستی جبر سے تحفظ انسانی حقوق کا پہلا اور بنیادی زینہ ہیں — مگر انسانی وقار کی عمارت صرف انہی چار دیواروں پر کھڑی نہیں ہوتی۔ اصل انسانی حقوق اس وقت مکمل ہوتے ہیں جب ریاست اپنے شہریوں کو نہ صرف جان و مال کا تحفظ دے بلکہ زندگی کے وہ وسائل بھی فراہم کرے جن سے آدمی عزت کے ساتھ زندہ رہ سکے۔ یہی وہ پہلو ہے جو زیادہ تر بحثوں میں نظر انداز ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی گفتگو زیادہ تر لاپتہ افراد، ماورائے عدالت قتل، جبر اور سیاسی دباؤ تک محدود رہتی ہے، مگر انسان کی روزمرہ زندگی کے حقوق — تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، غذائی تحفظ اور ماحول کی حفاظت — انسانی حقوق کا لازمی حصہ ہیں۔ ان کا ذکر کیے بغیر انسانی آزادی کی کوئی بھی بحث ادھوری ہے۔
تعلیم سب سے بنیادی انسانی حق ہے — کیونکہ علم آدمی کو آزاد کرتا ہے، اسے سوچنے، سوال کرنے، راستہ بدلنے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ پاکستان میں کروڑوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں۔ جو اسکول موجود بھی ہیں وہاں اساتذہ کی کمی، سہولیات کا فقدان اور معیار کی کمزوری انہیں تعلیم کے بجائے محض عمارتوں کی نمائش بنا دیتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنے بچوں کو علم نہ دے تو وہ آزاد شہری نہیں بلکہ محتاج ذہن تیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی کمزوری کی جڑیں تعلیمی ناکامی میں پیوست ہیں۔
صحت بھی انسانی حق ہے۔ مگر یہاں علاج امیر کے لیے سہولت ہے اور غریب کے لیے سزا۔ سرکاری اسپتالوں میں بستر نہیں، ادویات نہیں، ڈاکٹر نہیں۔ دیہی علاقوں میں حاملہ عورتوں کا طبی سہارا تک نہیں ہوتا۔ لوگ معمولی بیماری سے مر جاتے ہیں کیونکہ ریاست کا نظریہ یہ نہیں کہ زندگی بچانا اس کا فرض ہے بلکہ یہ کہ علاج ایک کاروبار ہے۔ اگر ریاست علاج کو کاروبار سمجھ کر چھوڑ دے تو انسانی وقار اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔
روزگار بھی انسانی حق ہے، مگر پاکستان میں یہ حق خاص طبقوں کے لیے محفوظ اور اکثریت سے چھینا ہوا ہے۔ بے روزگاری صرف اقتصادی مسئلہ نہیں — یہ انسان کی عزت اور خودداری کا مسئلہ ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچے کے لیے روٹی نہ کما سکے، ایک نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار نہ پائے، تو یہ صرف کوئی معاشی ناکامی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی شکست ہے۔
صاف پانی نہ ہونا پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے لیے روز کا عذاب ہے۔ پانی زندگی کا بنیادی عنصر ہے مگر اس ملک میں صاف پانی کا حصول عام آدمی کے لیے خواب بن چکا ہے۔ لوگ زہریلا پانی پیتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں، مر جاتے ہیں۔ ریاست اگر صاف پانی نہ دے سکے تو وہ انسان کی زندگی چھینتی ہے۔
غذائی تحفظ یعنی صحت مند خوراک کا حق بھی انسانی حقوق کا حصہ ہے، مگر پاکستان میں غذائی قلت بڑھ رہی ہے۔ بچوں کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے، مائیں خون کی کمی کا شکار ہیں، غذائی محرومی نسلوں کا مستقبل چاٹ رہی ہے — مگر اسے انسانی حقوق کی بحث میں شامل نہیں کیا جاتا۔ لوگوں کی پلیٹ خالی ہو اور ریاست بے حس رہے تو یہ بھی ظلم کی ایک شکل ہے۔
صاف ماحول کی فراہمی بھی انسانی حق ہے — ہوا، دریا، زمین، سب انسان کی سانس اور زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر پاکستان میں کہیں کچرا جلایا جاتا ہے، کہیں فیکٹریوں کا زہریلا دھواں پھیلا ہوتا ہے، کہیں پلاسٹک پانی میں بہتا ہے، کہیں دریا کو گٹر بنا دیا گیا ہے۔ اگر کسی شہری کی سانس تک محفوظ نہیں تو آزادی کس کام کی؟
انسانی حقوق کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی وقار صرف قید، تشدد اور جبر سے بچانے کا نام نہیں — بلکہ زندگی جینے کے بنیادی وسائل تک رسائی بھی انسانی حق ہے۔ اگر کسی شہری کے بچے اسکول نہ جا سکیں، اس کی ماں علاج کے لیے سڑک پر مر جائے، اس کی تھالی خالی ہو، اس کی سانس آلودہ ہو، اور اس کی جیب میں روزگار نہ ہو — تو اس سے بڑی انسانی بے حرمتی کیا ہو سکتی ہے؟
اس لیے پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی کی نہیں، بلکہ زندگی کی بقا کی جدوجہد ہے۔ جب تک ریاست انسان کو صرف نظم کا تابع نہیں بلکہ وقار کے ساتھ زندہ رہنے والا وجود سمجھ کر تعلیم، صحت، روزگار، خوراک، پانی اور ماحول کی ضمانت فراہم نہیں کرتی، تب تک یہ ملک انسانی حقوق کے دن پر اپنے منہ پر نقاب پہنے کھڑا رہے گا۔
دنیا بدل رہی ہے — انسان اپنی حرمت چاہتا ہے۔ پاکستان کو بھی اس سچائی کا سامنا کرنا ہوگا کہ انسانی حقوق کتابوں کا عنوان نہیں بلکہ زندگی کا کرایہ ہے۔ یہ حق نہ ہو تو انسان آزاد نہیں — نہ دنیا میں، نہ اپنے وطن میں، نہ اپنے ضمیر میں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی بحالی محض قانون سازی یا اجلاسوں سے ممکن نہیں۔ یہ ریاستی مزاج بدلنے کا سوال ہے۔ طاقتور اداروں کی جوابدہی، قانون کا یکساں اطلاق، انصاف کی جلد فراہمی، پولیس اور عدلیہ کی اصلاحات، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، اظہار کی آزادی کا تحفظ، صحافت کی حفاظت، مزدوروں، کسانوں، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کا عملی تحفظ، یہی وہ اقدامات ہیں جو انسانی حقوق کو حقیقی معنی دے سکتے ہیں۔
عالمی انسانی حقوق کا دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان کا مقام کیا ہے؟ یہ دن ایک علامت نہیں بلکہ سوال ہے — کیا انسان محض ریاستی نظم کی ضرورت ہے یا وہ اپنی حرمت کے ساتھ ایک آزاد وجود ہے؟
دنیا، خطہ اور پاکستان — تینوں جگہ انسان کمزور پڑ رہا ہے۔ طاقت، نظریہ اور مفاد اس کی آزادی پر غالب ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کے باوجود انسان کی آزادی کی پیاس کبھی بجھی نہیں۔ یہی امید ہے — کہ انسان اپنی حرمت کی بازیابی کے لیے پھر اٹھے گا، اور شاید آنے والے برسوں میں انسانی حقوق محض منشور کے صفحات سے نکل کر زندگی کی حقیقت بن سکیں۔
یہ اداریہ صرف یاد دہانی نہیں، بلکہ سوال ہے: اگر انسان کی حرمت محفوظ نہیں، تو انسانیت کا دن منانے کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟

شیئر کریں

:مزید خبریں