لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

تازہ ترین

Here are the tags with commas: Baba Vanga Predictions, World War III, Syria Conflict, Global Tensions, Prophecies, Geopolitical Crisis, Israel-Palestine Conflict, Russia-Ukraine War, Future Predictions, Mystic Prophecies, 2025 Predictions, Middle East Politics, End of the World, Global War Threat, Mystical Insights,

غیر یقینی کی دنیا اور ہمارے لیے معنی

دنیا 2026 کی دہلیز پر ایک گہرے اضطراب، بے یقینی اور مسلسل تغیر کے احساس کے ساتھ کھڑی ہے۔ سرد جنگ کے بعد شاید ہی کبھی عالمی منظرنامہ اتنا بے ربط، منتشر اور بے سمت دکھائی دیا ہو۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، روایتی اصول اور عالمی ضابطے کمزور پڑ رہے ہیں، اور بڑی طاقتوں کا رویہ زیادہ خود غرض اور جارحانہ ہو چکا ہے۔ اس ماحول میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ ابھرتی ہوئی یکطرفیت عالمی سفارت کاری میں مزید بے ثباتی، یکطرفہ مفاد پرستی اور ٹکراؤ کو نمایاں کر رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب عالمی ضابطوں کی پاسداری کم از کم ایک مشترکہ اصول کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اب ان اصولوں کی گرفت ڈھیلی ہوتی جا رہی ہے۔ بہ پہلو دنیا نہ صرف زیادہ غیر یقینی ہو رہی ہے بلکہ اس میں طاقت کی علاقائی تقسیم، سفارت کاری کی کمزوری اور اعتماد کے فقدان نے ایک نئی نوعیت کی سفارتی فضا پیدا کر دی ہے۔
یہ صورتحال چھ نمایاں رجحانات کے ذریعے زیادہ واضح ہوتی ہے جو آنے والے برس کے عالمی معاملات کو متاثر کریں گے۔ پہلا رجحان جغرافیائی سیاست کی مسلسل تبدیلی، غیر متوقع واقعات اور اتحادی نظم کی بکھرتی ہوئی ساخت سے تعلق رکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، چین اور امریکہ کے تعلقات، روس۔یوکرین تنازع، تجارتی جنگیں اور بڑی طاقتوں کی خود مختاری پر مبنی پالیسیوں نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جہاں معاہدے، اصول اور فورمز اپنی حیثیت کھو رہے ہیں اور مفاد پرستی ایک نئی ”قدر“ کے طور پر ابھر رہی ہے۔ لندن کی ایک مشاورتی تنظیم کی پیش گوئی کہ دنیا ”بے اصولی کی دنیا“ بنتی جا رہی ہے، اس تبدیلی کی بنیادی سمت کی نشاندہی کرتی ہے جہاں تعلقات اقدار کے بجائے فوائد کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔
دوسرا رجحان طاقت کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ اب سفارت کاری نہیں بلکہ طاقت — عسکری دباؤ، اقتصادی جارحیت اور طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط کرنا — بڑی طاقتوں کی پسندیدہ حکمت عملی بن چکا ہے۔ غزہ پر جنگ، روس کی یلغار، ایران اور لبنان پر حملے، بھارت کی عسکری کارروائیاں اور طاقت کا بے محابا استعمال دراصل ایک ایسے عالمی نظام کی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں قانون کمزور اور طاقت کا استعمال غالب ہو رہا ہے۔
تیسرا اہم رجحان امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات کی سمت ہے۔ یہ تعلق عالمی سیاسی، معاشی اور سفارتی نظام کا مرکزی اعصاب ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے چین پر محصولات کی یلغار اور تجارتی محاذ آرائی نے اس رشتے کو غیر یقینی بنائے رکھا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان وقتی طور پر کچھ نرم لہجے اور سمجھوتے سامنے آئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک گہری کشمکش بھی برقرار ہے۔ چین اس وقت ستر سے زیادہ ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور چند سال میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر ابھرنے جا رہا ہے۔ اس کی یہ پوزیشن امریکہ کے ساتھ طاقت کے توازن کو بدلنے والی ہے، جس کے اثرات 2026 میں زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتے ہیں۔
چوتھا رجحان مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کی سمت سے متعلق ہے، لیکن اس خطے کی پیچیدگیوں نے ابھی تک کسی واضح حل کو جنم نہیں دیا۔ غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد میں ناکامی، فلسطینی علاقوں میں تشدد کی جاری لہر اور بڑی مسلم ریاستوں کی ہچکچاہٹ کے ساتھ امن کے فارمولے پر عملدرآمد غیر یقینی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسی طرح روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین پر جنگ بندی کی امیدیں بھی اب تک مبہم اور غیر واضح ہیں۔ یہ دونوں تنازعات ایک ایسی عالمی عدم توازن کی علامت ہیں جس کا دنیا میں استحکام پر براہ راست اثر ہے۔
پانچواں رجحان علاقائی اور درمیانی قوتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور طاقت کی سطحی تقسیم نے ترکی، سعودی عرب، ایران، برازیل، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے نئی جگہ اور کردار پیدا کیے ہیں۔ یہ ممالک اب محض تماشائی نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لیے فعال کھلاڑی بنتے جا رہے ہیں۔ بڑی طاقتیں ان ملکوں کو نظر انداز نہیں کر سکتیں، اور 2026 میں یہی قوتیں عالمی فیصلوں پر زیادہ اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
چھٹا رجحان مصنوعی ذہانت کی برق رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات سے متعلق ہے۔ مصنوعی ذہانت نے تعلیم، صحت، معیشت، تفریح اور سلامتی کے شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ بے روزگاری، سائبر سلامتی اور عسکری استعمال کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ابھر رہا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کی دوڑ ایک وقت کے بعد اپنی ہی رفتار کے بوجھ تلے دب جائے گی؟ یہ خدشات 2026 میں زیادہ واضح ہوں گے۔
یہ تمام رجحانات دنیا کے لیے ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم منظرنامے کی خبر دیتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی رسہ کشی، جاری جنگیں، عالمی اصولوں کی کمزوری، معاشی دباؤ اور ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہیں کہ دنیا کے معاملات زیادہ پیچیدہ اور متذبذب ہوتے جائیں گے۔ ایسی دنیا میں کمزور ریاستوں، معاشروں اور ترقی پذیر ملکوں کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے، کیونکہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے چھوٹے ممالک کو دباؤ اور سفارتی تنہائی میں رکھ سکتی ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں دانشمندی، توازن اور دوراندیشی پر مبنی حکمتِ عملی انتہائی ضروری ہو گی۔ کیونکہ ایک منتشر دنیا میں موقع بھی چھپے ہوتے ہیں، اور خطرات بھی۔ درمیانی قوتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں پاکستان کو اپنی سفارت کاری، معیشت، ادارہ سازی اور علاقائی روابط کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہو گا۔ یہ صدی صرف طاقت کی نہیں بلکہ بصیرت، توازن اور مسلسل مشاہدے کی صدی ہے، اور یہی وہ مزاج ہے جو عالمی بے یقینی میں راستے کھول سکتا ہے۔
2026 ایک غیر مستحکم دنیا کا سال ہو گا — لیکن اسی بے ثباتی میں کئی امکانات بھی پوشیدہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاستیں، ادارے اور قیادتیں اس صورتحال کو کیسے سمجھتی ہیں اور کس سمت میں قدم بڑھاتی ہیں۔ دنیا کی تقدیر اس بات پر منحصر ہو گی کہ کیا دانش مندانہ فیصلے غالب آتے ہیں یا طاقت کی خود غرضی دنیا کو مزید بحرانوں میں دھکیل دیتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں