لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد-کوٹ ادو: ظالم تھانیدار کی سفاک تفتیشی بیٹی کا نجی ٹارچر سیل میں مانی پر غیرانسانی تشدد

تازہ ترین

پاکستان میں دفاعی ڈھانچے کی ’’تاریخی‘‘ تبدیلی

پاکستان کی عسکری تاریخ میں ہر چند سال بعد ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب طاقت کی ساخت میں تبدیلی کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ نئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اپنے پہلے خطاب میں اسی تبدیلی کو ’’تاریخی‘‘ کہا، اور یہ کہ نئی دفاعی فورسز کا ہیڈ کوارٹر تینوں مسلح افواج کو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گا۔ ان کا لہجہ پُراعتماد اور الفاظ پرجوش تھے، مگر نئے ڈھانچے کی اصل معنویت صرف عزتِ سلامی میں نہیں، بلکہ اس آئینی و ادارہ جاتی تبدیلی میں چھپی ہے جس نے ایک فرد میں فوجی طاقت کے تین بڑے ستون — آپریشن، حکمتِ عملی اور انتظام — جمع کر دیے۔خطاب میں جدید جنگی میدانوں کا ذکر تھا: خلائی دائرہ، مصنوعی ذہانت، سائبر دفاع، برقی مقناطیسی میدان اور معلوماتی جنگ۔ یہ یقیناً اہم حقیقت ہے کہ جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست نے سیاسی، آئینی اور جمہوری تصور کو بھی اتنی ہی شدت سے بدلنے کی منصوبہ بندی کی ہے؟ طاقت صرف جدید ہتھیاروں یا ڈیجیٹل صلاحیتوں سے نہیں چلتی — طاقت ہمیشہ توازن، نگرانی اور احتساب سے مضبوط ہوتی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے بھارت کے ساتھ ’’مختصر جنگ‘‘ کو مستقبل کی جنگوں کی ’’سبق آموز مثال‘‘ قرار دیا، اور افغانستان کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو پاکستان اور ’’خوارج‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یہ الفاظ طاقتور ہیں، مگر ان کے پس منظر میں ایک اور حقیقت بھی ہے — پاکستان کی داخلی نگرانی، سیاسی تناؤ اور غیر شفاف پالیسی سازی نے ملک کو بیرونی خطرات کے ساتھ داخلی بے یقینی کا بھی شکار رکھا ہے۔اس ’’تاریخی‘‘ ڈھانچے میں سب سے بڑی تبدیلی آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم ہے، جس کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا ادارہ عملاً ختم کر دیا گیا، اور مشترکہ عسکری کمانڈ اب ایک عہدے میں مرکزی شکل اختیار کر گئی۔ یہ محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے محور کی تبدیلی ہے — اور ہر بار جب طاقت ارتکاز کی سمت جاتی ہے تو دنیا سوال اٹھاتی ہے کہ اس ارتکاز کی نگرانی کون کرے گا؟ عہدوں کی مدتیں بڑھانا، دوبارہ تقرریوں کو ممکن بنانا، اور اس سارے عمل کو آئینی تقدس کے پردے میں لپیٹ دینا— یہ سب ایک سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ طاقت کو اب پہلے سے زیادہ پائیدار اور مرکزی بنایا جا رہا ہے۔یہاں اہم سوال یہ نہیں کہ فوج کی صلاحیت بڑھ رہی ہے یا جدید ہو رہی ہے — سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کے اس ڈھانچے کے ساتھ احتساب اور شفافیت بھی بڑھ رہی ہے؟ ہر جمہوری ریاست میں طاقت کی ساخت وہی موثر ہوتی ہے جس میں فیصلہ سازی کا دائرہ وسیع، منتخب اداروں کی نگرانی مستحکم، اور عسکری اداروں کا کردار اپنے آئینی دائرے تک محدود ہو۔ پاکستان میں طاقت کی توسیع ہمیشہ اسی وقت مسئلہ بنی جب فوجی ادارے سیاسی، معاشی اور نظریاتی میدانوں میں فیصلہ ساز بنے۔ آج بھی تقریر میں ’’قوم‘‘، ’’شہادت‘‘، ’’غیرت‘‘، ’’ناقابلِ شکست پاکستان‘‘ اور ’’متحد ریاست‘‘ جیسے الفاظ وہی پرانی ترکیبیں یاد دلاتے ہیں، جو جذبات تو ابھارتی ہیں مگر سوالات کو ٹالتے ہیں۔یہ اعلان کہ ’’ہر خدمت اپنی خود مختاری رکھے گی مگر مشترکہ ہیڈ کوارٹر ان کے کام کو ہم آہنگ کرے گا‘‘ سننے میں متوازن محسوس ہوتا ہے، مگر مضمرات کچھ اور بھی ہیں۔ جب فیصلہ سازی کے تمام راستے ایک دفتر اور ایک شخص تک سمٹ جائیں تو ادارہ جاتی توازن خودبخود متاثر ہوتا ہے۔ دنیا کی جدید فوجی مثالیں— امریکہ، برطانیہ، یورپ— یہی بتاتی ہیں کہ مشترکہ فوجی ڈھانچے تب ہی مضبوط ہوتے ہیں جب پارلیمانی کمیٹیاں، آزاد میڈیا، شفاف فیصلہ سازی اور سیاسی اختیار ان پر نگرانی رکھے۔ پاکستان میں یہ نگرانی ہمیشہ کمزور رہی ہے، اور یہی پاکستان کی جمہوری کمزوری کا بنیادی سبب ہے۔پاکستان آج بیرونی خطرات کا سامنا ضرور کر رہا ہے، لیکن حقیقی خطرہ اندرونی ساخت میں طاقت کے ارتکاز، فیصلہ سازی کی غیر شفافیت اور سول اداروں کی کمزوری ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس ’’ثقافتی طور پر مستقبل بین، جنگی طور پر تیار‘‘ فوج کا ذکر کیا ہے، وہ تب ہی مضبوط ہو سکتی ہے جب ریاست کا سیاسی و آئینی ڈھانچہ بھی جدیدیت قبول کرے۔ کسی قوم کی طاقت صرف بندوق یا نعرے نہیں بڑھاتے— طاقت اس وقت بنتی ہے جب ادارے اپنے دائرے میں رہیں، عوام کا اعتماد مضبوط ہو، اور طاقت کی نگرانی منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔گزشتہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ جہاں فوج نے دفاعی کردار کے ساتھ ہی معیشت، سفارت کاری اور بیانیہ سازی میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا، وہاں تنقید بڑھی، مسلسل سوال اٹھے، اور اختلاف کو ’’خطرہ‘‘ سمجھا گیا۔ اگر یہ نیا ماڈل اس روش کو مزید مضبوط کرے گا تو نہ جدیدیت آئے گی، نہ استحکام۔ اگر مشترکہ دفاعی ڈھانچہ ریاست کے دفاع کو مضبوط کرتا ہے تو اسے سول بالادستی، پارلیمانی نگرانی، اور طاقت کے آئینی دائرے کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہوگا۔پاکستان کے پاس مضبوط، حوصلہ مند فوج ہے — اس کی قربانیاں حقیقی ہیں، اس کی اہمیت ناقابلِ انکار۔ مگر فوج کو طاقت کا مرکز نہیں، آئینی ڈھانچے کا ایک حصہ ہونا چاہیے۔ جب یہ فرق دھندلا جاتا ہے، تو ریاست مضبوط نہیں، کمزور ہوتی ہے۔ ’’ناقابل شکست پاکستان‘‘ اسی وقت حقیقت بنتا ہے جب طاقت کا احترام اور طاقت کی جواب دہی ساتھ ساتھ چلتی ہو۔یہ تبدیلی ’’تاریخی‘‘ ہو سکتی ہے، لیکن تاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ قدم ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کا آغاز ہے یا طاقت کے ارتکاز کی ایک اور قسط— اور اس فیصلے کا انحصار نہ تقریروں پر ہے نہ خطابات پر، بلکہ اس پر کہ آئینی حدود، پارلیمانی نگرانی اور جمہوری مساوات کو عملی طور پر کتنا جگہ دی جاتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں