گریڈ 19 کے آفیسر کیخلاف انکوائری کم از کم گریڈ 20 یا 21 کے آفیسر ہی کر سکتے، وائس چانسلر نے من پسندیدہ لوگوں کی کمیٹی بنائی
مرزا زوہیب کو کمیٹی نے موقف کیلئے طلب کیا نہ گواہان پر جرح کا موقع دیا ، مرزا زوہیب کی غیر موجودگی میں مدعیہ،گواہوں کے بیانات نوٹ
وفاقی محتسب کا ملازمت سے برخاستگی کے تینوں نوٹس اور فیصلے منسوخ، مرزا زوہیب کو یکم اگست سے پہلے والی پوزیشن پر بحال، تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) وفاقی محتسب برائے ہراسائیت اسلام آباد نے اپنے تفصیلی فیصلے میں این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کرتے ہوئے اگست 2023ء میں یونیورسٹی سے برخاست کئے جانے والے پروفیسر انجینئر مرزا زوہیب کو ان کی ملازمت پر تمام مراعات کے ساتھ بحال کر دیا اور تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم جاری کر دیا۔ اپنے تفصیلی فیصلے پر وفاقی محتسب نے درج ذیل نقائص اور قوائد و ضوابط کے منافی اقدامات پر پروفیسر انجینئر مرزا زوہیب کے حق میں فیصلہ دے دیا جو اس طرح سے ہیں۔
1۔ انجینئر مرزا زوہیب گریڈ 19 کے آفیسر ہیں ان کی انکوائری کم از کم گریڈ 20 یا 21 کے آفیسر ہی کر سکتے تھے مگر یہ انکوائری جن تین پروفیسر حضرات نے کی وہ خود ہی گریڈ 19 کے تھے جو کہ قوائد اور پروسیجر کی صریحا خلاف ورزی ہے۔
2۔ انکوائری کی تمام تر کارروائی یکطرفہ تھی ۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس انکوائری میں وائس چانسلر نے اپنے پسندیدہ لوگوں کی کمیٹی بنا کر ان پر سخت دبائو ڈال کر انکوائری لکھوائی۔
3۔ انکوائری کمیٹی نے مرزا زوہیب کو ان کا مؤقف ماننے کیلئے طلب ہی نہیں کیا جو کہ قوائد و ضوابط اور پروسیجر کے مطابق انکوائری میں لازم ہوتا ہے۔
4۔ گواہان پر جرح کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
5۔ انکوائری کمیٹی نے کبھی شوکاز نوٹس یا چارج شیٹ جاری ہی نہ کی۔
6۔ کسی بھی شخص کو بغیر سنے فیصلہ کرنا قابل مذمت امر ہے۔ مقدمات شواہد کی بنیاد پر دیکھے جاتے ہیں جذبات کی بنیاد پر نہیں۔
ٓ7۔ انکوائری کمیٹی نے انجینئر مرزا زوہیب کی غیر موجودگی میں مدعیہ اور گواہوں کے بیانات نوٹ کئے اور انکوائری کمیٹی کے پیرا نمبر 4‘ 5‘ 6‘ 7 سے واضح ہوتا ہے کہ صرف مدعیہ کو سہولت دی گئی کہ وہ اپنے گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے جبکہ انجینئر مرزا زوہیب کو اس طرح کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا۔
8۔ گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا یہ طریقہ ایکٹ کے سیکشن (C) (1) 4 کی خلاف ورزی ہے۔
9۔ رجسٹرار این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی طرف سے اس قانونی خلاف ورزیوں کی کوئی ٹھوس وجہ فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی انجینئر مرزا زوہیب کو اپنی گواہیاں پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
10۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہراسمنٹ ایکٹ 2010ء میں بنا اور گزشتہ 13 سال میں اس یونیورسٹی میں اس ایکٹ کے تحت کوئی باضابطہ انکوائری کمیٹی ہی نہیں بنائی گئی۔ 17 جون کو مرزا زوہیب نے ہائی کورٹ میں وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کی غیر قانونی تعیناتی کے حوالے سے رٹ دائر کی تو چار دن پرانی تاریخ 13 جون 2023ء ڈال کر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
یاد رہے کہ وائس چانسلر این ایف سی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اختر کالرو کے بھتیجوں نے انجینئر مرزا زوہیب کو کمرے میں بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کی ویڈیو خود سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی کیونکہ انجینئر مرزا زوہیب نے وی سی کے خلاف 17 جون کو رٹ دائر کی کہ وائس چانسلر گزشتہ 6 سال سے غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو تقرر نامہ ہے نہ ہی توسیع نامہ۔ اس لئے ان کے تمام اقدامات غیر قانونی ہیں حتیٰ کہ وہ چیک سمیت کسی بھی کاغذ پر دستخط نہیں کر سکتے جس پر 7 اگست کو وائس چانسلر نے اپنے بھتیجوں طیب کالرو اور منور کالرو کے ذریعے مرزا زوہیب کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی رپورٹ مرزا زوہیب کو یونیورسٹی ملازمین نے پہلے ہی دے دی تھی کہ ان پر تشدد ہو گا۔وفاقی محتسب نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ‘ اتھارٹی کا فیصلہ اور مرزا زوہیب کی ملازمت سے برخاستگی کے حوالے سے تینوں نوٹس اور فیصلے منسوخ کر دیئے اور مرزا زوہیب کو یکم اگست سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کر دیا۔







