پاکستان کا تجارتی خسارہ اپنی خطرناک رفتار کے ساتھ ایک بار پھر ہماری معاشی کمزوریوں کو عیاں کر رہا ہے۔ جولائی تا نومبر دو ہزار چوبیس میں یہ خسارہ منفی گیارہ ارب سے زائد تھا، جبکہ رواں برس اسی مدت میں یہ بڑھ کر پندرہ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ اضافہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرا معاشی المیہ ہے جو ہماری پالیسیوں کے خلاء، ترجیحات کی بے ربطی، اور ریاستی اقتصادی نظم کی مجموعی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ صورتِ حال مزید تشویش ناک اس لیے ہے کہ جہاں ہماری درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، وہیں نومبر دو ہزار پچیس میں ہماری برآمدات گزشتہ برس کے مقابلے میں پندرہ فیصد سے زائد کم ہو گئی ہیں۔ یہ وہ سمت ہے جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔پاکستان کی معاشی تاریخ کا بڑا حصہ ایک مستقل چکر میں گزر چکا ہے — درآمدات میں اضافہ، برآمدات میں سست روی، ادائیگیوں کا توازن بگڑنا، اور نتیجتاً بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بار بار رجوع۔ یہی وجہ ہے کہ ملک چوبیس مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے دروازے پر جا چکا ہے۔ اس بار بھی ہمارے سامنے وہی پرانا نسخہ رکھا ہے: درآمدات میں انتظامی پابندیاں، سخت مالیاتی پالیسی، قیمتوں پر قابو اور ٹیکسوں میں اضافے کی تجویز۔ مگر اس حکمتِ عملی کا تلخ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو برآمدات مستحکم ہوتی ہیں اور نہ ہی معیشت ایک پائیدار راستے پر چلتی ہے۔پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ درحقیقت درآمدی خام مال پر منحصر ہے۔ جب بھی درآمدات کو انتظامی احکامات کے ذریعے محدود کیا جاتا ہے تو بظاہر عارضی بہتری دکھائی دیتی ہے، مگر برآمدی شعبہ شدید متاثر ہوتا ہے، صنعتیں سست پڑتی ہیں، اور نتیجتاً روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ اس عمل کا ایک اور پہلو بھی بہت سنگین ہے: حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے، جس کا براہِ راست نتیجہ مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں حکومت کے جاری اخراجات کا تقریباً پچپن فیصد حصہ صرف سود کی ادائیگیوں میں صرف ہوا — یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو پاکستان جیسے محدود وسائل رکھنے والے ملک کے لیے تباہ کن ہے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے اپنی اکتوبر دو ہزار چوبیس کی دستاویز میں اس دائمی بحران کی نشان دہی کرتے ہوئے واضح لکھا تھا کہ پاکستان کی معیشت دہائیوں سے تیز رفتار اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ ’بوم اینڈ بسٹ‘ پر مبنی یہ چکر حقیقی و مؤثر معاشی ترقی کو ہمیشہ روک دیتا ہے۔ غیر ضروری مالیاتی توسیع، مصنوعی طور پر روکی گئی شرح تبادلہ، اور سبسڈیوں کے غیر منصفانہ استعمال نے ہمارے معاشی ڈھانچے کو مزید کمزور کیا ہے۔حکومتی پالیسیوں نے کئی صنعتوں کو مستقل بچے کی طرح پال پوس کر بھی مسابقت کی صلاحیت نہیں دی۔ خصوصی اقتصادی مراعات، رعایتیں، کم شرح سود پر قرضے، سبسڈیز — یہ سب کچھ منتخب طبقات کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتا رہا، مگر نہ صنعت کاری نے ترقی کی، نہ برآمدات میں تنوع آیا، نہ ہی معیار اور پیداواری لاگت میں بہتری آئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری مصنوعات خطے کے دیگر ممالک سے مہنگی ہیں، بجلی و گیس کے نرخ زیادہ ہیں، شرح سود خطے سے کئی گنا بلند ہے، اور عالمی منڈی میں مقابلے کی سکت کم ہے۔اس ساری صورت حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ اسی معاشی دائرے میں پھنسے رہیں گے؟ کیا ہر چند سال بعد ہم اسی بحران کا شکار ہو کر وہی اقدامات دہرائیں گے جنہوں نے کبھی دیرپا بہتری نہیں دی؟ ہماری معیشت کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں مشکل مگر ضروری فیصلوں سے گریز کرتی رہی ہیں۔ جاری اخراجات میں کمی، سرکاری اداروں کی اصلاح، ٹیکس کے دائرے کو منصفانہ انداز میں وسیع کرنا، زرعی اور صنعتی شعبے میں حقیقی مسابقت پیدا کرنا — یہ سب وہ اقدامات ہیں جن کے بغیر پاکستان کے لیے پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔موجودہ صورتِ حال سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ درآمدات پر انتظامی پابندیاں وقتی سہارا دیتی ہیں مگر برآمدات کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دیکھا گیا کہ شدید انتظامی کنٹرول کے باوجود خسارہ کم نہ ہو سکا۔ درآمدات کا بڑھنا اور برآمدات کا گرنا بتاتا ہے کہ ہماری صنعتیں دباؤ کا شکار ہیں اور وہ عالمی منڈی میں اپنا مقام برقرار نہیں رکھ پا رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ پوری برآمدی صلاحیت کو نگل رہا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے مشورے اپنی جگہ، مگر اگر حکومت اپنی معاشی خودمختاری برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنی طاقت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ یہ اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اپنے اخراجات میں نمایاں کمی کرے، غیر پیداواری سبسڈیز ختم کرے، ٹیکس وصولی کو شفاف اور منصفانہ بنائے، اور سرکاری اداروں کے خسارے کو کم کرے۔ جب تک حکومت خود اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی، کسی بھی بیرونی ادارے کی سفارشات صرف نئے قرضے دلانے کا ذریعہ بنیں گی، حل فراہم نہیں کریں گی۔اس وقت ملک کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی طور پر مشکل ہوں مگر مستقبل کے لیے راستہ ہموار کریں۔ اگر ہم تجارت، صنعت، توانائی اور مالیاتی نظم میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتے تو یہ خسارہ محض ایک عدد نہیں رہے گا بلکہ ملک کی معاشی خودمختاری کو مسلسل متاثر کرتا رہے گا۔ پاکستان کو ایک ایسے معاشی ماڈل کی ضرورت ہے جو برآمدات پر حقیقی توجہ دے، صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرے، اور ملکی وسائل کا استعمال مؤثر بنائے۔یہ بحران محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا معاشی اور حکمرانی کا امتحان ہے۔ اگر ہم نے اس موقع پر گہری سوچ اور دوراندیشی کی بنیاد پر فیصلے نہ کیے تو آنے والے برسوں میں بحران مزید پیچیدہ ہوگا۔ پاکستان کے لیے راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے معاشی ڈھانچے کی اصلاح کرے، پائیدار ترقی پر توجہ دے اور اس دائمی خسارے کے چکر سے نکلنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں — بشرطیکہ نیت اور سمت درست ہو۔







