قومی مالیاتی کمیشن کا حالیہ اجلاس بظاہر ایک رسمی عمل لگ سکتا ہے، لیکن درحقیقت یہ وفاقِ پاکستان کے وجود، اس کی آئینی ساخت اور صوبائی خودمختاری کے پورے تصور کی جڑوں کو چھو لینے والا مرحلہ ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کا آغاز اس اعلان سے کیا کہ وفاق ’’سننے‘‘ آیا ہے، اور یہ کہ تمام فیصلے کھلے ذہن کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ’’سننے‘‘ کے اس وعدے کے ساتھ ماضی کے وہ رویے بھی دفن کیے جائیں گے جنہوں نے طویل عرصے تک مرکز اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی کو بڑھایا، اور مالیاتی وفاقیت کو تنازع کا عنوان بنا دیا؟آئینِ پاکستان میں قومی مالیاتی کمیشن محض ایک تکنیکی فورم نہیں بلکہ صوبائی حقوق کی ضمانت کا بنیادی ستون ہے۔ 1973ء کا دستور اسی زخم کو مندمل کرنے کے لیے بنا تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد مرکزیت کی انتہا نے مشرقی پاکستان کو دیا تھا۔ یہ تلخ تاریخ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ جب وسائل کی تقسیم میں شفافیت نہ ہو، جب مرکز اپنے آپ کو مالکِ کائنات سمجھے اور صوبوں کو محض تابعین، تو پھر ریاست کا دھارا بکھرنے لگتا ہے۔ اس پس منظر میں این ایف سی کا اجلاس پاکستان کے فیڈرل ڈھانچے کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔وزیرِ خزانہ کی اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ وفاق اور صوبوں کو ایک دوسرے کی بات کھلے دل سے سننی چاہیے، لیکن سوال یہ بھی ضروری ہے کہ صوبوں کے وہ خدشات کیا واقعی سن لیے جائیں گے جو سالہا سال سے دہرا رہے ہیں کہ مرکز وسائل کی اصل ملکیت کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے۔ عوامی خزانہ ’’وفاق‘‘ کا ہے، وفاق ’’مرکز‘‘ نہیں بلکہ چاروں صوبوں اور مرکز کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ بنیادی سچائی اکثر قومی مباحث میں غائب رہتی ہے، اور یوں تاثر دیا جاتا ہے جیسے مرکز اپنے وسائل صوبوں کو ’’دے‘‘ رہا ہے۔ دستور کہتا ہے کہ قابلِ تقسیم محاصل میں شامل ٹیکسوں سے اکٹھا ہونے والا ہر روپیہ وفاق کے تمام اکائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ مرکز محض جمع کرنے والا ادارہ ہے، مالک نہیں۔یہی وہ غلط فہمی ہے جو آئے دن صوبوں کے حقوق کی بحث کو ایک منفی سمت میں دھکیل دیتی ہے۔ جب مرکز یہ سوال اٹھاتا ہے کہ صوبے اپنے وسائل کہاں خرچ کر رہے ہیں، تو یہ رویہ اس بنیادی اصول کی نفی کرتا ہے کہ صوبے اپنی کارکردگی کے لیے مرکز کے جواب دہ نہیں، وہ اپنے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اگر اس سوچ کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر صوبے بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ مرکز سے پوچھیں کہ اربوں کھربوں روپے سرکاری اداروں میں جھونک کر بھی وہ اصلاح کیوں نہیں لا سکا؟ کیا بجلی کے تقسیم کار اداروں کو صوبے نہ چلانے کے بدلے ان کی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب جائیں؟ کیا قومی ہوائی کمپنی، ریلوے، اسٹیل مل، پی آئی اے اور دیگر خسارے والے ادارے صوبوں نے چلائے تھے کہ ناکامی کا حساب صوبوں سے مانگا جائے؟اگر مرکز کو یہ حق ہے کہ وہ صوبوں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے، تو پھر صوبوں کو بھی یہ حق ہے کہ وہ پوچھیں کہ قومی سطح پر ٹیکسوں کا تناسب کیوں 10 فیصد سے اوپر نہیں جا سکا؟ کیوں قومی سرکاری ادارے قومی خزانے کو کھا رہے ہیں؟ آخر وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جن کے باعث وفاق آج تک کوئی جامع معاشی اصلاحات نافذ نہ کرسکا؟ اور کیوں ہر مشکل وقت میں حل ’’وفاقی حصے میں اضافہ‘‘ اور ’’صوبائی حصے میں کمی‘‘ کی صورت میں ڈھونڈا جاتا ہے؟اُدھر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے فاٹا انضمام کے بعد غیر منصفانہ مالیاتی بندوبست پر اٹھائے گئے سوالات بھی جائز ہیں۔ سابقہ قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں لانے کا وعدہ اس حقیقت کے ساتھ جڑا تھا کہ ان علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ اگر 700 ارب روپے کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا تو یہ نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ اس تصورِ ریاست کی بھی نفی ہے جس کا تقاضا مساوی شہری حقوق ہے۔اسی طرح سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے درست کہا کہ این ایف سی وسائل تقسیم کرنے کا ایک آئینی میکانزم ہے جسے شفافیت، دیانت داری اور برابری کے اصول کے تحت چلایا جانا چاہیے۔ وفاق کی جانب سے ’’صوبوں کے سرپلس‘‘ کو عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام کی کامیابی قرار دینا ایک عجیب منطق ہے۔ صوبے اپنے وسائل روک کر وفاقی بجٹ کے خسارے کو کم کرتے ہیں، لیکن ان کے اپنے سماجی شعبوں—صحت، تعلیم، پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ—سب کا پہیہ رک جاتا ہے۔ کیا یہی مالیاتی ذمہ داری ہے؟آج پاکستان میں اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ وسائل کے حصول کا نیا نظام کیا ہوگا؟ کیا مرکز ٹیکسوں میں اضافہ کرے گا؟ کیا قومی اداروں کی نجکاری یا اصلاح ہوگی؟ کیا قومی ٹیکس پالیسی میں بنیادی تبدیلی آئے گی؟ یا صوبوں کے حصے کو نشانہ بنا کر مسئلے کا آسان حل تلاش کیا جائے گا؟یہ سوچ محض غلط نہیں بلکہ آئین کے خلاف بھی ہے۔عددی حقائق اپنی جگہ مگر یہ بات اصولی طور پر طے ہے کہ وفاق اور صوبوں کا رشتہ باہمی احترام، اعتماد اور مساوات پر قائم ہے۔ نہ مرکز صوبوں کا نگران ہے نہ صوبے مرکز کے ماتحت۔ اگر حکومت اس حقیقت کو سامنے رکھ کر این ایف سی مذاکرات آگے بڑھاتی ہے تو بحران کم ہوں گے، بصورتِ دیگر ٹوٹ پھوٹ بڑھے گی۔یہ بھی ضروری ہے کہ مرکز اور صوبے ایک دوسرے کو دشمن نہیں، شریکِ سفر سمجھیں۔ ان دونوں میں کشمکش نہ صرف مالیاتی مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ پوری ریاست کی جڑیں ہلا دیتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ماضی میں اسی غلطی نے ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔پاکستان کی بقا تبھی ممکن ہے جب وفاق اپنی اکائیوں کو مکمل عزت دے، ان کے حقوق تسلیم کرے اور این ایف سی جیسے آئینی فورمز کو سیاسی انجینئرنگ کا میدان بنانے سے باز آئے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ریاست کے ہر ادارے میں وہی بے اعتمادی، یہی کشمکش اور اسی طرح کا بحران پھر جنم لے گا۔اب وقت ہے کہ فیصلے آئین کے مطابق ہوں، مفادِ عامہ کے مطابق ہوں، اور تمام اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی اور مساوات کے اصول پر قائم ہوں۔ این ایف سی کا نیا ایوارڈ پاکستان کے وفاقی مستقبل کا امتحان ہے—اور اس امتحان میں کامیابی صرف ایک صورت میں ممکن ہے: دستور کی اصل روح کو مان کر، ہر صوبے کو اس کا حق دے کر، اور یہ سمجھ کر کہ وفاق طاقت سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتا ہے۔







