صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث پھاٹک پختہ نہ کئے جا سکے، موسم سرما کی دھند میں بدستور سکیورٹی رسک
متعدد ہلاکتوں کے بعد ریلوے پھاٹکوں کو پختہ کرنے کیلئے تعاون مانگتا ،بجٹ کھربوں میں جانے کی وجہ سے حکومتیں تعاون سے انکار کردیتی ہیں
محکمہ نے کچے پھاٹکوں کو متعدد بار بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا لیکن عوامی رد عمل اور سیاسی اثرو رسوخ کے باعث یہ معاملہ کھٹائی میں پڑا ،ہر سال اقدامات صفر
ملتان(سٹی رپورٹر) صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ریلوے ملتان ڈویژن کے 403 کچے پھاٹکوں کو پختہ نہ کیا جا سکا۔ ماضی میں یہ پھاٹک دھند کے باعث حادثات کا باعث بن جاتے ہیں جس میں اب تک درجنوں بچے، شہری ٹرینوں کی زد میں آکر لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ روڈ ٹرانسپورٹ میں بھی اموات ہو چکی ہیں اس سال بھی موسم سرما کی دھند میں یہ پھاٹک بدستور سکیورٹی رسک بنے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ریلوے ملتان ڈویژن میں اس وقت 430 پکے اور 403 کچے پھاٹک موجود ہیں۔ یہ شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر ریلوے ٹریک کے دوسری طرف آمدورفت کے لیے ازخود گزر گاہیں بنائی جاتی ہیں جن پر کوئی بھی ریلوے اہلکار تعینات نہیں ہوتا اور ایسی گزر گاہوں کو کچا پھاٹک کہا جاتا۔جہاں ہر سال موسم سرما میں پڑنے والے شدید دھند کی وجہ سے یہ پھاٹک موت کا سبب بن جاتے ہیں جہاں سے گزرنے والی سکول بسیں چنگ چی رکشے، موٹرسائیکل پر سکول جانے اور گھر آنے والے بچے اور روڈ ٹرانسپورٹ پھاٹک عبور کرتے ہوئے دھند میں چھپ کر آنے والی ٹرین تصادم کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر سال ہلاکتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ریلوے ملتان ڈویژن میں خانپور، قطب پور، جہانیاں، خانیوال، ساہیوال، ہڑپہ، بہاولپور، لودھراں، شجاعباد، شیر شاہ اور کوٹ ادو خطرناک ریلوے سیکشن ہیں جہاں ہر سال حادثات معمول بن چکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ہر سال ہونے والے حادثات کے باعث ریلوے حکام ان پھاٹکوں کو پختہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں جس پر سروے اور تخمینہ جات بھی بنائے جاتے ہیں لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ پاتا۔ اسی طرح متعدد ہلاکتوں کے واقعات کے بعد ریلوے صوبائی اور وفاقی حکومت سے بھی ان پھاٹکوں کو پختہ کرنے کے لیے تعاون مانگتا ہے لیکن بجٹ کھربوں میں جانے کی وجہ سے حکومتیں بھی ریلوے سے تعاون کرنے سے انکار کردیتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک پختہ پھاٹک بنانے کے لیے 80 لاکھ روپے سے لے کر ڈیڑھ کروڑ روپے کے اخراجات ہوتے ہیں اور ریلوے ملتان ڈویژن میں 403 کچے پھاٹک ہیں جنہیں فنڈز کی عدم فراہمی کا سامنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ پھاٹک آج تک پختہ نہ کیے جا سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ فنڈز نہ ملنے اور حادثات کی روک تھام کے پیش نظر ریلوے نے ان کچے پھاٹکوں کو متعدد بار بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا لیکن عوامی رد عمل اور سیاسی اثرو رسوخ کے باعث یہ معاملہ کھٹائی میں پڑا ہے اور یوں یہ کچے پھاٹک ہر سال موسم سرما میں پڑنے والی دھند میں حادثات کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ جس میں تعلیمی اداروں میں جانے والے معصوم بچے اور شہری اپنی زندگیوں کی قربانی دیتے ہیں۔







