میانوالی میں دہشتگردی، تحریک جہاد پاکستان نے ذمہ داری قبول کر لی

حملہ فدائی تھا جوتحریک جہاد پاکستان سے تعلق رکھنے والے مجاہدین نے کیا:حال ہی میں نمودار ہونے والے جہادی گروپ کے ترجمان ملّا محمد قاسم کا بیان

دہشت گردوں کے پاس ایم-16 اور ایم-4 جیسے امریکی ہتھیار تھے جو امریکی افواج نے افغانستان سے جاتے ہوئے بڑی تعداد میں چھوڑ دئیے تھے

تحریک جہاد پاکستان اور ہندوستانی میڈیا ائر بیس پر لاجسٹک اور انفراسٹرکچر نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ، را کی فنڈنگ،تربیت کار فرما ہو سکتی ہے:ذرائع

ٹی جے پی ایک نئی عسکریت پسند تنظیم ، فروری 2023ء میں نمودار ہوئی،چمن حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی اور بعد میں سوات دہشت گردی میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا

ملتان(عامر حسینی سے) میانوالی میں واقع پاکستان ائرفورس کے تربیتی مرکز ایم ایم عالم ائربیس پر ہوئے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری تحریک جہاد پاکستان نے قبول کر لی ہے۔ حملہ 4 نومبر کی صبح کو اس وقت ہوا تھا جب آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود سے لیس دہشت گردوں کا ایک گروپ میانوالی میں واقع پاکستان ائر فورس کے تربیتی مرکز میں داخل ہوگیا تھا اور اس نے وہاں پر موجود تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی –روئٹرز سمیت بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق صوبہ خیبر پختون کے شہر لکی مروت کی سرحد کے قریب واقع ضلع میانوالی میں پاک فضائیہ کے انتہائی اہم مرکز پر ہوئے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری پاکستان میں حال ہی میں نمودار ہونے والے ایک جہادی گروپ ‘تحریک جہاد پاکستان- ٹی جے پی نے قبول کی ہے۔ تحریک جہاد پاکستان کے ترجمان ملّا محمد قاسم نے 4 نومبر 2023ء کو جاری ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ تحریک جہاد پاکستان سے تعلق رکھنے والے مجاہدین نے کیا اور اس حملے کو فدائی حملہ قرار دیا۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کو ائر بیس کے اندر آپریشنل کمپاؤنڈ اور تربیتی کمپاؤنڈ میں داخل ہونے نہیں دیا گیا اور اس حملے کو ناکام دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے 9 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا جن کی تصاویر بھی آئی ایس پی آر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی جاری کیں جس کے مطابق پی اے ایف ٹریننگ ایئربیس میانوالی میں کومبنگ اینڈ کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام 9 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ بیس پر بزدلانہ اور ناکام دہشت گرد حملے کے بعد آس پاس کے علاقے میں کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی جانب سے کامیاب آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ حملے کے دوران پی اے ایف کے کسی بھی آپریشنل اثاثے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ آپریشن کا فوری اور پیشہ ورانہ اختتام امن کے تمام دشمنوں کو واضح یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج چوکس ہیں اور کسی بھی خطرے سے مادر وطن کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس ایم-16 اور ایم-4 جیسے امریکی ہتھیار تھے جو امریکی افواج نے اگست 2022ء میں افغانستان سے جاتے ہوئے بڑی تعداد میں چھوڑ دیے تھے۔ جبکہ دہشت گردوں نے اندھیرے میں دیکھنے کے لیے امریکی ساختہ گاگلز بھی پہن رکھی تھیں- توجہ طلب امر یہ ہے کہ تحریک جہاد پاکستان اور ہندوستانی میڈیا و سوشل میڈیا کا اس حملے بارے ایک سا ڈسکورس ہے – دونوں اس حملے کے دوران ائر بیس پر لاجسٹک اور انفراسٹرکچر نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالاسز ونگ، راء کی فنڈنگ اور تربیت کار فرما ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں جہادی اور قوم پرست مسلح تحریکوں اور تنظیموں پر تحقیقاتی ویب سائٹ ‘خراسان ڈائری ٹی کے ڈی کے بانی ایڈیٹر افتخار فردوس کے مطابق تحریک جہاد پاکستان- ٹی جے پی ایک نئی عسکریت پسند تنظیم ہے جو فروری 2023ء میں نمودار ہوئی تھی اور اس نے رواں سال فروری میں بلوچستان کے ضلع چمن میں اپنے پہلے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور بعد میں شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات میں انسداد دہشت گردی میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جس کی اب تک کی سرکاری تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی نہیں تھی۔تاہم، 27 اپریل 2023 کو گروپ نے ایک اور دعویٰ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں حملے میں بھی ملوث تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں