ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی 3 مختلف پیدائش کی تاریخیں رکھنے اور میٹرک کے داخلہ فارم کے مطابق 1 سال قبل ریٹائر ہونے کے باوجود مضبوط سیاسی تعلقات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ سرپرستی میں خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی وائس چانسلر کی کرسی پر قابض رہنے اور جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو دھوکے میں رکھ کر پرو وائس چانسلر کا غیر قانونی عہدہ حاصل کرنے والی غیر قانونی اور ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا عارضی وائس چانسلر کے عہدے پر غیر قانونی قابض رہتے ہوئے آڈٹ پیرے کی آڑ میں ایڈوانس انکریمنٹس کاٹنے اور ریکوری کا غیر قانونی نوٹیفکیشن 12 دن پرانی تاریخ میں نکالنے پر فیکلٹی اور ایڈمن افسران نے وی سی ہاؤس میں شدید احتجاج کیا۔ یاد رہے کہ جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے یہ نوٹیفکیشن خواتین یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ 2010 کے سیکشن 12(3) اور 12(3a) کو استعمال کرتے ہوئے جاری کیاجبکہ سیکشن 12(3) کے مطابق وائس چانسلر ہنگامی صورتِ حال میں ایسا اقدام کر سکتا ہے جو بظاہر اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا لیکن کسی اور اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہےجبکہ 12(3a)کےتحت وائس چانسلرذیلی شق (3) کے تحت کوئی اقدام کرنے کے سات دن کے اندر اس اقدام کی رپورٹ پرو چانسلر اور سینڈیکیٹ کے اراکین کو پیش کرے گااور سینڈیکیٹ وائس چانسلر کے ایسے اقدام کے پینتالیس دن کے اندر اندر وہ احکامات جاری کرے گا جو وہ مناسب سمجھے۔ غیر قانونی و جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے گزشتہ سےپیوستہ روز مورخہ 26 نومبر کو پرانی تاریخ 14 نومبر کو ایمرجنسی پاورز استعمال کرتے ہوئے نوٹیفکیشن تو نکال دیا مگر سینڈیکیٹ ممبران کو 21 نومبر تک موصول نہ ہوا جس کے باعث یہ نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی ہو چکا ہے۔ ایک سینڈیکیٹ ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مجھے ایسے کسی نوٹیفکیشن کا علم نہیں۔ دوسرے سینڈیکیٹ ممبر نے روزنامہ قوم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو 26 نومبر تک یہ نوٹیفکیشن نہ تو واٹس ایپ پر موصول ہوا اور نہ ہی ای میل پر۔ ایک اور سینڈیکیٹ ممبر نے بتایا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ دھوکہ دہی کی ماہر ہیں۔ جس طرح انہوں نے سینڈیکیٹ کے 43 ویں میٹنگ کے منٹس میں جعلسازی سے رد و بدل کروائی تھی اور بعد ازاں جعلی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی اسی دھوکہ دہی کی بابت 43 ویں سینڈیکیٹ میٹنگ ابھی تک منظور نہ ہو سکی۔ حیران کن طور پر صرف اس سینڈیکیٹ منٹس پر وائس چانسلر فرخندہ منصور کی موجودگی میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے بھی دستخط کیے جبکہ سینڈیکیٹ منٹس پر مستقل وائس چانسلر کی موجودگی میں پرو وائس چانسلر دستخط نہیں کر سکتیں۔ اسی غیر قانونی اور بے بنیاد نوٹیفکیشن کی بابت 50 کے قریب ایڈمن سٹاف اور فیکلٹی ممبران نے جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے بات کی تو ان کا ڈائریکٹ کہنا تھا کہ آپ لوگ میری خبریں لگوا رہے ہیں۔ مجھے ایک ایک سکرین شاٹ کا پتہ ہے۔ میرے خلاف پوری سیریز چل رہی ہے اور آپ لوگ جب میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو میں بھی آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ آپ لوگوں کو اجازت لے کر آنا چاہیے تھا۔ آپ لوگ جا سکتے ہیں۔ میں آپ کی کوئی بات نہیں سننا چاہتی۔ جب ایڈمن سٹاف اور فیکلٹی ممبران نے جانے سے انکار کیا تو جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئیں۔ ایک ایڈمن سٹاف نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائس چانسلر شارٹ لسٹ نہ ہونے کا غصہ فیکلٹی اور سٹاف پر نکال رہی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سےپیوستہ روز 26 نومبر کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سرچ کمیٹی نے خواتین یونیورسٹی ملتان کےوی سی کے اُمیدواروں کے انٹرویو کیے اور انٹرویو میں خواتین یونیورسٹی ملتان کی بد ترین انتظامی صورتحال اور یونیورسٹی کو اس بد ترین صورتحال سے نکالنے کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ اس بارے میں موقف کے لیے ملازمین کو 2015 میں ایڈوانس انکریمنٹس دینے والی خواتین یونیورسٹی ملتان کی پہلی ریگولر وائس چانسلر ڈاکٹر شاہدہ حسنین سے بات کی گئی اور پوچھا گیا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے مطابق پہلی ریگولر وائس چانسلر ڈاکٹر شاہدہ حسنین نے غلط انکریمنٹس دیئے تھے جو انہوں نے روک دیئے ہیں اور ریکوری بھی کی جائے گی تو ان کا موقف تھا کہ یہ بہت ہی بیوقوفانہ بات ہے۔ میں نے یہ انکریمنٹس سینڈیکیٹ کی منظوری سے دیئے تھے جس کا پورا طریقہ کار طے کیا گیا تھا اور اس وقت کے ریزیڈنٹ آڈیٹر نے اپنے داماد کو جاب پر نہ رکھے جانے کی پاداش میں متعدد غلط آڈٹ پیراز لگائے تھے جو کہ بالکل بے بنیاد تھے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ خود عارضی وائس چانسلر ہوتے ہوئے سینڈیکیٹ کے کیے گئے کسی بھی فیصلے کو بغیر سینڈیکیٹ کے فیصلہ نہیں کر سکتی اور چونکہ 7 دن کے اندر بھیجنا لازمی تھا جس کو 12 دن گزر چکے ہیں۔ چنانچہ یہ نوٹیفکیشن قابل عمل نہ ہے۔ ایڈمن سٹاف کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے عارضی خزانچی کا چارج جونیئرٹیچر ڈاکٹر تنزیلہ اور عارضی رجسٹرار کا چارج ڈاکٹر ثمینہ اختر کو سونپا ۔ڈاکٹر تنزیلہ اور ڈاکٹر ثمینہ اختر بھی نا تجربہ کاری میں ایسے معاملات میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا ساتھ دیتے ہوئے انکوائریوں کا سامنا کر سکتی ہیں۔ کیونکہ چند دنوں تک ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی تک جعلی وائس چانسلر واپس پروفیسر بن جائیں گی اورہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی کے ساتھ ہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ایڈوانس انکریمنٹس والے ایشو پر بھی ملازمین اور فیکلٹی نے جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ، عارضی خزانچی ڈاکٹر تنزیلہ کے خلاف بھی ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔







