لاہور: جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سوال کا جواب دیں کہ وہ مبینہ طور پر 70 ہزار جعلی ووٹوں کی بنیاد پر کیسے کامیاب ہوئے اور انہیں ایوان تک کس نے پہنچایا۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی بنیاد پر کھڑی ہے، اس لیے نواز شریف کو حقائق پر مبنی گفتگو کرنی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی مسلم لیگ ن کی قیادت کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات تھے تو پھر وہ دوبارہ اسی کے ساتھ مل کر اقتدار میں کیوں آئے اور جمہوریت کو کیوں نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی قیادت مفاد کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے حق اور مخالفت میں نعرے لگاتی ہے، اس لیے نواز شریف کو جواب دینا ہوگا کہ ’ووٹ کو عزت‘ کا نعرہ صرف سیاسی مقصد تھا یا حقیقت۔
حافظ نعیم نے جماعتِ اسلامی کے تین روزہ اجتماع عام کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ “بدل دو نظام” تحریک کے سلسلے میں آئندہ حکمتِ عملی طے کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انتخابی عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی آر ٹی ایس اور کبھی فارم 47 کے ذریعے حکومتیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق بیوروکریسی آج بھی عوام پر حکمرانی کر رہی ہے جبکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ خاندانی سیاست رکھنے والی جماعتیں اپنے کارکنوں سے بھی خائف رہتی ہیں اور اسی وجہ سے عوام دشمن قوانین منظور کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بلدیاتی قانون ایک “سیاہ قانون” ہے، جسے عدالتوں اور عوامی احتجاج کے ذریعے چیلنج کیا جائے گا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ 7 اور 8 دسمبر کو پنجاب بھر میں اس قانون کے خلاف مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے میٹروپولیٹن اور ڈسٹرکٹ کونسلز ختم کر کے مقامی سطح پر اختیارات چھین لیے ہیں، جبکہ دنیا میں بنیادی انتظامی معاملات مقامی حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں۔
پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت قتل اور منشیات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرگ مافیا حکومتی سرپرستی میں سرگرم ہے اور نشہ آور مواد تعلیمی اداروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے خارجہ پالیسی پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آزادانہ فیصلے کرنا ہوں گے، امریکہ کے دباؤ یا ٹرمپ جیسے لیڈروں کی چاپلوسی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
تعلیمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی 88 فیصد آبادی اعلیٰ تعلیم سے محروم ہے، جبکہ تین کروڑ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق یونیورسٹیوں کی عالمی درجہ بندی انتہائی خراب ہے اور تعلیم مخصوص طبقات تک محدود ہو چکی ہے۔
سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں کرپشن اپنے عروج پر ہے اور صوبے میں جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہیں، جبکہ بلوچستان پانی اور بجلی کے بحران میں مبتلا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی امن، شہری سہولیات، بلدیاتی حقوق اور آئینی حکمرانی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، اور بڑے دھرنوں سے لے کر اسمبلیوں کے گھیراؤ تک ہر جمہوری راستہ اپنایا جائے گا تاکہ “بدل دو نظام” تحریک کو آگے بڑھایا جا سکے۔







