ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی 3 مختلف پیدائش کی تاریخیں رکھنے اور میٹرک کے داخلہ فارم کے مطابق 1 سال قبل ریٹائر ہونے کے باوجود مضبوط سیاسی تعلقات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ سرپرستی میں خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی وائس چانسلر کی کرسی پر قابض رہنے اور جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو دھوکے میں رکھ کر پرو وائس چانسلر کا غیر قانونی عہدہ حاصل کرنے والی غیر قانونی اور ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اخبارات اور میڈیا پر ان کے حوالے سے چلنے والی خبروں کے ری ایکشن میں مختلف ملازمین کو دیئےجانے والے ایڈوانس انکریمنٹ اور پروموشن سے متعلقہ انکریمنٹ، آڈٹ اعتراضات اور ادائیگیوں کا ادارے پر بھاری مالی بوجھ اور مالی بحران کا بہانہ بنا کر کاٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مہینے کے آخری دنوں میں انہوں نے 26 نومبر کا انتخاب کرتے ہوئے ملازمین کو دیئے گئے ایڈوانس انکریمنٹس کو روکنے اور ریکوری کا لیٹر 14 نومبر 2025 کی پرانی تاریخ میں نکال دیا اور اس جعلسازی میں 14 کا ہندسہ ہاتھ سے لکھا گیا۔ غیر قانونی قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ویمن یونیورسٹی ملتان ایکٹ 2010 کی ایمرجنسی پاورز دفعہ 12(3) کے تحت حاصل اختیارات کو غیر قانونی اور ناجائز طور پر استعمال کرتے ہوئے مذکورہ انکریمنٹ کی ادائیگی فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن ملازمین نے یہ رقم وصول کی ہے وہ یہ رقم واپس جمع کروائیںبصورتِ دیگر ان کے خلاف ریکوری کا باقاعدہ طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔ ملازمین کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور قانونی حیثیت، آڈٹ عمل اور ایچ آر پالیسی کے حوالے سے مزید وضاحت کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ یہاں غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ملازمین کے حقوق کو غصب کرنے کی سہولت دینے والےہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے افسران پر درج ذیل سوالات جنم لیتے ہیں کہ 1۔ کیا ایک غیر مستقل/قائم مقام/غیر قانونی وائس چانسلر ایمرجنسی پاورز کا استعمال کرتے ہوئے ایسے آرڈر جاری کر سکتا ہے؟ پاکستان میں یونیورسٹی ایکٹس کے تحت قائم مقام (Acting) VC عام طور پر صرف day-to-day administrative matters چلاتا ہے۔ اسے پالیسی نوعیت، مالی نوعیت یا ایسی کارروائی کا اختیار محدود ہوتا ہے جس سے ملازمین کے حقوق، مراعات یا سروس سٹرکچر متاثر ہوتا ہو۔ کوئی بھی فیصلہ جو “major financial implication” رکھتا ہوعام طور پر سینیٹ، سنڈیکیٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی منظوری کا محتاج ہوتا ہے۔ 2۔ کیا قائم مقام وی سی تنخواہیں/انکریمنٹ واپس لے سکتا ہے؟ اگر انکریمنٹ قانون، سروس رولز یا نوٹیفکیشن کے مطابق دیئے گئے تھے تو قائم مقام انہیں روک یا واپس وصول نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی آڈٹ اعتراض موجود ہو تو بھی قانون کے مطابق ریکوری سے پہلے مکمل انکوائری، شو کاز اور ملازمین کے موقف کو سننے کا حق لازمی ہوتا ہے۔ یکطرفہ آرڈر قانونی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ 3۔ کیا غیر قانونی وائس چانسلر کے لیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات کی سرپرستی کرنے والاہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اس کا ذمہ دار نہ ہے ؟ کیا یہ جاری کردہ اہم نوعیت کے مالیاتی فیصلے قانونی طور پر چیلنج کیے جا سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے فیصلوں کے مطابق اگر ملازم نے نیک نیتی سے رقم لی ہو اور وہ افسران کی غلطی سے دی گئی ہو تو بھی عمومی طور پر ریکوری نہیں ہو سکتی تاہم ریکوری صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب کسی ملازم نے دھوکے سے فائدہ لیا ہویا غلط بیانی کی ہو کیونکہ صرف آڈٹ اعتراض ہونا ریکوری کا جائز جواز نہیں بنتا۔ ایک قائم مقام یا غیر قانونی طور پر کام کرنے والا وائس چانسلر ملازمین کی انکریمنٹ روکنے یا ریکوری کا حکم یکطرفہ طور پر جاری نہیں کر سکتا اور ایسے فیصلے سنڈیکیٹ/سینیٹ کی منظوری، مکمل انکوائری، شو کاز نوٹس کے بغیر غیر قانونی اور عدالت میں چیلنج کئے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ عارضی تعینات ہونے والی رجسٹرار خواتین یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر ثمینہ اختر بھی اس نوٹیفکیشن کی زد میں آتی ہیں اور انہیں بھی 3 ایڈوانس انکریمنٹس کی ریکوری کی مد میں تقریباً 20 لاکھ روپے خواتین یونیورسٹی ملتان کو واپس جمع کروانے پڑیں گے۔ دوسری جانب خواتین یونیورسٹی ملتان کے انتظامی اور خواتین ٹیچرز نے غیر قانونی اور ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے غیر قانونی اقدامات اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سرپرستی کرنے والے ادارے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے خلاف بھی عدالت میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور تمام ملازمین نے وی سی آفس کے سامنے اس غیر قانونی اقدام پر دھرنا دینے کا پروگرام بنا لیا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خواتین یونیورسٹی ملتان میں پورے کا پورا سیٹ اپ بشمول وائس چانسلر بھی عارضی، رجسٹرار بھی عارضی اور جونیئر، خزانچی بھی عارضی اور جونیئر، کنٹرولر بھی عارضی تعینات ہیں۔







