میگا کرپشن، محکمہ صحت کلرک رانا جمیل غائب، ریکارڈ عدالت طلب، کھاتے کھل گئے

بہاولپور (کرائم سیل) ڈرگ کورٹ کرپشن کیس میں مرکزی ملزم رانا جمیل منظر سے غائب ہو گیا ہے جبکہ ڈرگ کورٹ کے جج نے آڈٹ اور کرپشن کی نشاندہی کے لیے سیشن جج بہاولپور کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ کورٹس سے اکاؤنٹس کی معلومات رکھنے والے ملازم کو طلب کر لیا ہے تاکہ ہیرا پھیری کے مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں جس نے گزشتہ روز ڈرگ کورٹ میں چارج سنبھال کر تمام تر ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ اسی طرح سٹیٹ بینک سے ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بھی ایک نمائندے کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سٹیٹ بینک کے کسی سرکاری اکاؤنٹ میں (رانا جمیل) کی جانب سے جرمانے کی رقم جمع نہیں کروائی گئی ۔عدالت کی جانب سے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کا ریکارڈ چیک کرنے کے لیے بھی باضابطہ لیٹر جاری کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔مزید معلوم ہوا ہے کہ حسنین نامی شخص کے 20 ہزار روپے جرمانہ کی رقم بھی رانا جمیل نے وصول کی مگر اسے عدالت یا سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرایا۔ متاثرہ شخص کے مطابق رانا جمیل نے رقم لینے کے بعد کہا کہ رسید جمع کروا کر فیصلہ کی کاپی آپ کو واٹس ایپ کر دوں گالیکن اس کے بعد وہ مسلسل ٹال مٹول کرتا رہا اور رابطہ منقطع کر دیا۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا جمیل مبینہ طور پر محکمۂ صحت کے کچھ افسران کی ملی بھگت سے بیرونِ ملک فرار ہو چکا ہے اور صرف انہی چند افسران کے رابطے میں ہے۔ بعض افسران اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ افسران کی مدد سے رانا جمیل کی چھٹی منظور کرائی گئی اور اب معاملے کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔عدالتی ذرائع کے مطابق ڈرگ کورٹ کی جانب سے رانا جمیل کے خلاف تمام تر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ روزنامہ قوم نے خبر شائع کی تھی کہ رانا جمیل جو کہ سینئر کلرک تھا، نے 2023 سے 2025 تک میڈیکل سٹورز اور مختلف مدّات میں عائد کروڑوں روپے کے جرمانے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے خورد برد کر لیے اور اب فرار ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔باوجود سنگین الزامات کےمحکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے تاحال اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کرانے کے لیے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔اس کے علاوہ رانا جمیل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے والد کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں بھرتی ہوا اور چند ہی سالوں میں کرپشن کی دوڑ میں سرفہرست آتے ہوئے کوٹھی، مہنگی گاڑی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹوں کو ایک ہوٹل بھی بنا کر دیا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کرپشن کی اس انداز میں حکومت ریکوری کروا سکے گی یا یہ کیس بھی فائلوں میں دب جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں