مشرف دور میں 60 ارب کی کھاد فیکٹری صرف 14 ارب میں فروخت، ڈیل 20 سال بعد بھی راز

ملتان (سٹاف رپورٹر) آج سے 20 سال قبل 2005 میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی پاک عرب فرٹیلائزر ملتان عرف کھاد فیکٹری کی فروخت کی ڈیل آج بھی کئی سوالات جنم دے رہی ہے۔ ملک کی اہم ترین صنعتی تنصیبات میں شمار ہونے والی پاک عرب فرٹیلائزر فیکٹری جس میں پاکستان کے 52 فیصد اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے 48 فیصد حصص شامل تھےجو کہ محض 14 ارب روپے میں ملتان کے فاطمہ گروپ کو بخش دی گئی جبکہ اس وقت اس کی مارکیٹ ویلیو ماہرین کے مطابق اس وقت بھی 50 سے60 ارب روپے کے لگ بھگ تھی۔ اس ڈیل میں 350 ایکڑ قیمتی شہری اراضی بھی ’’بونس‘‘ میں دے دی گئی۔ کیونکہ فیکٹری کے ساتھ موجود یہ 14 مربع قیمتی شہری اراضی بھی اسی کم قیمت کی ڈیل کا حصہ تھی۔ حیرت انگیز طور پر 14 ارب کی فروخت میں سے تقریباً 7 ارب روپے عرب شراکت دار لے گئے اور صرف 7 ارب حکومت پاکستان کے حصے میں آئے۔اس طرح خریدار پارٹی کو فیکٹری کے منتقل ہونے کے بعد حکومت پاکستان کے حصے میں آنے والی یہ رقم بھی مکمل طور پر قومی خزانے میں جمع نہ ہو سکی کیونکہ ملازمین کے واجبات اور دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد حکومت پاکستان کو صرف ڈھائی ارب روپے بچ سکے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ وہی فروخت والا سال 2005 تھا جب اس فیکٹری کا سالانہ منافع 2 ارب 10 کروڑ روپے تھا۔ یعنی حکومت نے ایک منافع بخش ادارہ صرف ڈھائی ارب کے ’’خالص فائدے‘‘ پر گنوا دیا۔اس تمام صورتحال کا ایک اور اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ خریدار گروپ نے 14 ارب روپے مکمل طور پر بینک گارنٹی کی صورت میں ایڈجسٹ کیے اور اپنی جیب سے ایک روپیہ خرچ کیے بغیر اس انتہائی قیمتی قومی اثاثے پر قبضہ جما لیا۔صرف یہی نہیں بلکہ فیکٹری کی خریداری کے اگلے ہی برس اس فیکٹری نے 7 ارب روپے منافع کمایا۔ اس اضافی منافع میں ملک بھر کے ڈسٹری بیوٹرز سے سکیورٹی ڈپازٹ کی مد میں لی جانے والی بھاری رقوم نے بھی اہم کردار ادا کیا جو 20 لاکھ روپیہ فی ڈسٹری بیوٹر تھی ۔متعلقہ خریدار گروپ نے بعد ازاں رحیم یار خان کے علاقے گوٹھ ماچھی میں ’’فاطمہ فرٹیلائزر‘‘ کے نام سے نئی فیکٹری بھی قائم کی جس پر 100 ارب روپے لاگت آئی اور جو پانچ سال بعد کہیں جا کر منافع دینے کے قابل ہو سکی مگر ملتان کی پاک عرب فرٹیلائزر خریدنے کے صرف ایک دن بعد ہی منافع دینے لگ چکی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس معاملے کا ایک اور تشویشناک پہلو یوں سامنے آیا ہے کہ ملتان میں قائم پاک عرب فرٹیلائزر سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹرک آکسائیڈ کا مسلسل اخراج ہو رہا ہے اور مصدقہ ذرائع کے مطابق فیکٹری سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا صرف 30 فیصد حصہ بیوریج کمپنیاں خریدتی ہیں جبکہ باقی 70 فیصد زہریلی گیس براہ راست فضا میں شامل ہو کر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں سے کھیل رہی ہے کیونکہ یہ انسانی صحت اور زندگی کے لیے انتہائی مضر ہے اورنائٹرک آکسائیڈ کو تو خاموش قاتل مانا جاتا ہے۔روزنامہ قوم کے ذرائع کے مطابق پاک عرب فرٹیلائزر فیکٹری نے نائٹرک آکسائیڈ کنٹرول کرنے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ تو نصب کیا ہوا ہےلیکن یہ پلانٹ مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہااور نتیجتاً انتہائی زہریلی نائٹرک آکسائیڈ بھی بدستور فضا میں شامل کی جا رہی ہےجو انسانی پھیپھڑوں، آنکھوں، دل اور اعصابی نظام کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ اس شہری حدود میں واقع کھاد فیکٹری میں امونیم نائٹریٹ بھی تیار کیا جاتا ہے جو کہ ایک دھماکہ خیز کیمیکل ہے اگرچہ اسے کیلشیم کاربونیٹ ڈال کر ’’نیوٹرل‘‘ کیا جاتا ہے، لیکن اس کی تیاری اپنے ساتھ سخت حفاظتی خطرات بھی رکھتی ہے۔دو دہائیاں گزرنے کے باوجود فروخت کے اس معاملے پر آج تک کوئی شفاف تحقیقات نہ ہو سکیں کہ 20 سال قبل کے 50 ارب روپے سے زائد مالیت کے اس قیمتی اثاثے کو 14 ارب کی بینک گارنٹی کے عوض کیوں بیچا گیا اور خریدار نے ’’زیرو سرمایہ کاری‘‘ کرکے سالِ اول میں ہی 7 ارب منافع کیسے کما لیا۔ اب 20 سال بعد صورتحال یوں ہے کہ شہری آبادی کے وسط میں قائم اس فیکٹری کے ماحولیاتی اثرات پر حکومتی ادارے نہ صرف خاموش بلکہ پردہ پوشی کر رہے ہیں۔ پاکستان کے صنعتی، معاشی اور ماحولیاتی ماہرین اس ڈیل کی ازسرنو تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم سوال اب بھی موجود ہے کہ ملک کے اربوں روپے کے اثاثے کس کے مفاد میں بیچے گئے اور سابق صدر پرویز مشرف جنہوں نے ذاتی دلچسپی لے کر اس قیمتی اثاثے کو فروخت کیا تھا انہیں کیا مفاد حاصل ہوا یا ان کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ انہیں یہ قیمتی اثاثہ گفٹ کرنا پڑا ؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں