بہاولپور(بیورو رپورٹ)بغیر روٹ پرمٹ دوڑتی خطرناک تیز رفتار بسوں کے باعث مزید ایک ہولناک حادثہ، شہریوں کی جانیں مسلسل داؤ پر لگنے لگیں۔ صدر پُلّی حادثے کے بعد رفیق ایکسپریس کی تیز رفتار بس نے ہیڈ راجکاں میں سکول بچوں سے بھرا رکشہ روند ڈالا جس کے نتیجے میں متعدد بچے زخمی ہو گئے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈرائیور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔گزشتہ دنوں بہاولپور صدر پُلّی کے نزدیک رفیق ایکسپریس کی بے قابو بس کی ٹکر سے 22 سالہ نوجوان مزمل احمد ولد احمد علی جاں بحق ہوا تھا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق موٹر سائیکل سوار نوجوان ٹکر لگتے ہی موقع پر دم توڑ گیا جبکہ پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے ضروری کارروائیاں مکمل کیں۔تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی نے ایک اور حادثہ کو جنم دیا۔عینی شاہدین کے مطابق صبح کے اوقات میں ہیڈ راجکاں شہر میں تیز رفتاری سے داخل ہونے والی رفیق ایکسپریس کی بس قابو سے باہر ہو کر اسکول جانے والے بچوں کے رکشے پر چڑھ گئی۔ حادثے میں متعدد بچے زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا یزمان، ہیڈ راجکاں، ٹیلوالا اور چولستان روٹس پر بسیں بغیر روٹ پرمٹ چل رہی ہیں۔روزانہ اوور اسپیڈنگ، غلط اوور ٹیکنگ اور لاپرواہی کا مظاہرہ معمول بن چکا ہے۔پرائیویٹ بس مالکان مبینہ “سیٹنگ” کے ذریعے کارروائی سے بچ نکلتے ہیں۔انتظامیہ اور آر ٹی اے کی خاموشی مزید انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔شہریوں نے ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ رفیق ایکسپریس سمیت تمام غیر قانونی روٹ پر چلنے والی بسوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے، ورنہ حادثات کا یہ سلسلہ رکے گا نہیں، بڑھے گا۔







