بہاولپور (کرائم سیل)اسلامیہ یونیورسٹی میں سینئر کلرک شمشاد نے اپنے بھائی سرفراز عرف شرفو اور بھتیجوں بابر اور نوید عرف نیدو کے ساتھ ملکر منشیات فروشی کا ایک ایسا نیٹ ورک بنایا ہوا ہے جو کہ شہر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں یونیورسٹیز اور کالجز میں کھلے عام نہ صرف شراب سپلائی کر رہے بلکہ اپنے مخصوص کارندوں کے ذریعے چرس ،آئس اور ہیروئن کا دھندا بھی زور و شور سے شروع کر رکھا ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں جسکی وجہ سے شہری، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے قائداعظم کالونی سے تعلق رکھنے والے اس مبینہ منشیات فروش گھرانے کے خلاف کارروائی کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ گروہ گزشتہ کئی برسوں سے منشیات فروشی میں ملوث ہے اور اس کا نیٹ ورک شہر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس خاندان کے متعدد افراد کے خلاف بہاولپور کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے مقدمات درج ہیںتاہم کافی عرصے سے یہ افراد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی گرفت میں نہیں آ سکے۔مقامی ذرائع کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ایک ملازم شمشاد پر الزام ہے کہ وہ اپنے بھائی سرفراز عرف شرفو، بھتیجوں بابر، نوید، ندو اور خواتین کی مدد سے منشیات کی سپلائی کا منظم نیٹ ورک چلا رہا ہے۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے یونیورسٹی اور کالجوں میں منشیات، غیرملکی شراب اور مبینہ طور پر ڈانسنگ پِلز تک فراہم کی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق سرفراز عرف شرفو جو کہ ایک سابقہ ملازم بتایا جاتا ہے، مبینہ طور پر علاقہ غیر کے بڑے ڈیلرز سے رابطے میں ہے اور بھاری مقدار میں منشیات منگوا کر شہر کے مختلف علاقوں قائداعظم کالونی، مقبول کالونی اور کوثر کالونی میں مکانات لے رکھے ہیں جہاں سے منشیات سپلائی کرواتا ہے۔اسی طرح فوت شدہ بھائی داد کے بیٹے بابر، نوید پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر غریب خواتین اور بچوں کے ذریعے آئس اور ہیروئن فروخت کر رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین الزامات اور اطلاعات کے باوجود نہ ہی مقامی پولیس نے مؤثر کارروائی کی ہے اور نہ ہی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس جانب توجہ دی ہے، جس کے باعث یہ مبینہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مبینہ منشیات فروش گروہ کے خلاف فوری، سخت اور مؤثر کارروائی عمل میں لائیں تاکہ شہر اور تعلیمی اداروں کو منشیات کے سنگین خطرے سے محفوظ کیا جا سکے۔







