بہاولپور (رپورٹ: افتخار عارف) بہاولپور کے مختلف تھانوں کی حدود میں منشیات ہیروئن ،آئس ،چرس ،افیون اور شراب فروشی کا دھندہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ سٹی سرکل کے تھانوں سول لائن، کوتوالی اور کینٹ جبکہ صدر سرکل کا تھانہ صدر کی حدود میں منشیات فروشوں کے منظم گروہ ایک مضبوط نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم ہیں۔اطلاعات کے مطابق خواتین اور بچوں کے ذریعے مختلف تعلیمی اداروں اور سٹوڈنٹس ہاسٹلز میں منشیات کی سپلائی کی جا رہی ہے اور منشیات فروشوں کے کئی کارندے جن میں مرد و خواتین شامل ہیں مختلف ہاسٹلز میں مستقل رہائش پذیر ہیں جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی خاموشی نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سپیشل برانچ اور ڈی پی او آفس کی سکیورٹی برانچ بھی اس مضبوط نیٹ ورک کے خلاف انٹیلیجنس بیس پر کارروائیاں کروانے میں بالکل ناکام ہیں۔تھانہ صدر کی حدود میں عباسیہ ٹاؤن میں اکبر، بندرہ پلی میں مدنی و ظفر اور شیرے گینگ کی خواتین جبکہ کہروڑ پکا کا دلاور ہیروئن، آئس اور چرس فروشی میں سرگرم ہیں۔ قائداعظم کالونی میں جاوید عرف گچی مہاجر ہیروئن فروخت کر رہا ہے جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی کا ملازم شمشاد اپنے ساتھی حکیم شاہد کے ذریعے بڑے پیمانے پر ولایتی شراب کا دھندا کر رہا ہے۔ شمشاد کا بھائی سرفراز عرف شرفو اور ایوب بھی اسی کالونی میں منشیات فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔تھانہ صدر کے دیگر علاقوں میں سلطان (سروس سٹیشن والا)، دائود کا بیٹا بابر اپنے کارندوںکے ذریعے ہیروئن، آئس اور چرس فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح چھوٹا بندرہ میں اجّی چنڑ نہ صرف منشیات فروشی میں سرگرم ہے بلکہ اس نے اسلحہ کے زور پر علاقہ مکینوں میں خوف پھیلانے کے لیے ایک گینگ بھی بنا رکھا ہے۔تھانہ کوتوالی کی حدود میں رانا اشرف اور اس کا بیٹا چرس فروخت کر رہے ہیں۔ فتح خان بازار کا معروف منشیات فروش محمد حسین جو افیون فروخت کرتا ہے اور کئی مقدمات میں سزا یافتہ ہےاپنے کارندے عمر کے ذریعے یہ دھندا جاری رکھے ہوئے ہے۔ احمد پوری گیٹ پر تنویر عرف جج افیون اور آئس فروخت کر رہے ہیں جبکہ جج بھنڈی داتا سویٹ کے ساتھ مختلف ہوٹلوں پر کھڑے ہو کر افیون فروخت کرتا ہے۔ اسی علاقے میں بلو ککا کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ آئس کا کاروبار بھی کر رہا ہے۔ڈرائیوری گیٹ میں کالا کمہار چرس فروخت کرنے میں مصروف ہے جبکہ ایمی قصائی اسی علاقے میں شراب کا دھندا کر رہا ہے۔ راجو اور کیفی زنانہ ہسپتال روڈ پر شراب بیچتے ہیںجبکہ شہر کے دو ہومیو ڈاکٹر بھائی اظہر اور مظہر زنانہ ہسپتال روڈ پر ہومیو سٹور کی آڑ میں شراب فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔تھانہ کوتوالی کا علاقہ گڑ منڈی نشئیوں منشیات فروشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے جس سے اہل علاقہ شدید پریشان ہیں۔تھانہ کینٹ کی حدود میں بھٹہ نمبر ایک، بھٹہ نمبر دو اور ڈائیو سٹینڈ کے پیچھے درجنوں لوگ ولایتی شراب کا کاروبار کر رہے ہیں جن میں سرِفہرست رضا، ساغر، اشفاق عرف بلواور شہزاد عرف سنی (جو کہ وکیل کا منشی ہے) شامل ہیں۔ ریڈا بستی اور ملوک شاہ کے ایریا میں آئس ،ہیروئن ،چرس اور افیون کا کاروبار زور وشور سے جاری ہے۔چنگئی پر چکی والا ،دوبئی چوک پر فیصل قریشی کلیم بلا ،راشد ببا ،عنصر عرف اچھی میاں ،اسامہ، شہباز عرف شہبازی اور شکی مہاجر اپنے 15 کے قریب کارندوں کے ذریعے آئس اور ہیروئن کا بڑا نیٹ ورک چلا رہا ہے جبکہ مسیتاں بستی میں بڈو کمیٹی والا اور بستی ملوک شاہ میں منشیات فروش کھلے عام چرس اور دیگر منشیات فروخت کر رہے ہیں۔ اسی علاقے میں بھنگ فروشی کا نیٹ ورک اللہ دتّہ، اے ڈی، امجد اور امجد گونگا چلا رہے ہیں۔بستی آگرا میں فرحان عرف فرہانی، ماجد اور عمیری ڈائیوو اڈے کے پیچھے ڈیرہ عزت میں چرس اور آئس فروخت کر رہے ہیں۔ تھانہ سول لائن کی حدود میں مشہور اور بدنامِ زمانہ لقمان کا بیٹا سنی عرف الو منشیات فروشی میں پیش پیش ہے جبکہ بہاول چوک پر بننے شاہ آئس، ہیروئن اور چرس کا کاروبار کر رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق بہاولپور کے اکثر منشیات فروشوں کو نورپور پُلی کا رہائشی جمشید شاہ عرف وچھے شاہ بڑے پیمانے پر چرس، آئس اور ہیروئن سپلائی کرتا ہے جبکہ اطلات کے مطابق پشاور اور کوئٹہ سے آنے والی کئی اے سی گاڑیاں بھی کئی دہائیوں سے منشیات کی ترسیل میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پورا نیٹ ورک کئی برسوں سے سرگرم ہے لیکن پولیس کی عدم توجہی اور انتظامیہ کی خاموشی نے اس دھندے کو مزید مضبوط بنا دیا ہےجس کے باعث نوجوان نسل تیزی سے منشیات کا شکار ہو رہی ہے اور اب فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔







