ملتان کھاد فیکٹری شہریوں کیلئے “گل گھوٹو” بن گئی، ہزاروں متاثر، قریبی ٹرسٹ ہسپتال کی موجیں

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان کے قریب واقع 51 سالہ پاک عرب فرٹیلائزر فیکٹری اس وقت شہری حدود میں آنے کے بعد لاکھوں لوگوں کی صحت اور روزمرہ زندگی کے لیے ایک شدید مسئلہ بن چکی ہے۔ حسن آباد ،چوک کمہاراں، نیو ملتان، پیراں غائب روڈ، شاہ ٹاؤن، زیڈ ٹاؤن، جہانگیر آباد، متی تل روڈ، بوعہ پور، خانیوال روڈ اور گردونواح کے علاقوں سمیت پاک عرب فرٹیلائزرز عرف کھاد فیکٹری کے گیٹ کے بالکل سامنے واقع این ایف سی یونیورسٹی جہاں 5000 طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں کے علاوہ ملتان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے ہزاروں طلبا و طالبات کے علاوہ حتیٰ کہ ان کا اپنا ٹیکنکل ٹریننگ سنٹر اور متعدد نجی تعلیمی ادارے ہر وقت ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے ہائی الرٹ زون میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کھاد فیکٹری سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور انتہائی زہریلانائٹرک آکسائیڈ شامل ہیں ۔توجہ طلب امر یہ ہے کہ نائٹرک آکسائیڈ کا ایک سانس کچھ سیکنڈ میں ہی انسان کو زندگی سے موت کی طرف دھکیل دیتا ہے اور روزنامہ قوم نے جو ڈیٹا اکٹھا کیا اور معلومات حاصل کیں ان کے مطابق فیکٹری سے اٹھنے والے دھوئیں اور گیسوں کے باعث مقامی آبادی میں کھانسی، دمہ، گلے کی خرابی، الرجی، نزلہ زکام، آنکھوں کی جلن اور انفیکشن جیسے مسائل میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ یہ علامات خاص طور پر سردیوں کے علاوہ شام اور رات کے اوقات میں اس وقت بڑھ جاتی ہیںجب فیکٹری کا اخراج زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نہ فیکٹری انتظامیہ نے اور نہ ہی متعلقہ حکومتی اداروں نے اس مسئلے پر کوئی توجہ دی ہے اور نہ ہی کوئی موثر حفاظتی اقدامات کروائے ہیں۔ حتیٰ کہ کسی بھی قسم کی ایئر کوالٹی مانیٹرنگ ،ہیلتھ سٹڈیز یا ماحولیاتی تحقیق عوام کے سامنے کی ہی نہیں گئی جس سے معلوم کیا جا سکے کہ شہری حلقوں میں داخل ہونے کے بعد فیکٹری کے اخراج نے کتنے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ علاقہ مکینوں کے بقول ہم جہالت میں نہیں رہتے، ہمیں پتا ہے کہ فیکٹری سے نکلنے والی بو اور دھواں عام نہیں۔ مگر کوئی ادارہ ہماری اپیل سننے کو تیار ہی نہیں۔حیران کن امر یہ ہے کہ محکمہ ماحولیات کا مقامی دفتر بھی کھاد فیکٹری کے ہی ڈینجر زون میں موجود ہے اور انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں۔ رہائشیوں کا ایک اور بڑا اعتراض یہ ہے کہ فیکٹری کے بالکل نزدیک ہی فیکٹری سے منسلک ایک نجی اور مہنگا ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ہسپتال بنیادی طور پر انہی بیماریوں کے علاج سے منافع کما رہا ہے جن کا سبب وہ خود فیکٹری بن رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال اخراجات اور منافع کے ایک ایسے چکر کی تصویر پیش کرتی ہے جس میں فیکٹری آلودگی پھیلاتی ہے۔ لوگ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور علاج کے لیے وہ اسی ہسپتال کا رخ کرتے ہیں جہاں ملتان کا مہنگا ترین علاج ہو رہا ہے حالانکہ یہ ٹرسٹ ہسپتال ہے اور اس ٹرسٹ ہسپتال کی تعمیر کے لیے صدر آصف علی زرداری نے اپنے سابق دور میں 2 ارب کی امداد دی تھی۔ سروے کے دوران عوام نے بتایا کہ وہ اپنی ہی جیب سے وہ ادارہ مضبوط کرتے ہیں۔ بیماریوں کی جڑ وہی ہے اگرچہ عوامی دباؤ کے باوجود نہ محکمہ ماحولیات نے کوئی واضح رپورٹ جاری کی ہے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے اس مسئلے پر کوئی سخت ایکشن لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کے بالکل بیچ میں ایک فرٹیلائزر پلانٹ کا مسلسل چلنا خود ایک بڑا سائنسی اور صحت عامہ کا سوال ہے جس پر فوری تحقیق کی ضرورت ہے۔ رہائشیوں نے حکومت اور عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ 1۔ فیکٹری کے اخراج کی شفاف اور آزادانہ مانیٹرنگ کرائی جائے۔ 2۔ ایئر کوالٹی، پانی اور مٹی کی جامع تحقیق کی جائے۔ 3۔ اگر فیکٹری ماحولیات کے معیار پر پورا نہیں اترتی تو اسے شہر سے باہر منتقل کیا جائے۔ 4۔متاثرہ آبادی کے لیے مفت طبی معاونت فراہم کی جائے۔ یہ مسئلہ صرف ایک صنعتی ادارے کی نہیں بلکہ ملتان کے لاکھوں شہریوں کی صحت، ماحول اور مستقبل کی بات ہے۔اور اس لیے جب تک مؤثر حکمت عملی نہیں اپنائی جاتی اس صنعتی دھوئیں سے اٹھنے والا خلا نہ صرف سانسوں کو بلکہ عوام کے زندگیوں کا گلا بھی گھونٹتا رہے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں