بچے کا قاتل مقابلہ میں ہلاک، بدمعاشوں نے ورثا پر زمین تنگ کر دی، علاقہ چھوڑنے پر مجبور

بہاولپور( کرائم سیل) روزنامہ قوم کی خبر 100 فیصد درست ثابت ہو گئی کہ چار سالہ عبدالہادی کے قتل میں ملوث شہباز عرف شبی کے پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے کے بعد ان کے دیگر بھائیوں نے مقتول بچے کے خاندان کا جینا دوبھر کر دیا ہےاور انہیں جان سے مار دینے کا خوف دلا کر علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔اب اہل علاقہ سے معلوم ہوا ہے کہ دھمکیوں اور مزید نقصان کے خوف اور پولیس کی جانب سے عدم تحفظ کے احساس سے والدین علاقہ چھوڑ کر دوسرے شہر منتقل ہو گئے۔ پولیس متاثرین کو تحفظ دینے میں یکسر ناکام رہی۔ اہلِ علاقہ نے ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے شہباز اور شبی کے بھائیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔یاد رہے کہ روزنامہ قوم نے 18 نومبر کو خبر شائع کی تھی کہ چار سالہ عبدالہادی کے قتل میں ملوث شہباز عرف شبو پولیس مقابلے میں ہلاک تو ہو گیا تاہم ان کے دوسرے بھائی، جو جرائم پیشہ ہیں اور بری شہرت رکھتے ہیں، نے اپنے بھائی کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد مقتول بچے کے خاندان کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ “تم نے ہمارے بھائی کو پولیس مقابلے میں مروایا ہے، اب ہم نہ تمہیں یہاں رہنے دیں گے اور نہ ہی چھوڑیں گے۔”متاثرہ خاندان نے میڈیا کے توسط پولیس سے تحفظ کی اپیل کی تھی مگر پولیس اپنے ہی پولیس مقابلے کے بعد ورثا کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہ کر سکی۔ بدمعاش اور بری شہرت کے حامل شبی کے بھائیوں نے ڈرا دھمکاؤ کی پالیسی کے تحت مظلوم خاندان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا، جس کے بعد معلوم ہوا ہے کہ مقتول عبدالہادی کے والد اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ لال سوہانرا کے علاقے کو چھوڑ کر اپنی جان اور عزت کے تحفظ کی خاطر کسی دوسرے شہر منتقل ہو گئے ہیں۔علاقہ مکینوں نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے امن و امان کے لیے خطرناک قرار دیا ہے اور ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی پولیس، تھانہ خیرپور ٹامیوالی کو اس صورتحال پر بھرپور کارروائی کرنی چاہیے۔ اہلِ علاقہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ شبی کے دیگر بھائی نہ صرف جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں بلکہ ان میں سے ایک بھائی پولیس کا ٹاؤٹ بھی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں