بہاولپور: رہائشی مکان، غیر قانونی ہاسٹلز میں تبدیل، حکومتی بے حسی نے انسانی جانیں خطرے میں دھکیل دیں

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ریاض کالونی، بہاولپور یونیورسٹی چوک اور اطراف کے علاقوں میں رہائشی گھروں کو میونسپل کارپوریشن کے عملے اور بلڈنگ انسپکشن سیل کی مبینہ ملی بھگت کے ذریعے غیر قانونی پرائیویٹ ہاسٹلز میں تبدیل کرنے کا منظم کاروبار سرکاری اداروں کی غفلت کے باعث دھڑلے سے جاری ہے۔ درجنوں عمارتیں کسی بھی سرکاری ادارے سے رجسٹریشن، این او سی، کمرشل کنورژن، بلڈنگ اسٹرکچر سیفٹی اور سکیورٹی کلیئرنس لیے بغیر استعمال ہو رہی ہیں، جو نہ صرف پنجاب ہاسٹل ریگولیشن ایکٹ 2023 بلکہ پنجاب بلڈنگ اینڈ زوننگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ابتدائی رپورٹنگ کے مطابق صرف اور صرف ریاض کالونی میں کم از کم 35 سے 50 رہائشی گھروں کو بغیر نقشہ منظوری کے دو سے تین مزید منزلیں تعمیر کرکے کمرشل ہاسٹلز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ متعدد عمارتوں نے اپنی اصل لوڈ بیئرنگ صلاحیت سے دوگنا تعمیرات کی ہوئی ہیں، جو کسی بھی وقت کسی بھی سانحہ کا سبب بن سکتی ہیں۔ کسی بھی ہاسٹل میں فائر الارم سسٹم موجود نہیں نہ فائر ایکسیس کے لئے متبادل راستے ہیں حتہ کہ نہ ہی ایمرجنسی ایگزٹ اور نہ ہی فائر فائٹنگ آلات۔ کئی ہاسٹلز میں گیس چولہے اور الیکٹریکل وائرنگ انتہائی خطرناک حالت میں نصب ہیں اور سلنڈر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جہاں تک سی سی ٹی وی کیمروں کا معاملہ ہے اول تو وہ نصب نہیں یا پھر کام نہیں کر رہے۔ رہائشی طلبہ/طالبات کا نوٹس، شناختی ریکارڈ یا رجسٹری اندراج متعلقہ تھانے میں جمع نہیں کرایا جاتا یہ تمام خلاف ورزیاں پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سیکیورٹی اسٹینڈرڈز کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔لڑکیوں کے ہاسٹلز میں غیر رجسٹرڈ رہائش سیکیورٹی رسک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق علاقے میں کئی گرلز ہاسٹلز ایسے ہیں جن کے کیئر ٹیکرز کا بھی پولیس ویری فکیشن نہی رہائشی لڑکیوں کا ڈیٹا متعلقہ تھانے میں جمع نہیں عمارتوں میں علیحدہ انٹری/ایگزٹ سسٹم نہیں بعض ہاسٹلز کے گردونواح میں غیر متعلقہ افراد کا آزادانہ آنا جانا بھی معمول ہے۔ سیکیورٹی صورتحال خطرے کی سنگین سطح کی نشاندہی کرتی ہے۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کا بلڈنگ انسپیکشن اسٹاف:غیر قانونی تعمیرات اور کمرشل استعمال سے جان بوجھ کر چشم پوشی کر رہا ہے اور بغیر نقشہ منظوری کے تعمیرات پر کسی قسم کی کارروائی نہیں ہو رہی نہ ہیباقاعدہ چیکنگ رپورٹیں تیار کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مالکان متعلقہ محکموں کو ماہانہ ’’رابطہ فیس‘‘ دے کر کارروائیوں کو رکواتے ہیں، جس کی باقاعدہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ پنجاب ہاسٹل ریگولیشن ایکٹ 2023 کے مطابق کسی بھی ہاسٹل کو کھولنے کے لیے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، پولیس کلیئرنس،میونسپل نقشہ منظوری،بلڈنگ اسٹرکچر سیفٹی رپورٹ، سیکیورٹی سسٹم کی تنصیب، سی سی ٹی وی اور ریکارڈ مینٹیننس لازمی ہیں۔ بغیر قانونی کاروائی و منظور شدہ ہاسٹل عمارت نہ رکھنے والے ہاسٹل کو کیا سیل کیا جائے اور ان کے خلاف جرمانہ اور مقدمات درج کیے جائیں مگر ریاض کالونی میں یہ تمام قوانین مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں عمارتوں میں اوورلوڈنگ کے باعث گرنے کا خطرہ بجلی کی غیر معیاری وائرنگ سے آگ لگنے کا خدشہ غیر رجسٹرڈ افراد کی آمدورفت سے سیکیورٹی رسک گندگی اور ناقص صفائی کے باعث صحت عامہ کے مسائل علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی خاموشی کسی بڑے سانحے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔شہریوں، والدین اور سماجی تنظیموں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری، کمشنر بہاولپور اور ڈی پی او سے مطالبہ کیا ہے کہ:غیر قانونی ہاسٹلز کی فوری انسپیکشن بلڈنگ اسٹرکچر کی ٹیکنیکل جانچغیر رجسٹرڈ ہاسٹلز کی سیلنگ ذمہ دار میونسپل اہلکاروں کے خلاف انکوائریگرلز ہاسٹلز کی خصوصی سیکیورٹی ویری فکیشنفوری طور پر عمل میں لایا جائے تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے پہلے صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں