فیصل آباد(بیورورپورٹ)فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں کیمیکل فیکٹری کے اندر بوائلر پھٹنے سے دھماکے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ فیکٹری کے اطراف میں موجود کئی گھروں کی چھتیں بھی گر گئیں۔دھماکے کے باعث فیکٹری سے ملحقہ ایک گھر کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے جبکہ مجموعی طور جاں بحق ہونے والوں میں چھ بچے دو خواتین دو بزرگ اور فیکٹری ملازم شامل ہیں۔علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے لاشوں کو نکالا۔ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید افراد بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، جس کے پیشِ نظر سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
فیصل آباد دھماکے کے بعد ملتان میں خطرناک بوائلرز کی جانچ
ملتان (سٹاف رپورٹر)فیصل آباد میں رہائشی علاقے میں بوائلرپھٹنے کے نتیجے میں 20 انسانی زندگیوں کے نقصان کے بعد ملتان میں بھی انتظامیہ نے بھی سروے شروع کروا دیا ہے کہ کن کن رہائشی علاقوں میں اس قسم کے کارخانے لگے ہوئے ہیں جہاں بوائلر نصب ہیں اور کون سا ادارہ ان کا معیار چیک کرتا ہے کیونکہ سالہا سال سے نصب ان بوائیلرز کی اندرونی طرف زنگ کی وجہ سے چادر کمز ور ہوجاتی ہے مگر کوئی بھی اس طرف توجہ نہیں دیتا لہٰذا جن جن علاقوں میں بھی فیکٹریوں میں بوائلرز نصب ہیں وہ مسلسل خطرے میں ہیں مگر انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی ان کی طرف سرے سے کوئی توجہ ہی نہیں۔گزشتہ سال ملتان میں ایل پی جی کے بائوزر میں دھمکاکے کے بعد شیر شاہ بائی پاس کے علاقوں میں کئی زندگیاں ختم ہوگئیں اور کئی گھر مسمار ہوگئے جس کے بعد چند ہفتے پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے کاروائیاں شروع ہوئیں مگر پھر دوبارہ سے گیس بائوذر سے ایل پی جی کی چوری کا دھندہ عرو ج پر ہے اور متعلقہ تھانے نے پھر سے سہولت کاری پر جت گئے ہیں ۔سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ پھر سے غیر قانونی ری فلنگ اسٹیشن سے منتھلی لیکر سہولت کاری پر لگ چکا ہے اور اگلے کسی سانحے تک چین ہی چین ہے۔اس صورتحال کے حوالے سے روزنامہ’’قوم‘‘ کی طرف سے سول ڈیفنس کے ایک ریٹائرڈ آفیسر سے پوچھا گیا تو انہوں نےہنستے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سروے صرف اور صرف خوفزدہ کرکے پیسے اکٹھے کرنے کیلئے کیے جاتے ہیں اور چند دن بعد لوگ بھی بھول جاتے ہیں اور سروے سے رقوم بھی جمع ہوجاتی ہیں بس ان دنوں بھی اس قسم کی کارروائی ہوگی۔







