پاکستان میں انصاف کا سفر ایک ایسی گلی میں داخل ہو چکا ہے جہاں روشنی کم ہے، سایے گھنے ہیں، اور بے بسی کی آہٹ ہر قدم کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ قید خانوں کی حالت، زیر سماعت قیدیوں کی تعداد، اور عدالتی تاخیر کا جو منظر سامنے آتا ہے، وہ کسی مہذب معاشرے کا نوحہ بھی ہے اور اس کے نظامِ انصاف کی کمزوری کا اعتراف بھی۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہم بار بار چشم پوشی کرتے ہیں، مگر ہر چند ماہ بعد کوئی فیصلہ، کوئی رپورٹ یا کسی مظلوم کی بربادی ہمیں یاد دلا دیتی ہے کہ ہماری عدالتوں کے باہر انصاف کی چوکھٹ پر کتنے انسان اپنی زندگی کا بہترین حصہ برباد کر بیٹھتے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے چند روز قبل دیا گیا فیصلہ، جس میں دو بھائیوں کی سزا کالعدم قرار دی گئی، محض ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ اس پورے نظام پر ایک سنگین سوال ہے۔ یہ دونوں بھائی دو ہزار پانچ کے کراچی پی ڈی سی بم دھماکے کے الزام میں برسوں قید رہے، شہریوں کی نظر میں مجرم شمار ہوئے، اور اپنا مستقبل کھو بیٹھے۔ اب جب اعلیٰ عدالت نے انہیں بری کر دیا ہے، تو اصل سوال یہ ہے کہ ان سے چھینے گئے برس کون لوٹائے گا؟ اور اس انتظار کی قیمت کس کے کھاتے میں لکھی جائے گی؟یہ کوئی پہلی داستان نہیں۔ درجنوں، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں قیدی ایسے ہیں جو زیرِ سماعت ہونے کے باوجود سالہا سال جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا جرم ثابت بھی نہیں ہوا، اور جن پر عائد الزام کی سزا کا دورانیہ ان کی قید سے کئی گنا کم ہوتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی ریاست کے لیے باعثِ شرم ہونی چاہیے۔قومی انسانی حقوق کمیشن، نیشنل اکیڈمی برائے قیدی انتظامی امور اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جیلوں میں چھاسٹھ ہزار کی گنجائش کے مقابلے میں ایک لاکھ دو ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔ ان میں سے تین چوتھائی زیر سماعت ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عدالت نے مجرم نہیں کہا، جن پر ابھی مقدمہ چلنا ہے، اور جن کا جرم ثابت ہونا باقی ہے۔ مگر وہ جیل میں مجرموں جیسی سخت اور اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ہم بطور معاشرہ یہ بھول چکے ہیں کہ زیر سماعت قیدی سزا یافتہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ایسا فرد ہوتا ہے جسے ریاست نے محض ’’الزام‘‘ کی بنیاد پر حبسِ بے جا میں رکھا ہوا ہے۔ یہ بھول جانا ہماری اجتماعی بے حسی کی ایک مثالی علامت ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’’انصاف کی غلطیوں کے شکار افراد‘‘ کی بحالی اور معاوضے کے لیے قانون سازی کریں اور ان اہلکاروں کو بھی جواب دہ ٹھہرائیں جو اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کتنے برسوں سے ہم ایسی سفارشات سنتے آ رہے ہیں؟ اور کتنی مرتبہ ان پر پوری طرح عمل ہوا؟زیر سماعت قیدیوں کے ساتھ جو ہوتا ہے، وہ محض حکومتی بدانتظامی یا عدالتی سستی نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔ جب مقدمے برسوں لٹکے رہتے ہیں، جب پولیس کی ناقص تفتیش معصوموں کو مجرم بنا دیتی ہے، جب وکیل میسر نہیں ہوتے، جب ضمانتیں محض ’’اختیار‘‘ کی دسترس میں آ جاتی ہیں، جب عدالتیں تاریخ پر تاریخ دیتی ہیں، تو قیدی کے اندر امید کا چراغ بجھ جاتا ہے۔ جیل کی تاریکی اس کے ذہن کے اندر اُتر جاتی ہے، اور معاشرہ ایک عام انسان کو ایک ایسا شخص بنا دیتا ہے جو جیل سے نکل کر بھی زندگی میں روشنی نہیں دیکھ سکتا۔یہ عدالتی نظام کا بحران صرف قیدیوں تک محدود نہیں۔ ریاست کے پورے قانونی ڈھانچے میں ایک غیر مرئی دراڑ پیدا ہو چکی ہے جس میں غریب پِس جاتا ہے اور امیر بچ نکلتا ہے۔ زمانتیں، وکیل، اپیلیں، اور قانونی راستے—یہ سب اسی کی پہنچ میں ہیں جس کے پاس وسائل ہوں۔ باقی سب قید خانے کے اندھیروں میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔وہ لوگ جو پہلی بار کسی معمولی جرم میں جیل جاتے ہیں، کئی برس زیر سماعت رہ کر واپس آتے ہیں تو اُن کے اندر وہ سختی، خوف، اور بے گانگی جنم لے چکی ہوتی ہے جو انہیں معاشرتی دھارے میں واپس آنے نہیں دیتی۔ اس طرح جیلیں لوگوں کو مجرم بنانے کے کارخانے بن جاتی ہیں۔سپریم کورٹ نے وقت کی پابندی پر زور دیا—پولیس تفتیش کتنے دنوں میں مکمل ہو، مقدمہ کتنے دنوں میں ختم ہو، فیصلے کی مدت کیا ہو—یہ سب باتیں دہائیوں سے کہی جا رہی ہیں لیکن نقائص آج بھی وہی ہیں۔ ہمیں ایک ایسی عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے جو نظام کی بنیادوں کو تبدیل کرے۔ جیلوں میں اصلاحات، مقدمات کی تیز رفتار سماعت، قانونی معاونت کے نظام میں وسعت، کمزور طبقوں کے لیے خصوصی وکلا، اور متبادل سزاؤں کا استعمال—یہ سب ضروری ہے۔جیلوں کا ہجوم کم کرنا ہوگا۔ دنیا بھر میں زیر سماعت قیدیوں کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال—جیسے برقی آلات سے نگرانی—عام ہو چکا ہے۔ پاکستان میں بھی اس پر غور ہونا چاہیے تاکہ بے جا قید کے بجائے متبادل طریقوں سے سماج کی حفاظت کی جائے اور جیلوں پر بوجھ کم کیا جا سکے۔آخر میں وہ سوال جو سب سے اہم ہے:برسوں بعد بری ہونے والوں کو ملنے والا معاوضہ اُن کی کھوئی جوانی، ٹوٹی ہوئی ساکھ، بکھرے ہوئے خاندان، چھوٹے ہوئے روزگار اور کھوئے ہوئے خوابوں کا کیسے ازالہ کرے گا؟
زندگی واپس تو نہیں آتی۔
وقت پلٹ تو نہیں جاتا۔
داغ دل سے مٹتے بھی نہیں۔
لیکن پھر بھی، معاوضہ ضروری ہے۔
یہ معاوضہ محض رقم نہیں—یہ ریاست کا اعترافِ غلطی ہے۔
یہ زخموں پر مرہم رکھنے کی پہلی کوشش ہے۔
یہ اس حقیقت کا اقرار ہے کہ ریاست نے اپنے ہی شہریوں کو تکلیف دی ہے۔
پاکستان کا نظامِ انصاف ابھی مکمل اصلاح سے بہت دور ہے۔ لیکن جب تک ہم اصلاحات کی جانب قدم نہیں بڑھاتے، جب تک ہم یہ نہیں سمجھتے کہ قیدِ بے جا ریاستی تشدد کی بدترین شکل ہے، جب تک ہم پولیس، عدالت، وکالت، اور قید خانوں کے نظام کو ازسر نو نہیں دیکھتے، تب تک ہر چند ماہ بعد کسی معصوم کی آزادی سلاخوں کے پیچھے ختم ہوتی رہے گی اور عدالتوں کے فیصلے محض کاغذوں کی تسلّی دیں گے۔یہ وقت ہے کہ ہم دیکھیں: کیا ہم واقعی ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف آخری سانسوں پر ہو؟یا ہم ایک ایسا ملک بننا چاہتے ہیں جہاں ہر انسان کی آزادی اور عزت کو مقدم سمجھا جائے؟زیر سماعت قیدیوں کا مسئلہ محض عدالتی تاخیر کا نہیں بلکہ انسانیت کے احترام کا سوال ہے۔ اور ہر وہ قوم جو اپنے کمزور شہریوں کو بھول جائے، وہ تاریخ کے کٹہرے میں ہمیشہ مجرم ٹھہرتی ہے۔







