بزنجو ڈیل میں جن لوگوں نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونا تھا وہ نہ ہو سکے، چیئر مین سینیٹ انتخاب میںبھی ہاتھ،پی ڈی ایم حکومت میں بھی محدود رکھا گیا
طےمعاملات پر عمل نہ ہو سکا،صورتحال اور بار بار کی بد اعتمادی نے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں (ن) لیگ کے ساتھ کسی قسم کی ہتھ جوڑی سے بہت محتاط کر دیا
مسلم لیگ (ن) اور دیگر حلقوں کی طرف سےآصف زرداری کو ایک مرتبہ پھر صدارت کا لالی پاپ، وہ کسی طور پر بھی (ن) پر اعتماد کرنے پر تیا ر نہیں ہیں
پیپلزپارٹی،تحریک انصاف اتحادکیلئے مشترکہ دوست متحرک،عمران خان نے سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے ہونے والی پیشکش پر سنجیدگی سے غورشروع کردیا
بیرسٹر اعتزاز احسن کو بھی لوپ میں لینے کے حوالے سے باتیں:ذرائع ،سینکڑوں سرو یزکے نتائج میں مسلم لیگ( ن )کہیں بھی موثر صورتحال بناتی دکھائی نہیں دیتی
ملتان(میاں غفار سے) مسلسل تیسری دفعہ ہاتھ ہونے کے بعد آصف علی زرداری کے پاس پنجاب میں آئندہ ہونے والے متوقع انتخابات میں واحد راستہ یہی بچا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیں اور باوثوق ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لئے مشترکہ دوستوں نے کوششیں شرو ع کر رکھی ہیں جبکہ انہی ذرائع کے مطا بق عمران خان نے سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے ہونے والی اس پیشکش پر سنجیدگی سے غورشروع کردیاہے ۔مسلم لیگ (ن) اور دیگر حلقوں کی طرف سے زرداری کو ایک مرتبہ پھر صدارت کا لالی پاپ دیا گیا ہے جبکہ انہی ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کا موقف ہے کہ ان کے ساتھ اس سے پہلے تین مرتبہ وعدہ خلافی ہو چکی ہے جس کی وجہ سے اب ان کیلئے اعتماد کرنا بظاہر مشکل ہو گا کیونکہ بزنجو ڈیل میں جن لوگوں نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونا تھا وہ نہ ہو سکے اور ہاتھ کر گئے پھر چیئر مین سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہاتھ ہو گیا اور تیسری مرتبہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت میں بھی پیپلز پارٹی کو محدود رکھا گیا کیونکہ جو معاملات طے کئے گئے تھے ان پر عمل نہ ہو سکا۔ اس صورتحال اور بار بار کی بد اعتمادی نے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کسی قسم کی ہتھ جوڑی کے حوالے سے بہت محتاط کر دیا ہے اور اب وہ کسی طور پر بھی مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کرنے پر تیا ر نہیں اس صورتحال میں ان کے پاس واحد راستہ پنجاب میں پی ٹی آئی سے محدود اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہی رہ جا تا ہے جس کے لئے سردار لطیف کھوسہ کی کوششیں جاری ہیں اور ذرائع کے مطا بق اس میں بیرسٹر اعتزاز احسن کو بھی لوپ میں لینے کے حوالے سے باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ابھی تک جو سینکڑوں سروے ہوئے ہیں ان کے نتائج میں مسلم لیگ( ن )کہیں بھی موثر صورتحال بناتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ ان تمام رپورٹس کے مطابق پنجاب اور کے پی کے میں انتخابی نتائج بہت ہی حیران کن ہو سکتے ہیں جس کے اثرات امن و امان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔







