ملتان ایئرپورٹ، کروڑوں روپے کے موبائل اور شراب سمگلنگ میں کلرک ملوث

ملتان (وقائع نگار) ڈپٹی کلکٹر کے چہیتے کلرک نے ملتان ایئرپورٹ سے پکڑے جانے والے کروڑوں روپے کے موبائل فونز اور شراب سمگلروں کو واپس کر دی امپورٹڈ موبائلز کی جگہ چائنیز ڈمی موبائل رکھ کر خانہ پری کر دی گئی۔ عوامی و سماجی حلقوں کا ایئرپورٹ ویئر ہاؤس کا آڈٹ کروانے کا مطالبہ تفصیل کے مطابق ڈپٹی کلکٹر قرۃ العین نے گزشتہ ایک سال کے دوران پکڑے جانے والے کروڑوں روپے کے موبائل فونز ، سینٹرم ادویات ، انجکشن اور دیگر نان کسٹم پیڈ امپورٹڈ اشیاء جو ایئرپورٹ گرل ویئر ہاؤس میں پڑی ہوئی تھیں اس کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ڈپٹی کلکٹر کسٹم نے ملتان ایئرپورٹ پر تعیناتی کے فورا بعد اپنے چہیتے یو ڈی سی کلرک حیدر عباس کو ائیرپورٹ گرل ویئر ہاؤس کا انچارج بنا دیا حالانکہ پاکستان کے کسی بھی ائیرپورٹ کلرک کو انچارج نہیں بنایا گیا ماضی میں بھی ملتان ایئرپورٹ کا گرل ویئر ہاؤس کا انچارج سپرنٹنڈنٹ یا انسپکٹر ہوتا تھا کلرک حیدر نے ایئرپورٹ گرل ویئر ہاؤس کا انچارج بنتے ہی سمگلروں سے رابطہ کر کے آدھی قیمت پر 80 فیصد امپورٹڈ موبائلز واپس کر کے ان کی جگہ چائنہ کے ڈمی موبائل رکھ دیے اسی طرح شراب کی بوتلیں بھی رئیس زادوں کو دے کر ان سے خالی بوتلیں واپس منگوا کر ان میں چائے کی پتی کا پانی بھر کر رکھ دیا گیا جبکہ مہنگی سینٹرم میڈیسن کی جگہ بھی دو نمبر ادویات رکھ کر خانہ پری کر دی گئی اس طرح ایک سے دو ماہ میں کروڑوں روپے کی دیہاڑی لگائی اس حوالے سے جب کچھ کسٹم انسپکٹرز نے اعلی افسران کو بتانے کی کوشش کی تو ان کا ٹرانسفر کر دیا گیا جبکہ باقی افسران ان کے تبادلے کی وجہ سے خاموش ہو گئے اس حوالے سے جب ڈپٹی کلکٹر قرۃ العین رامے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کے الزامات ہر دور میں لگتے رہتے ہیں جن میں کوئی سچائی نہیں ہوتی ایک جونیئر کلرک کو گرل ویئر ہاؤس کا انچارج اسی لیے بنایا گیا ہے کہ ملتان ایئرپورٹ پر سینئر افسران کی کمی ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں