مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ)مظفرگڑھ — ضلع کونسل کے اندرونی ذرائع کے مطابق ناظر راشد شیروانی کے زیر استعمال آٹھ گاڑیاں، متعدد جائیدادیں، کاروباری سرمایہ کاری اور کیٹل فارم کا تفصیلی ریکارڈ حاصل ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ اثاثے بظاہر رشتہ داروں یا دیگر افراد کے نام رجسٹرڈ ہیں، تاہم اصل کنٹرول اور روزانہ کے استعمال کا اختیار ناظر کے پاس ہے۔ذرائع کے مطابق ناظر راشد شیروانی کے خاندانی پس منظر میں والد افتخار احمد شیروانی، بڑا بھائی سہیل شیروانی شامل ہیں اور رہائش نئی آبادی تلکوٹ و گرد و نواح میں ہے۔ناظر کے پاس تقریباً 8 کرایہ کے مکان، پاکستان الیکٹرونکس میں تقریباً 10 کروڑ کی سرمایہ کاری، ڈی ایچ اے ملتان ایف بلاک میں ایک کنال پلاٹ اور کیٹل فارم بھی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ناظر ہر سال اپنی فیملی کو عمرہ بھیجتا ہے لیکن خود دفتر سے چھٹی نہیں لیتا۔ گاڑیوں کی تفصیل:1. Toyota Grande, 2024 – AST-920 (مالک: سجاد احمد)2. Honda City, 2023 – ALK-920 (مالک: خالد محمود ولد افتخار خان)3. Honda N-One – ALB-920 (مالک: ڈیٹا ناٹ فاؤنڈ)4. Honda Civic, 2018 – Islamabad ALU-413 (مالک: بینک آف پنجاب)5. Toyota GLi, 2017 – MNB-455 (مالک: توقیر خالد ولد خالد محمود)6. Toyota GLi, 2016 – LEF-5887 (مالک: افتخار احمد ولد مہندی خان)7. Suzuki Cultus, 2021 – AAW-197 (مالک: خالد محمود ولد افتخار)8. Suzuki Bolan, 2019 – MN-534 (مالک: ڈیٹا ناٹ فاؤنڈ) ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں مختلف افراد کے نام پر ہیں، مگر روزمرہ استعمال اور کنٹرول مکمل طور پر ناظر کے پاس ہے۔کچھ گاڑیوں اور جائیدادوں کا ریکارڈ ابھی ادھورا ہے، جس پر مزید انکوائری متوقع ہے۔ناظر راشد شیروانی سے مؤقف لینے کے لیے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ذرائع کے مطابق رابطہ ہونے کے باوجود وہ مؤقف دینے سے گریز کرتے رہے اور بعد میں خاموش ہو گئے۔مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے خبر میں شامل کیا جائے گا۔







