بہاولپور: معصوم عبدالہادی کے اغوا و قتل کا مرکزی ملزم شہباز عرف شبی مقابلے میں پار

بہاولپور (کرائم سیل) ڈی پی او بہاولپور حسن اقبال کی سربراہی میں پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف تابڑ توڑ کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے،چار سالہ عبدالہادی کے لرزہ خیز اغوا و قتل کا مرکزی ملزم شہباز عرف شبی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔عوامی و سماجی حلقوں کا پولیس کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان۔ تفصیلات کے مطابق بہاولپور پولیس نے چار سالہ معصوم عبدالہادی کے اندوہناک اغوا و قتل کیس میں برق رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم شہباز عرف شبی کا انجام کر دیا۔ بچے کے اغوا، قتل اور ملزم کے فرار کی کوشش کے بعد کیس کا ڈراپ سین گزشتہ روز سامنے آیا جب ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ 14 نومبرکو چار سالہ عبدالہادی گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا مگر واپس نہ آیا۔ بچے کی گمشدگی پر والدین نے فوراً متعلقہ پولیس کو اطلاع دی جس پر تھانہ خیرپور ٹامیوالی اور عباس نگر پولیس نے مشترکہ طور پر فوری سرچ آپریشن شروع کر دیا، مساجد میں اعلانات کروائے گئے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بچے کی تلاش کی مہم چلائی گئی۔بچے کے ورثا نے شبہ ظاہر کیا کہ علاقہ مکین شہباز عرف شبی اس واردات میں ملوث ہو سکتا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق شہباز اور اس کے تین بھائی علاقے میں بدنام تھے۔چھوٹی موٹی چوریاں، بکریاں اٹھانا، گھروں میں گھس کر سامان چرانا انکامعمول تھا۔ پولیس آئے دن ان کی تلاش میں رہتی تھی۔تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم بچے کو بہلا کر قبرستان کی طرف لے گیا، وہاں اس کا گلا گھونٹا اور لاش جنگل میں درختوں کے نیچے پھینک دی۔ورثا کے مطابق پولیس نے رات ڈیڑھ بجے اہل خانہ کو ساتھ لے جا کر عبدالہادی کی لاش برآمد کرائی۔گزشتہ روز خیرپور ٹامیوالی پولیس ملزم کو آلۂ قتل برآمد کرنے کے لیے لے جا رہی تھی کہ راستے میں اچانک گھات لگائے مسلح ساتھیوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ کے بعد جب دھواں چھٹا توملزم شہباز عرف شبی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک پایا گیا۔ملزم کے ساتھی موقع سے فرار ہوگئے جن کی تلاش کے لیے پولیس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔بہاولپور کے عوامی و سماجی حلقوں نے بچے کے اندوہناک قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی بروقت کارروائی کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔ شہریوں نے کہا کہ پولیس نے نہ صرف ملزم تک رسائی حاصل کی بلکہ کیس کو چند گھنٹوں میں منطقی انجام تک پہنچایا۔ورثا کا کہنا ہے کہ ملزم کے دیگر ساتھی مسلسل انہیں دھمکا رہے ہیں کہ تمہیں علاقے میں رہنے نہیں دیں گے۔اہل علاقہ نے مقامی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ورثا کی مکمل سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں