اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور دیگر حکومتی اراکین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے کی توثیق پر ووٹنگ سے قبل فلسطینی ریاست کو قبول کرنے سے ایک بار پھر انکار کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کی روشنی میں تیار کی گئی ہے، جس میں غزہ میں ایک عبوری انتظامیہ اور عارضی بین الاقوامی سیکورٹی فورس کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔
تازہ ترین مسودہ پچھلے ورژنز سے مختلف ہے کیونکہ اس میں ممکنہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا ذکر شامل کیا گیا ہے، جس کے قیام کے حق میں اسرائیلی حکومت سخت مخالفت کرتی ہے۔
اسرائیلی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں نیتن یاہو نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کے حوالے سے ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام حماس کو فائدہ پہنچائے گا اور اسرائیل کی سرحدوں کے قریب ایک اور بڑا سیاسی ادارہ قائم ہونے کا باعث بنے گا، جس کی نگرانی حماس کرے گی۔







