بہاولپور (کرائم سیل) منتشہ بی بی گمشدگی کیس میں بہاولپور کے سکولوں میں سکیورٹی آرڈیننس 2015 کی سنگین بے ضابطگیاں کھل کر سامنے آگئیں۔ سکیورٹی انتظامات و احکامات کاغذی ثابت۔ سکیورٹی آرڈیننس 2015 پر عدم عمل درآمد کے باوجود ابھی تک کسی ذمہ دار کا تعین نہ ہو سکا۔شہریوں کا پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے بہاولپور کے سکولوں پر سکیورٹی آرڈیننس 2015 پر عمل درامد کروانے کا مطالبہ۔چھ سالہ منتشہ بی بی کے گمشدگی کے ڈراپ سین نے جہاں والدین کی بے پناہ اذیت اور کرب کو بے نقاب کیا وہیں پر بہاولپور کے سکولوں میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات اور Punjab Security of Vulnerable Establishments Ordinance, 2015 کی خلاف ورزی کو بھی سامنے لے آیا۔منتشہ بی بی چند روز کے لیے والدین سے دور رہی،یہ دردناک حقیقت والدین ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ اس دوران پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے میں قصور وار کی نشاندہی یا کسی کو سزا دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔واضح رہے کہ پنجاب سکیورٹی آرڈیننس 2015 کے تحت ہر تعلیمی ادارے کے لیے لازمی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے CCTV کیمرے، واک تھرو گیٹس، سکیورٹی الارمز، بائیومیٹرک سسٹم اور تربیت یافتہ سکیورٹی عملہ فراہم کرے۔ لیکن بہاولپور کے متعدد سکولوں میں یہ انتظامات یا تو مکمل نہیں ہیں یا صرف ظاہری طور پر موجود ہیںجو آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس ناکام انتظامات کی وجہ سے ہی ایک معمولی واقعہ بڑے حادثے کی شکل اختیار کر گیا اور والدین و بچوں کو ناقابل بیان ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ شہری، سماجی اور کاروباری حلقے اب اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ آرڈیننس 2015 پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات نہ ہوں اور ہمارے بچے محفوظ رہیں۔ماہرین اور سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سکولوں میں آرڈیننس کے مطابق تمام سیکیورٹی انتظامات موجود ہوں تو نہ صرف بچوں کی حفاظت ممکن ہے بلکہ والدین کو ذہنی سکون بھی حاصل ہوگا۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع انتظامیہ اور پولیس فوری طور پر سکولوں کا معائنہ کریں، خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں اور آرڈیننس کی شقوں کو مکمل طور پر نافذ کریں۔منتشہ بی بی کیس نے واضح کر دیا ہے کہ صرف قانون موجود ہونے سے کام نہیں چلتا، بلکہ اس پر بروقت عملدرآمد اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ شہری، والدین اور سماجی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سیکیورٹی آرڈیننس 2015 پر سختی سے عمل کرانا ضروری ہے۔یاد رہے کہ دس نومبر کو چھ سات سالہ منتشہ بی بی سکول پڑھنے کے لیے گئی مگر وہاں سے گھر واپس نہ ائی پولیس نے مقدمہ درج کیا مگر والدین کے مطابق دو دن تک کسی قسم کی کوئی عملی کوشش نہ کی گئی روزنامہ قوم کے مسئلہ اجاگر کرنے پر ڈی پی او بہاولپور نے جے ائی ٹی تشکیل دی سی سی ڈی کی معاونت سے انہوں نے بچی کی تلاش شروع کی جمعہ کے روز عظیم پورہ بستی کی ایک خاتون نے بچی کے والد محمد عقیل کو فون کر کے بتایا کہ اپ کی بچی میرے پاس ہے سی سی ڈی اور مقامی پولیس موقع پر پہنچی پولیس نے بچی کو اپنی تحویل میں لے کر ڈی ایس پی صدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے تمام تر صورتحال سے میڈیا کو بریف کیا اور سکول انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے معاملات پہ انہیں انتظامات اچھے کرنے کا کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی۔اس سارے واقعے کے بعد ابھی تک کسی قصور وار کا تعین نہ کیا جاسکا ہے۔سیکیورٹی ارڈیننس 2015 پر عمل درآمد کروانے کے لیے بہاولپور کے شہریوں کا مطالبہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے۔







