سلوگن جاندار… انسانیت شرمسار

کہتے ہیں کہ کسی ملک کی اشرافیہ اور طاقتور طبقے کی اخلاقی تربیت کے معیار کو جانچنے کا مستند پیمانہ اس ملک کی جیلوں اور معذور افراد کو دی جانے والی سہولیات ہیں۔ ہماری جیلوں کے حالات سے تو ہر کوئی واقف ہے کہ ڈھکی چھپی بات ہی نہیںمگر ہمارے ہاں سپیشل لوگوں کے ساتھ بھی انتہائی ناروا سلوک معمول کا عمل ہے۔ اول تو ملتان میں سوئی ناردرن گیس کمپنی کا ریجنل آفس پیراں غائب روڈ پر شہر سے کافی باہر ہے اور دوسرے نمبر پر وہاں جانے کے لیے کوئی باقاعدہ ٹرانسپورٹ بھی میسر نہیں۔ سوئی گیس کے دفتر میں گیس کنکشن لگوانے کے لیے ’’نہ قطار نہ انتظار‘‘کے سلوگن کے سامنے وہیل چیئر پر بیٹھی یہ بچی سوئی گیس کے کنکشن کے لیے کئی ہفتوں سے پیراں غائب روڈ کے ریجنل آفس میں دھکے کھا رہی ہے مگر کسی’’صاحب نظر‘‘کی نظر اس پر نہیں پڑی۔ ویسے بھی ہماری اشرافیہ میں’’صاحب نظر‘‘ ہوتے ہی کہاں ہیں اور ہو ںبھی تو ان کی نظر عوام کے چہرے نہیں بلکہ جیبیں ٹٹولتی ہیں، پھر ایسی صورتحال میں اس سپیشل بچی کے معصوم چہرے پر لکھی انتظار کے کرب اور اذیت پر مشتمل تحریر پڑھنے کی کسی آفیسر کو زحمت ہی کیوں ہو۔ علامہ اقبال نے تو کہا تھا،درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو، ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں۔۔ ۔۔۔ مگر شاید پاکستان میں زیادہ تر لوگ درد دل بانٹنے کے لیے نہیں ہاں البتہ دینے کے لیے ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں