
کروایا گیا دھوکہ دہی پر مبنی بیان حلفی،نیچےوالی تصویر میں میٹرک کے داخلہ فارم سال 1982 کا عکس
ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی، ناجائز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا پرائیویٹ کالج کا جعلی تجربہ بنوا کر پروفیسر بننے کے بعد انہی کی جانب سے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان میں میٹرک کی سند پر تاریخ پیدائش کی تبدیلی کے حوالے سے دھوکہ دہی بھی سامنے آ گئی ہے۔ملتان بورڈ کے قوانین کے چیپٹر 3،سیکشن 5.5 میں صاف واضح ہے کہ میٹرک کی سند پر تاریخ پیدائش 15 سال کے اندر تبدیل کروائی جا سکتی ہے اور 5.6 میں واضح ہے کہ گورنمنٹ جاب جوائن کرنے کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل نہیں کروائی جا سکتی۔ خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی کاریگر وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے ملتان بورڈ میں جو پچھلی تاریخوں میں 2 نمبر بیان حلفی جمع کروایا گیا وہ روزنامہ قوم نے حاصل کر لیا اور اس کا متن کچھ یوں ہے’’منکہ مسمات کلثوم پراچہ دختر محمد خالد پراچہ سکنہ سلطان آباد گلگشت کالونی تحصیل و ضلع ملتان شناختی کارڈ نمبر *1۔ من مظہر بیان کرتی ہوں کہ مظہرہ کی تاریخ پیدائش سکول کے ریکارڈ میں 09-06-1968 ہے لیکن مظہرہ کی میٹرک کی سند پر غلطی سے 15-11-1966 اور شناختی کارڈ پر بھی 15-11-1966 درج ہو گئی ہے جس کی مظہرہ اب درستگی کرانا چاہتی ہے۔ مظہرہ کوئی وفاقی یا صوبائی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے کی ملازم نہ ہے اور نہ رہی ہے۔ 2۔من مظہرہ بیان کرتی ہوں کہ مظہرہ اب اپنے سکول کے ریکارڈ کے مطابق تاریخ پیدائش 9-6-1968 سند پر اور شناختی کارڈ پر درج کرانا چاہتی ہے\۔3۔ من مظہرہ نے میٹرک رول نمبر 16633 سے سالانہ 1982 میں پاس کیا ہے اور یہ کہ مظہرہ متعلقہ ادارے کے قوانین و ضوابط کی پابند رہے گی یہ کہ بیان بالا میرے علم و یقین کے مطابق درست تسلیم ہے جس میں کوئی امر مخفی اور پوشیدہ نہ رکھا گیا ہے جبکہ حیران کن طور پر جس وقت تاریخ پیدائش تبدیل کی گئی اس وقت ڈاکٹر کلثوم پراچہ خواتین یونیورسٹی میں ریسرچ اسسٹنٹ کے عہدے پر فائز تھیں۔ حیران کن طور پر روزنامہ قوم نے 1982 میں جمع کروائے گئے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی میٹرک کے رجسٹریشن فارم کی کاپی حاصل کر لی ہے جس پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے بذات خود اپنی تاریخ پیدائش 15-11-1964 تحریر کیا اور اسی فارم کے آخر میں بیان حلفی تحریر کیا جس کا متن کچھ یوں ہے’’میں حلفیہ بیان کرتی ہوں کہ میں نے یہ داخلہ فارم اپنی مرضی اور اپنے ہاتھ سے تحریر کیا ہے اور اس میں درج کردہ کوائف صحیح ہیں۔‘‘ چنانچہ 15-11-1964 کی تاریخ پیدائش کے مطابق غیر قانونی و ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو اس وقت اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے 1 سال کا عرصہ گزر چکا ہے جبکہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا کچھ مفادات کی خاطر خواتین یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قبضہ برقرار رکھوانا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جیسے اہم اور انتظامی ادارے اور اس میں بیٹھے چند نا اہل افسران کی نا اہلی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس بارے میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں خواتین یونیورسٹی ملتان کو ڈیل کرنے والی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر صائمہ انور دھمیال کو ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا 1982 کا رجسٹریشن فارم، تاریخ پیدائش میں تبدیلی کا جھوٹا بیان حلفی اور خبر بھیج کر موقف لیا گیا تو انہوں نے حسب سابق کوئی جواب نہ دیا۔ اگر اس نوعیت کے سنجیدہ معاملات پر خبر سامنے آئے اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے بروقت جواب تک نہ ملے تو یہ صورتِ حال یقینی طور پر انتظامی سستی اور کمزور گورننس کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے معاملات میں شفافیت بنیادی شرط ہوتی ہے، اور اس شفافیت کو یقینی بنانا حکومت اور HED کی اولین ذمہ داری ہے۔ جو معاملات براہِ راست ریکارڈ کی درستگی، تعیناتی کے ضوابط اور سرکاری قواعد سے متعلق ہوںان پر خاموشی یا تاخیر نہ صرف بداعتمادی کو جنم دیتی ہے بلکہ پورے نظام کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا یہ رویہ کہ سنگین نوعیت کے سوالات پر بھی واضح جواب نہ دیا جائے، اس امر کی علامت ہے کہ محکمے کے اندر فیصلہ سازی کی رفتار سست، نگرانی کمزور اور شکایات کے ازالے کا نظام غیر مؤثر ہے۔ اگر ایسے ایشوز پر فوری اور غیر جانبدارانہ جانچ نہ کی جائے تو یہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی ڈھانچے پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس خبر کے بارے میں موقف کے لیے 1964 تاریخ پیدائش کے مطابق 2024 میں ریٹائر ہو کر غیر قانونی قابض رہنے والی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حسب معمول کوئی جواب نہ دیا۔
ممبرسٹینڈنگ کمیٹی ہائرایجوکیشن کا وی سی اورایچ ای ڈی افسران کو بلانےکا اعلان
ملتان (سٹاف رپورٹر ) سٹینڈنگ کمیٹی ہائر ایجوکیشن کے ممبر چوہدری امجد علی جاوید نے ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی 3 تاریخ پیدائش والے معاملے اور جعلی تجربے کی بابت دھوکہ دہی کے معاملے اور ایک سال پہلے ریٹائر ہو جانے والی پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو عارضی وائس چانسلر کے عہدے پر براجمان رہنے اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد غیر قانونی قبضے کی بابت معاملے کو سٹینڈنگ کمیٹی میں لے جا کر غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے افسران کو سٹینڈنگ کمیٹی میں بلانے کا اعلان کیا ہے۔چوہدری امجد علی جاوید نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن میں اٹھائیں گے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ ساتھ پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران کو بھی کمیٹی میں طلب کیا جائے گا تاکہ اس کیس کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔ یہ اقدام چوہدری امجد علی جاوید کے ان پچھلے اقدامات کی کڑی ہے، جن میں انہوں نے ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کے خلاف بھی سٹینڈنگ کمیٹی میں کیس لے جانے کے ذریعے یونیورسٹی میں شفافیت اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ چوہدری امجد علی جاوید کی قیادت میں یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ تعلیمی اداروں میں غیر قانونی تعیناتیاں اور بے ضابطگیوں کے خلاف بلا خوف و خطر آواز بلند کر رہے ہیں اور ہر معاملے کو شفافیت کے ساتھ حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔







