ملتان (وقائع نگار) ملتان شہر میں ڈینگی کی صور تحا ل تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہےجہاں نشتر ہسپتال (نشتر ون) پر مریضوں کا شدید بوجھ بڑھ چکا ہے۔ حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے بعد مچھروں کی افزائش نے وبائی امراض کو ہوا دی ہے اور اب ہسپتالوں میں جگہ کی کمی، ٹیسٹنگ میں تاخیر اور وسائل کی کمی کی شکایات عام ہیں۔ ماہرین صحت اور شہریوں کا کہنا ہے کہ نشتر ٹو ہسپتال کو ڈینگی مریضوں کے لیے استعمال نہ کرنے سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں نشتر ہسپتال میں ڈینگی کے شبہ میں 29 نئے مریض داخل ہوئےجن میں سے 12 کی رپورٹس مثبت آئیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے ڈینگی وارڈ میں 30 اضافی بیڈز شامل کر کے کل تعداد 70 تک پہنچا دی ہے، تاہم مریضوں کی آمد جاری ہے اور اب تک شہر بھر میں 92 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی طبی درسگاہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں علاج کی سہولیات کی کمی اور ‘انڈر رپورٹنگ کے الزامات بھی لگ رہے ہیںجہاں وائس چانسلر کی توجہ مبینہ طور پر تنظیمی سیاست پر مرکوز ہے۔شہریوں اور صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کم ہونے کے فوراً بعد ہی اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مچھروں کی وجہ سے ڈینگی جیسی وبائیں پھیل سکتی ہیں اور وہی ہوا۔ ملتان میں ڈینگی عذاب بنتا جا رہا ہے۔ انتظامیہ، محکمہ صحت والے تا حال خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر ثوبان ضیاء اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں جبکہ ملتان میں ڈینگی کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ نشتر ہسپتال ڈینگی مریضوں سے بھرتا جا رہا ہےاور سپرے کرنے والے ورکرز کو ایک سال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ایک ماہ میں نشتر ہسپتال میں 48 ڈینگی پازیٹو مریض رپورٹ ہو چکے، جبکہ 200 سے زائد شبہ مند مریض داخل ہیں، اور متعدد علاقوں میں ڈینگی سپرے بھی نہیں ہو رہا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چند علاقوں میں صرف دکھاوے کے لیے سپرے کیا جا رہا ہےسب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نشتر ٹو ہسپتال، جو نشتر ون پر بوجھ کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اسے ڈینگی مریضوں کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا؟ جلال پور پیروالہ اور شجاع آباد جیسے قریبی علاقوں سے شبہ میں مریضوں کو نشتر ون ریفر کیا جا رہا ہےکیونکہ نشتر ٹو میں PCR ٹیسٹ کی سہولت مبینہ طور پر دستیاب نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی شبہ میں فوری PCR کی ضرورت تو ہو سکتی ہے لیکن مریض کو ریفر کرنے کی بجائے صرف سیمپلز نشتر ون کی لیبارٹری بھیجے جائیں۔ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا: “نشتر ٹو میں 50 بیڈز مختص کر کے الگ آئسولیشن وارڈ قائم کیا جائے تو مریضوں کا بوجھ تقسیم ہو جائے گا۔ وسائل محدود ہیں، اور غریب مریض پہلے ہی بیماری اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اگر نشتر ون والوں کو بددعائیں مل رہی ہیں تو انتظامیہ ذمہ دار ہے۔” ساؤتھ سٹی ہسپتال بھی ڈینگی مریضوں کے اعداد و شمار دینے سے قاصر ہے اور علاج کی کوئی خاص سہولت نہیں ہےصحت محکمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈینگی کیسز میں اضافہ ہوا ہے، لیکن صورتحال قابو میں ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں نشتر ہسپتال میں ڈینگی کی تیاری کا جائزہ لیا گیا، جہاں اینٹی ڈینگی ٹیموں نے 3,989 مقامات کا سروے کیا۔ صرف ایک ہفتے میں دوسری بار ڈینگی وارڈ میں بیڈز بڑھانا پڑے، اور 48 گھنٹوں میں 100 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے صحت کے ماہرین اور شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فوری نوٹس لے اور نشتر ٹو میں ڈینگی شبہ میں مریضوں کے لیے الگ آئسولیشن وارڈ قائم کرے۔ اس سے نشتر ون پر بلاوجہ منتقلی روک دی جائے گی اور مریضوں کو فائدہ ہوگا۔ ضلعی ہیلتھ آفیسر کو خط لکھا گیا ہے کہ PCR سیمپلز کی سہولت نشتر ٹو میں بھی دستیاب کی جائے اور سپرے مہم کو تیز کیا جائے۔ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آف ملتان کے صدر نے کہا: “یہ وقت سیاسی تنقید کا نہیں، بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اگر نشتر ٹو کو استعمال کیا جائے تو غریب مریضوں کو کم از کم سانس لینے کا موقع ملے گا۔۔ملتان کی یہ صورتحال جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کے لیے بھی وارننگ ہے۔ کیا انتظامیہ سنے گی، یا ڈینگی کا طوفان مزید تباہی لائے گا؟ یہ سوال شہریوں کے ذہنوں میں گونج رہا ہے۔







