خان پور ( خبر نگار ) خان پور میں مبینہ طور پر خلیل کالونی میں قتل ہونے والی دو خواتین کا مقدمہ تھانہ سٹی میں درج کر لیا گیا لیکن اس میں کاروکاری کی دفعات نہیں ڈالی گئی جنہوں نے قتل کیا وہی اس کے مدعی بن گئے۔ تفصیلات کے مطابق خانپور میں دن دہاڑے دو خواتین سحر اور مشعل نامی خواتین کو جو کہ شادی شدہ خواتین تھیں قتل کر دیا گیا ۔پہلے یہ خبر چلی کہ انہیں نامعلوم افراد نے قتل کیا ہے بعد میں جب علاقے میں یہ خبریں گردش کرنے لگ گئیں کہ یہ ورثانے خود قتل کیا ہے تو اس کے بعد قاتل کا باپ مدعی بن گیا اور مدعی بننے کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کی گرفتاری دلوا دی اور تین چار افراد کو نامعلوم رکھا لیکن عینی شاہدین کے مطابق یہ قتل کرنے میں ایک خاتون،تین نامعلوم افراد اور چوتھا وہ خود عبداللہ نامی شخص شامل ہے ۔جنہوں نے باقاعدہ پلاننگ کر کے یہ قتل کروایا اور اس قتل میں ایک لڑکی بھی شامل ہے اور دیگر افراد بھی شامل ہیں جن کو ابھی تک پولیس نے گرفتار نہیں کیا۔ مبینہ طور پر اس قتل کی پہلے پلاننگ کی گئی جس میں مختلف افراد کو پیسے دیئے گئے اور اس میں پولیس کو بھی پیسے دیئے گئے اور قتل کے فوری بعد یہ خبر چلا دی گئی کہ یہ نامعلوم افراد نے قتل کیا ہے لیکن بعد میں جب محلے داروں نے بتایا کہ یہاں سے ہم نے قاتل کو جاتے ہوئے دیکھا ہے جو کہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا اور ایک لڑکی بھی آئی تھی جس نے برقع پہن رکھا تھا جس کی بنیاد پر پولیس نے قاتل عبداللہ کو گرفتار کیا لیکن اس قتل میں ملوث دیگر افراد کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ اس قتل کے پیسے خود پولیس پہلے لے چکی تھی اس میں قاتل گینگ کے افراد بھی شامل ہیں۔ اہلیان علاقہ خان پور محمد ناصر ،حفیظ محمد علی ،جواد علی و دیگر نے آئی جی پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل میں کاروکاری کی دفعات لگائی جائیں، حکومت خود مدعی بنے اور اس قتل میں ملوث دیگر افراد جو اس سازش میں شریک تھے یا موقع پر قتل کرنے ساتھ آئے تھے ان افراد کو بھی گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزائیں دی جائے۔







