بہاولپور (کرائم سیل) اساتذہ کے تشدد کا خوف یا کوئی اور وجہ؟ چھ سالہ منتشاہ بی بی سکول پڑھنے کے لیے گئی؛ اس کا بستہ تو واپس مل گیا مگر تین روز گزر جانے کے باوجود ابھی تک بچی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ تھانہ صدر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا مگر سکول کے سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر ذرائع سے کوئی ٹھوس شواہد حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہ ہوسکی۔ والدین غم سے نڈھال، سکول انتظامیہ پر غفلت اور نامکمل سیکیورٹی انتظامات کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ڈی پی او بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ریلوے اسٹیشن مسلم ٹاؤن کے رہائشی محمد عقیل نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ دس نومبر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے میری بیٹی دوسرے بچوں کے ساتھ اظہر پبلک سکول پڑھنے کے لیے گئی۔ سکول انتظامیہ نے مجھے نو بجے فون کر کے بتایا کہ آپ کی بچی سکول نہیں پہنچی اور اس کا بستہ میرے حوالے کر کے بچی کو ڈھونڈنے کے لیے کہا۔ میں نے15 پر کال کی اور تھانے جا کر درخواست دی تو پولیس نے کہا کہ آپ خود اپنی بچی تلاش کریں، آپ کا مقدمہ درج ہو جائے گا۔ اس کے بعد اگلے روز تھانہ صدر پولیس نے مقدمہ نمبر 1760/25 بجِرم 363 ت پ کے تحت درج کر لیا۔والدین کے مطابق سکول انتظامیہ مسلسل جھوٹ بول رہی ہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ آپ کی بچی اسکول نہیں آئی۔ اسی طرح بستہ مل جانے کے بعد پھر کہا کہ آئی تھی مگر اسکول میں کام کرنے والی مائی کے باہر جانے پر وہ باہر کہیں نکل گئی۔ نہ ہی اب سکول انتظامیہ ہمیں اور نہ ہی پولیس کو کیمروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کر رہی ہے، اور اب مزید جھوٹ بول رہے ہیں کہ پہلے کیمرے ہی نہیں تھے۔ پولیس نے 48 گھنٹے گزر جانے کے بعد بچی کی تلاش کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔مزید یہ کہ سکول انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ پہلے کیمرے نہیں تھے، ہم نے آج یہ کیمرے لگوائے ہیں، مگر اہلِ علاقہ کے مطابق سکول میں کیمرے نصب تھے جنہیں غائب کر دیا گیا ہے۔ ہمارے اصرار پر انہوں نے کہا کہ پہلے جو کیمرے لگے ہوئے تھے ان کی ریکارڈنگ نہیں ہوتی تھی، ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کیمروں کی معلومات رکھنے والے اپنے عزیز کو ملتان سے بلایا تو اس نے بھی کیمروں کی ریکارڈنگ ہمیں فراہم کی مگر وہ سامنے والے (فرنٹ) کیمرے کی نہیں تھی۔ ہمیں شبہ ہے کہ سکول انتظامیہ نے ہماری بچی کو غائب کر کے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی ضائع کر دی ہے۔اہلِ علاقہ کے مطابق سکول میں پہلے بھی بچوں پر تشدد کی شکایات عام تھیں۔ غائب ہونے والی بچی بھی متعدد مرتبہ والدین کو اساتذہ کی مارپیٹ کے بارے میں بتاتی رہتی تھی۔ اسی دن بھی بچی کا بھائی اپنی بہن کو خود کلاس روم میں بٹھا کر آیا اور سکول سے ہی بچی کا بستہ ملا، مگر ابھی تک بچی کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔متاثرہ والدین نے روزنامہ قوم کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب، ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب، آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری بچی کو تلاش کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں اور سکول انتظامیہ کو شامل تفتیش کیا جائے اور نامکمل حفاظتی انتظامات پر ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور میری بچی کو جلد سے جلد تلاش کیا جائے۔







